افغان کنٹم پریری آرٹ پرائز ایک سالانہ مقابلہ ہے جس کا مقصد نوجوان مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت کے اظہار کیلئے پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ مصوری، مجسمہ سازی اور فنون لطفیہ کے دیگر اصناف میں ان نوجوانوں کو مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
یہ نمائش کابل کے باغِ بابرمیں منعقد ہوئی، جہاں درجنوں نوجوان فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ دی کنٹمپریری آرٹ پرائز نامی اس سالانہ نمائش کا آغاز دو ہزار آٹھ میں ثقافتی اور فنون لطیفہ کی بحالی کیلئے کام کرنے والے ایک برطانوی فلاحی ادارے نے کیا۔
رواں برس سو نوجوان فنکاروں نے ایونٹ میں شرکت کی اور دس نے آخری مرحلے تک رسائی حاصل کی۔ اٹھارہ سالہ طالبہ مقصودہ نوراں نے پہلا انعام اپنے نام کیا۔
مقصودہ”میری تخلیق کا عنوان تھا اگر ہم شہد کی مکھیاں ہوتے، آپ یہ چار شہد کی مکھیوں کے چھتے دیکھ سکتے ہیں، افغانستان کے چار ستونوں کی نمائندگی کررہے ہیں، یعنی کمیونسٹ، مجاہدین، طالبان اور موجودہ حکومت، اس کے علاوہ 35 سفید رومال بھی ہیں، جو ہمارے ملک میں خانہ جنگی کے پنتیس برسوں کی نشاندہی کررہے ہیں”۔
انھوں نے یہ آرٹ پیس انتخابات کیلئے تیار کیا ہے، انھوں نے لکڑی کے چھتوں کو بیلٹ باکسز کیلئے استعمال کیا، جبکہ عوام کو ان چھتوں کی رہائشی مکھیاں قرار دیا۔
مقصودہ”میرا پیغام یہ ہے کہ اگر ہم عوام کے پروگرامز کے بارے میں سوچے بغیر شہد ڈبوں میں جمع کرتے رہیں تو ہمیں ماضی جیسی صورتحال کا سامنا مستقبل میں بھی ہوگا، انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے ہمارے لئے کوئی کام نہیں کریں گے”۔
افغانستان میں آئندہ برس صدارتی انتخابات شیڈول ہیں،مقصودہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا کام لوگوں کی بیداری کا کام کرے۔
مقصودہ”لوگوں کو شعور ہونا چاہئے کہ گزشتہ دہائیوں کی طرح معاملات کو غیرسنجیدگی سے نہ لیں، انہیں اپنے مسائل کیلئے جدوجہد کرنا چاہئے”۔
مقصودہ نے اس مقابلے میں ایک ہزار ڈالرز کا انعام جیتا۔
یہ اینمیشن پچیس سالہ ناصر ہاشمی نے تیار کی، جس نے بھی خصوصی انعام جیتا، اس میں دکھایا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں ملنے والی غیرملکی امداد سے عام عوام محروم رہے۔
ناصر نے گریجویشن کے بعداینیمیٹر کی حیثیت سے کام شروع کیا، اس نے کئی فلم فیسٹیولز میں شرکت کرکے تین قومی و بین الاقوامی ایوارڈز جیتے ہیں۔
ناصر”میں نے کبھی جیت کا نہیں سوچا تھا، مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوئی، میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں، میں اس شعبے میں کام جاری رکھنا چاہتا ہوں، میری خواہش ہے کہ میں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کروں، جیسے آسکر،کانز یا گولڈن گلوب وغیرہ”۔
