دُنیا بھر میں خواتین کی بڑی تعداد اعصابی تناﺅ، اسٹریس یا ڈپریشن کا شکار ہے جسے عام طور پر بیماری نہیں محض ایک کیفیت سمجھا جاتا ہے۔۔۔دفاترمیں کام میں مصروف، مارکیٹس میں خریداری کرتی، ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی خواتین، کالجز، یونیورسٹیز میں زیر تعلیم لڑکیاں۔۔۔ ارد گرد نظر دوڑائیں تو بڑی تعداد میں خواتین ذاتی اور اجتماعی مسائل کو لے کر اعصابی تناﺅ کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ خوشی یا غم کی زیادتی ہمیں اسٹریس سے دوچار کرتی ہے،خواتین میں اعصابی تناﺅ کی ایک وجہ ہارمونز میں تبدیلی بھی ہے۔خواتین میںاسٹریس یا اعصابی تناﺅ کی کیا وجوہات ہیں ، اس بارے میں ہم بات کرتے ہیںماہر نفسیات ڈاکٹر ہادیہ پاشا سے۔۔
اسٹریس کے باعث امراض قلب کے امکانات بڑھ جاتے ہیںاسکے ساتھ ساتھ اعصابی تناﺅ ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک،نیند اور بھوک میں کمی کا باعث بھی بنتا ہے۔۔
اسٹریس کا شکار خواتین میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے اورروز مرہ زندگی میں درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہو جاتی ہے۔
صحت مند غذا ،مناسب ایکسرسائز، بھر پور نیند اور مثبت انداز فکر کے ذریعے اسٹریس پر قابو پایا جا سکتا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ خواتین گھریلو ٹوٹکوں اور جعلی عاملوں کے بجائے ماہرین نفسیات سے رجوع کریں اور صحت مند اور پرمسرت زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
