Saving Malaysia’s Historic Hotelتاریخی ملائیشین ہوٹل کو بچانے کی جدوجہد

ملائیشیاءمیں ایک تاریخی چینی ہوٹل اور دکان کی ملکیت کے حصول کیلئے جنگ شروع ہوگئی ہے، یہ عمارت انیس سو اڑتیس میں تعمیر ہوئی اور اب حکومت ریلوے نیٹ ورک کی توسیع کے لئے اسے اپنی ملکیت میں لینا چاہتی ہے، اس علاقے کی متعدد عمارات گرادی گئیں۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

لوک این ہوٹل کا آغازجالان سلطان میں کافی شاپ کی شکل میں ہوا تھا،انیس اڑتیس میں تعمیر ہونے والی اس عمارت کو انیس پچپن میں ہوٹل کی حیثیت دیدی گئی اور اس کے بعد سے یہ تین فیملی کی ملکیت ہے، جیڈی ٹین اس خاندان کی ترجمان ہیں۔

جیدی ٹین”ہمارے عظیم دادا اس کے بانی ہیں، اور وہ چین سے یہاں آئے اور ربڑ کے کاروبار میں بہت محنت کرکے اپنا مقام بنایا”۔

دو ہزار گیا رہ میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس عمارت کو گرایا جائے کیونکہ اس علاقے میں ریلوے نیٹ ورک کی توسیع کیلئے ایسا کرنا بہت ضروری ہے، ریلوے کمپنی نے علاقے میں زرتلافی اور دیگر مراعات زمینوں کے مالکان کو دینے کی پیشکش کی، مگر بیشتر مالکان جن میں ٹین فیملی بھی شامل ہے، نے پیشکش کو ماننے سے انکار کردیا، جس پر حکومت نے قانون کے نام پر زمینوں پر قبضہ کرلیا۔

جیدی”چونکہ ہمارا ریلوے کارپوریشن سے معاہدہ نہیں ہوسکا، ہماری زمین پر قبضہ کرلیا گیا، ہمیں یہاں سے نکل جانے کا نوٹس دیا گیا”۔
اب یہ خاندان اپنی جنگ عدالتوں میں لڑ رہا ہے۔

جیڈی”ہمیں توقع ہے کہ جج اس معاملے کی شفاف سماعت کرے گا، قومی عدالت نے ماضی میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ زمین کو نقصان پہنچائے بغیر زیرزمین ٹنل کے ذریعے ریلوے نیٹ ورک کی توسیع کی جائے، ہمیں توقع ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج اس معاملے میں بھی منصفانہ فیصلہ سنائیں گے، جس سے ہمیں اپنی زمین واپس مل سکے گی”۔

اب اس جنگ کو دو سال ہوگئے ہیں، اور ہوٹل کے اطراف احتجاج معمول کا حصہ بنتا جارہا ہے۔

جیڈی” لوک ان اس خاندان کی تیسری نسل کی نمائندگی کررہے ہیں، ہمیں حکومتی معاوضے میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ وہ ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا”۔
سماجی کارکن حسام الدین رئیس بھی ریلی میں شریک ہیں۔

حسام الدین”یہ اس شہر کے لوگوں کی جانب سے اپنی ثقافت کے تحفظ کی جدوجہد ہے، ہمیں اس کیلئے ملکر کام کرنا ہوگا، ہر گاﺅں کو ایک دوسرے کی حمایت کرنا ہوگی، اگر آپ خاموش رہے تو آپ کے گھر گرا دیئے جائیں گے”۔

ایک اور سماجی کارکن چینگ فو ئی لین کو توقع ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔

چینگ فو ئی لین”مجھے توقع ہے کہ یہ ایونٹ لوگوں میں شعور اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، اور ہم پرامید ہے کہ عمارتوں کو گرانے کا سلسلہ رک جائے گا، ہمیں توقع ہے کہ عوامی آواز بلند ہونے سے ہم اس تاریخی جگہ کو بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے”۔