انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ تھائی حکومت خواتین اور بچوں کو گھریلو تشدد سے بچانے کیلئے قوانین پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہوچکی ہے، حال ہی میں ایک بہتّرسالہ خاتون نے اپنی بیٹی کو گھریلو تشدد سے بچانے کیلئے اس کے شوہر کو قتل کرانے کیلئے اجرتی قاتل کی خدمات لینے کا اعتراف کیا، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
جیکرت پانیک پاٹیکم نے دو ہزار بارہ میں لندن اولمپکس میں تھائی لینڈ کی جانب سے شوٹنگ ایونٹ میں حصہ لیا، مگرجیکرت پانیک پاٹیکم کی شخصیت اس وقت سیاہ بادلوں کی زد میں ہے۔
72بہتّر سالہ سورانگ دوانگ چندانے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے کھلاڑی داماد کو قتل کرنے کیلئے ایک مسلح شخص کی خدمات حاصل کیں۔
سورانگ دوانگ چندا”میں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ میرا داماد میری بیٹی کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنارہا تھا، میں نے اسے کئی بار معاف کیا مگر حالات بہتر نہیں ہوئے، میں نہیں چاہتی کہ میری بچی مر جائے اس لئے میں نے قاتل کی خدمات حاصل کرلیں”۔
جیدیدچوویلے گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے قائم ایک ادارے وومن اینڈ مین پروگریسو فاﺅنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ ماں جذباتی طور پر ٹوٹ پھوٹ گئی تھی۔
جیدید”وہ جیکرت کومارنا نہیں چاہتی تھی مگر چھ یا سات سال سے اپنے اوپر پڑنے والے دباﺅ نے ایک ماں کو ایسا سوچنے پر مجبور کردیا، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ وہ جیکرت کومروانا نہیں چاہتی تھی، قانون میں ایسی مظلوم ماں کو کیسے انصاف مل سکتا ہے جبکہ اس کی بیٹی پر تشدد ہورہا ہے؟”
تھائی حکومت کے اندازے کے مطابق ہر سال تئیس ہزار خواتین و بچے گھریلو تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ماہیڈول یونیورسٹی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ اینڈ فیملی ڈیولپمنٹ کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ تیس فیصد خاندانوں میں تشدد کے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔
تینتیس سالہ خاتون صوفاکسون بتارہی ہیں کہ انکے سابق محبوب نے ایک اور خاتون سے شادی کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔
صوفاکسون”وہ میرے دفتر میں اسلحہ لے آیا اور مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے اس سے تعلق قائم نہ کیا تو وہ مجھے قتل کردے گا، میں خوفزدہ ہوگئی اور کچھ عرصے بعد اس نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا، اور میرا سر دیوار پر دے مارا، وہ مجھے چاقو مارنا چاہتا تھا جس پر میں نے اپنی زندگی کی بھیک مانگ کر جان بچائی”۔
اس حملے کے بعدصوفاکسون نے تحفظ کیلئے ایک دوست کو فون کیا، جس نے اسے پہلے ہسپتال اور پھر پولیس کے پاس پہنچایا، تحقیق کے مطابق گھریلو تشدد ہر طبقے میں عام ہے۔جیمز لانگ ایک انسانی حقوق گروپ کے ڈائریکٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ تشدد کی وجوہات میں صنفی مساوات نہ ہونا اور مردانہ ہٹ دھرمی ہے۔
جیمز”مردوں میں تشدد کے اس رجحان کی وجہ سے یہ بھی ہے کہ ہم انہیں یہی کچھ سیکھاتے ہیں، وہ خود کو خواتین پر غالب سمجھتے ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ وہ خواتین اور ان کے جسموں کے مالک ہیں، مرد خواتین کو بس تسکین کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور بس”۔
مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متوسط طبقے کی بیشتر خواتین کو طویل عرصے تک تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر کچی بستیوں کی خواتین جیسے کلانگ ٹوئے جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد آواز تک بلند نہیں کرتیں،فادر مائر نے کچی بستیوں کے بچوں کیلئے تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کا ادارہ قائم کررکھا ہے، انکا کہنا ہے کہ ان علاقوں کا ایک اور اہم مسئلہ گھریلو تشدد ہے۔
فادر مائر”جسمانی تشدد کے واقعات ہوتے ہیں مگر اسے مسئلہ نہیں بنایا جاتا، بچوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ مرد اپنے بچوں اور بیویوں کی پروا بھی نہیں کرتے، وہ اپنے بچوںسے الگ ہوجاتے ہیں، اور معاملہ حل کرنے کی بجائے خاموش ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔وہ انہیں خرچہ نہیں دیتے بلکہ جوا کھیل کر پیسہ ضائع کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں خواتین اپنے پیسے بچوں کی نگہداشت پر خرچ کرتی ہیں”۔
تھائی لینڈ نے دو ہزار سات میں گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل منظور کیا تھا، جس کے تحت ملزمان کو دو سو ڈالرز جرمانے اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے، جبکہ حکومت کے زیرتحت چلنے والی ایمرجنسی ہاٹ لائن سروس بھی شروع کی گئی، تاہم جیدید کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین قوانین سے ہی لاعلم ہیں۔انکے بقول سب سے بڑا چیلنج مردوں کے روئیے میں تبدیلی لانا ہے۔
جیدید”میں موجودہ قوانین کے میکنزم اور مردوں کے رویوں میں تبدیلی لانے کا خواہشمند ہوں، اس سے مسئلہ حل ہوسکے گا اور خواتین کا تحفظ ممکن ہوگا۔ اس سلسلے میں میکنزم کی بہت اہمیت ہے، گھریلو تشدد کے قوانین کے بارے میں خواتین کو آگاہ کرنا ہوگا، اس کے بعد ان کے تجربات سامنے لانا ہوں گے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے بات کرکے اپنے مسائل کا حل کرسکیں”۔