بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے ہم جنس پرستی کو قابل سزا جرم قرار دیدیا اور اس کے مرتکب افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس پرستی کو قابل سزا جرم قرار دینے کے فوری بعد نئی دہلی کے جنتر منتر اسکوائر میں احتجاج شروع ہوگیا، شیبو بھی ان مظاہرین میں سے ایک ہے۔
شیبو “قانون اندھا ہوتا ہے اور ہمیشہ ہی اندھا رہتا ہے، اسے کچھ نظر نہیں آتا اور اسے کوئی نظر نہٰں آتا، اب ہم اسے اندھا کردینا چاہتے ہیں تاکہ ہم اسے نظر ہی نہ آسکیں”۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہم جنس پرستی کو سنگین قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے مرتکب افراد کو دس سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ اس سے قبل دو ہزار نومیں دہلی ہائیکورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کا فیصلہ سنایا تھا، تاہم اب سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دیدیا ہے۔
دو ہزار نو کے فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ ہم جنس پرستی کا رجحان رکھنے والے لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ نہیں کیا جاسکتا، اور ڈاکٹر ان کے علاج سے انکار نہیں کرسکتے۔
رودرانی “اس فیصلے کے بعد ہم آزاد شہری بن گئے تھے اور ہمیں چھپ کر رہنے کی ضرورت نہیں رہی اور ہم نارمل زندگی گزارنے لگے، مگر آج ہم پھر سے مجرم بن گئے ہیں اور اب ہمیں ایک بار پھر ہراساں کیا جائے گا اور برے سلوک کا نشانہ بنایا جائے گا”۔
بھارت ایک قدامت پرست معاشرہ ہے جہاں شادی سے پہلے جسمانی تعلقات کی اجازت نہیں اور ہم جنس پرستوں سے نفرت کی جاتی ہے۔آئندہ برس شیڈول عام انتخابات کے پیش نظر حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے میں کوئی غیرمقبول موقف اپنائے جانے کا امکان نہیں، ہندو مذہبی رہنماءجیسے یوگا گرو بابا رام دیو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
رام دیو”ہم جنس پرستی کو غیر قانونی اور جرم قرار دیکر سپریم کورٹ نے ہندوﺅں، مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور ان دیگر کروڑوں بھارتیوں کے جذبات کا احترما کیا ہے جو اخلاقیات پر یقین رکھتے ہیں، ہم جنس پرستی انسانی حقوق کی خلاف ورزی، غیرانسانی، غیر سائنسی اور غیرفطری رجحان ہے”۔
سماجی کارکن جیسے گوتم بھان کو توقع ہے کہ میڈیا اور احتجاج کے ذریعے دباﺅ ڈال کر عدالت کو یوٹرن لینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
گوتم بھان”ہم اپنی زندگیوں کی سب سے سخت جنگ لڑ رہے ہیں، اگر عدالت کا خیال ہے کہ وہ جانتی ہے کہ ڈر کیا ہوتا ہے تو وہ اس خوف سے ناواقف ہے جس میں اس ملک کا ہر ہم جنس پرست شخص زندگی گزار رہا ہے، انہیں ہماری بات سننا ہوگی اور ہم اپنے اندر کے شیطان پر قابو پاسکتے ہیں تو ہم اداروں سے بھی نمٹ سکتے ہیں”۔