(A Changing South Korea Tackles Discrimination) تبدیل ہوتے جنوبی کوریا میں تعصب پر قابو پانے کی کوششیں
(Korea Multicultural School) کثیر الثقافتی کورین اسکول
ماضی میں جنوبی کورین شہری اپنی یک نسلی ثقافتی شناخت پر فخر کرتے تھے، تاہم اب اس ملک میں بہت بڑی تبدیلی آرہی ہے، کیونکہ گزشتہ دہائیوں کے دوران لاکھوں جنوبی کورین مرد و خواتین نے دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کو اپنا شریک حیات بنایا، اب ان جوڑوں کے بچوں کی شرح جنوبی کوریا میں بڑھ رہی ہے، جنھیں نسلی تعصب کا بھی سامنا ہے۔
Enkhjagal Khishigbaatar ابھی دفتر سے گھر آئی ہیں، جہاں ان کے بچے ماں کے ساتھ کھیلنے کیلئے تیار ہیں۔ Enkhjagal کا تعلق منگولیا سے ہے، مگر ان کے دونوں بیٹوں کی پیدائش جنوبی کوریا میں ہوئی ہے،ان کے نام بھی کورین ہیں اور انہیں اپنی ماں کی مادری زبان بولنا بھی نہیں آتی، مگر Enkhjagal Khishigbaatar کو توقع ہے کہ ان بچے اپنی بنیاد کو فراموش نہیں کریں گے۔
Enkhjagal Khishigbaatar(female)”میں ہمیشہ اپنے بیٹوں کو یاد دلاتی ہوں کہ وہ منگولین ہیں، انہیں منگولین ہونے پر فخر کرنا چاہئے”۔
جنوبی کوریا میں موجود ملی جلی ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی شرح میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ اس طرح کے گھرانوں کو کثیرالثقافتی یا کثیر النسلی خاندانوں کا نام دیا گیا ہے۔ کوریا میں شرح پیدائش دنیا میں سب سے کم ہے، جو کہ مستقبل کے لئے ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔ Dr. Hong Inpyo دارالحکومت Seoul میں ایک
طبی مرکز چلاتے ہیں، انکے مطابق جنوبی کورین جوڑوں کے مقابلے میں غیر ملکی والدین کے بچوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
Dr. Hong Inpyo(male)”کثیر النسلی خاندانوں کی بدولت ہمارے ملک میں شرح پیدائش میں اضافہ ہوا ہے، توقع ہے کہ 2050ءتک غیر ملکی نژاد شہریوں کی تعداد مجموعی آبادی کے دس فیصد حصے تک پہنچ جائیگی۔ یہ بچے ہماری قوم کی آئندہ نسل ہے”۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کورین معاشرہ ایک بڑی تبدیلی کی زد میں ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور ہوگئی ہے، Dr. Hong Inpyo کا طبی مرکز اسی کی ایک نشانی ہے۔ یہ ایسے خاندانوں کو طبی خدمات اور ترجمان فراہم کرتےہیں جو بیرون ملک سے یہاں آکر بس گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے نئی پالیسیوں کے تحت اسکولوں کی درسی کتب میں تبدیلیاں کرتے ہوئے کورین معاشرے کو کثیرالنسلی اور کثیرالثقافتی ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔چند روز قبل حکام نے کثیر النسلی بچوں کیلئے دارالحکومت میں پہلا سرکاری اسکول کا بھی افتتاح کیا۔
اس اسکول میں بچے اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ کورین زبان بھی سیکھ رہے ہیں، اٹھارہ سالہ Liang Man Ni میں یہاں زیرتعلیم ہیں۔ وہ 2009ءمیں چین سے یہاں اپنی کورین ماں اور چینی باپ کے ساتھ جنوبی کوریا آئی تھیں۔
Liang Man Ni(female)”مجھے یہ اسکول بہت پسند آیا ہے اور میں نے یہاں بہت سے دوست بھی بنالئے ہیں، جو جاپان، ہانگ کانگ اور ویت نام سے تعلق رکھتے ہیں”۔
Dasom نامی اس اسکول میں فی الحال 48 طالبعلم موجود ہیں، تاہم اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔ایک حالیہ سروے کے مطابق غیر ملکی والدین کے 31 فیصد کورین بچے گھروں تک محدود ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کورین زبان بولنے سے بھی قاصر ہیں۔ ماہر سماجیات Chung Chin-sung کا کہنا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جس نے حکومت کو فکرمند کر دیا ہے۔
Chung Chin-sung(female)”بنیادی طور پر مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان بچوں کو دیگر بچوں کے ساتھ گھل مل جانا چاہئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بچے عام اسکولوں کے ماحول سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے، بغیر کسی مدد کے وہ عام معاشرے کے لئے تیار نہیں ہوسکتے۔ میرے خیال میں Dasom جیسے خصوصی اسکول ایسے بچوں کے لئے بہت بڑا سہارا ہے”۔
ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی والدین کے بچوں کو کورین اسکولوں اور معاشرے میں تعصبانہ روئیے کا سامنا ہوتا ہے۔متعدد کورین نوجوان اس طرح کے بچوں پر فقرے کستے ہیں۔Kim Heekyung ایک بین الاقوامی ادارے Save The Children سے تعلق رکھتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کورین بچے کثیر النسلی بچوں کو نسلی تعصب کا ہدف اس لئے بناتے ہیں، کیونکہ انھوں نے اپنے والدین سے یہی سیکھا ہوتا ہے۔
Kim Heekyung(female)”جنوب مشرقی ایشیائی والدین کے بچے جنوبی کورین بچوں کے مقابلے میں زیادہ تیز نہیں ہوتے، یا وہ غریب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورین بچے انہیں خود سے کم تر سمجھتے ہیں”۔
گزشتہ برس سیو دی چلڈرن نے تعصب کے خلاف دارالحکومت Seoul میں ایک مہم شروع کی تھی،جس میں کورین بچوں کو کثیر الثقافتی خاندانوں کے بچوں سے اچھا سلوک کرنا سکھایا جاتا ہے۔ نو سالہ Cha Eun-seo بتا رہی ہے کہ اس مہم سے اس نے کیا سیکھا۔
Cha Eun-seo(female)”میں اب غیر ملکی جوڑوں کے بچوں کو کبھی تنگ نہیں کروں گی”۔
Cha Eun-seo اور ان کے چند دیگر ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسے لڑکے کو اپنا دوست بھی بنالیا ہے اور اسے کورین زبان سیکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔
Enkhjagal Khishigbaatar کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو فی الحال کسی برے تجربے کا سامنا نہیں ہوا، اس لئے وہ تعصبانہ سوچ کے حوالے سے فکرمند نہیں۔
Enkhjagal Khishigbaatar(female)”مجھے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ جب میرے بچے یہاں پرورش پائیں گے، اسکولوں میں کورین سیکھیں گے تو جب کبھی وہ منگولیا جائیں گے تو وہاں ان کے ساتھ غیرملکی باشندوں جیسا سلوک ہوگا”۔
