Yellow Cab scheme in Punjab یلو کیب اسکیم

    پاکستان میں بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے ہر حکومت نے اپنے اپنے طور پرا سکیمیں متعارف کرائیں۔ ایسا ہی ایک منصوبہ یلو کیب اسکیم کے نام سے جانا جاتا ہے،جس میں بیروزگار نوجوانوں کو ٹیکسیاںفراہم کی گئیں۔ 1992ءمیں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے یلو کیب اسکیم کا آغاز کیا۔دس فیصد ادائیگی پر لاکھوں روپے مالیت کی کاروں کی پیشکش کئی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور بینکوں کے سامنے فارم جمع کرانے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگی رہیں۔ میاں نواز شریف اس اسکیم کے آج بھی پرزور حامی ہیں۔
اب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی حکومت نے صوبہ پنجاب میں ایک بار پھر اس اسکیم کو متعارف کرایا ہے اور نئے مالی سال کے دوران بے روزگار مرد و خواتین کو روزگار اسکیم کے تحت ٹیکسیاں فراہم کی جائیں گی، اس کے علاوہ صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوسکے گا۔اس منصوبے کےلئے صوبائی بجٹ میں ساڑھے چار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سود سے پاک اس منصوبے کو نوجوانوں کیلئے روزگار کاشاندار موقع قرار دیا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت ایک مقامی کار ساز کمپنی سے 20 ہزار گاڑیوںکی فراہمی پر بات چیت کر رہی ہے۔اس منصوبے کے تحت ہر مہینے 2500 سو گاڑیاں 21 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کو دی جائیں گی۔ وزیرخزانہ پنجاب کامران مائیکل اس حوالے سے تفصیلات بتارہے ہیں۔

ماضی میں اس ا سکیم کے آغاز ہی میں اس پر چھاپ لگ گئی کہ یہ سیاسی بنیادوں پر چلائی جا رہی ہے۔ یہ الزام ٹھیک تھا یا نہیں اس سے قطع نظر بینکوں کے اربوں روپے ضرور پھنس گئے۔ابھی تک بینکوں میں کئی کیس زیر التواءہیں اور کئی گاڑیاں بینکوں کو مطلوب ہیں۔جاوید آدم ٹیکسی میٹر اور آٹوموبائل ڈیلر ہیں، وہ اس حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کررہے ہیں۔
وزیر خزانہ پنجاب کامران مائیکل کا کہنا ہے کہ ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ اسکیم میںٹیکسیاں انتہائی شفاف انداز میں باقاعدہ میڈیا کے سامنے قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق بیروز گاروں میں تقسیم کی جائینگی۔

حالیہ اسکیم کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی تھیں کہ ان ٹیکسیوں میں میٹر نصب نہیں کیا جائیگا،تاہم پنجاب حکومت کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ نے ٹیکسی میٹر لگانے کی منظوری دیدی ہے۔تاہم انکا کہنا ہے کہ ان ٹیکسیوں میں سی این جی کٹ اور ایئرکنڈیشنر نہیں لگائے جائیں گے کیونکہ صوبے میں تین دنCNG کی بندش سے گیس کٹ بے مصرف ہو کر رہ جائینگی اور 800CCکی گاڑیوں میں ایئرکنڈیشنراتنا موئژنہیںہوتا۔اپنی تمام تر تنقید کے باوجود ٹیکسی میٹر اور آٹو موبائل ڈیلر جاوید آدم بھی اس منصوبے کی افادیت کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم وہ چند تحفظات بھی ظاہر کررہے ہیں۔
نئی اسکیم میں پنجاب حکومت نے ماضی کے تجربات کے پیش نظر قرضوں کی واپسی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیرخزانہ پنجاب کامران مائیکل حکومتی اقدامات سے آگاہ کررہے ہیں۔
ایسی ا سکیمیں بری نہیں ہوتیںصرف مس مینجمنٹ یا سیاسی مفادات اور مقاصد کی بھینٹ چڑھنے سے ایسی اسکیمیں ناکام ہوا کرتی ہیں۔ توقع ہے کہ پنجاب حکومت ماضی کے تجربات کو پیش نظررکھ کر اب کی بار اسے کامیاب بناسکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *