روئی کے گالوں جیسے ننھے فرشتے۔۔۔اس بات کی علامت ہیں کہ خدا اپنی مخلوق سے ابھی مایوس نہیں ہوا۔۔۔۔موہنی صورت اور کومل وجود رکھنے والے اِن فرشتوں کو جنم لینے سے قبل ہی قتل کر دیا جائے یا پیدا ہونے کے بعد جانوروں کی خوراک بننے کیلئے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے تو شاید عرش بھی اِس ظلم پر لرز اُٹھتا ہو گا۔
کچھ روز پہلے کراچی میں اختر کالونی کے علاقے سے ایک کچرا کُنڈی میں5بچوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں ولادت سے قبل ہی قتل کر کے یہاں پھینک دیا گیا،اِن بچوں میں4لڑکیاں تھیں اور1لڑکا۔۔۔وہ کون سے سماجی محرکات ہیں جس کے باعث والدین اپنے گھر آنے والی رحمت کو زحمت سمجھنے لگتے ہیں ، وہ کونسی وجوہات ہیں جن کے پیش نظر ایدھی اور چھیپا کے اداروں کے باہر رکھے جھولوں پر درج ہوتا ہے”قتل نہ کریں جھولے میں ڈال دیں©” اور بے حسی کی یہ کیسی کیفیت ہے جسکی وجہ سے فلاحی اداروں کے سرد خانوںمیں نوزائیدہ لاوارث لاشوں اور قبرستانوں میں لاوارث قبروں کا اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے؟
کراچی سمیت دیگر شہروں میں ایسے بے شمار قانونی اور غیر قانونی اسپتال اور کلینک موجود ہیںجو چند پیسوں کے عوض ایک انسانی جان کو دنیا میں آنے سے قبل ہی موت کی نیند سلا دیتے ہیں، ان اسپتالوں میں ناقص سہولیات اور غیر تربیت یافتہ اسٹاف کے ہاتھوں بے شمار خواتین اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو چکی ہیں۔بچیوں کو ولادت سے قبل قتل کر دینے کی کیا وجوہات ہیں ، نیشنل کمیشن برائے خواتین کی چیئر پرسن انیس ہارون کا اس حوالے سے کہنا ہے:
ٓاس نوعیت کے واقعات کا ذمے دار کون ہے ،یہ سوالیہ نشان لوگوں کے ذہنوں میں چکراتا ہی رہتا ہے۔۔۔۔ لیکن ایک سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ، بدنامی اور بھوک کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کر دینے والے۔۔ ہم انسان شاید اُن جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔۔۔ جو اپنے بچوں کی خاطر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔
