Yangon Property Boom Squeezes Out Low-Income Workers – برما میں رہائش کا مسئلہ

برما کی معیشت آہستہ آہستہ اوپر کی جانب جاہی ہے، خصوصاً ایک شعبہ تو بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور وہ ہے جائیدادوں کی خریدوفروخت۔ زمینوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعدد افراد مناسب رہائش کیلئے اپنی آمدنی کو کم محسوس کرنے لگے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

موئے موئے اپنے خاندان کے ہمراہ ایک گاﺅں سے ینگون آئی تھیں، تیرہ برس اس شہر میں گزارنے کے باوجود وہ تاحال ایک نواحی کچی بستی میں مقیم ہیں۔

موئے”دیہی علاقوں میں زمین کی لاگت نہ ہونے کے برابر ہے، مگر ینگون میں زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی ایک لاکھکیاٹس سے زیادہ ہے، آخر ہم اس کا بوجھ کیسے اٹھاسکتے ہیں؟ ہم اس چھوٹی سی جگہ پر اکھٹے سوتے اور سب کچھ ہی اکھٹے کرتے ہیں، یہ ہمارے لئے سخت مشکلات کا باعث ہے”۔

وہ افراد جو کرائے کے گھروں مقیم ہیں انہیں بھی مشکل حالات کا سامنا ہے، ینگون میں گھنٹوں تک گاڑی پر سفر کریں تو بھی اس کی حدود ختم نہیں ہوتی مگر اس کے باوجود متعدد خاندان جھونپڑوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ڈا لیون بھی ایک ورکر ہیں۔

ڈاو”یہاں ہم سب کیلئے جگہ ہی دستیاب نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے قریب سمٹ کر سونے پر مجبور ہیں، ہم اس اپارٹمنٹ میں اپنی بہن کے خاندان کے ساتھ رہ رہیں، اور اسی وجہ یہاں ہر وقت ہجوم سا محسوس ہوتا ہے”۔

ایشیاءکے دیگر ممالک جہاں دہائیوں سے یہ مسئلہ موجود ہے وہاں بڑے شہروں کو کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ سیٹلمینٹ اینڈ ہاوسنگ ڈویلپمینٹ کے عہدیدار تو ئی اونگ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کئی منصوبے زیرتکمیل ہیں جن کے بعد صورتحال بہتر ہوگی۔

توئی اونگ”ایشیا کے متعدد شہروں میں یہ مسئلہ بلند و بالا عمارات تعمیر کرکے حل کیا گیا ہے، ہم اس طریقے پر عملدرآمد نہیں چاہتے کیونکہ اس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، ہم اس سلسلے میں شہری حدود کو توسیع دینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں”۔

متعدد حلقے ہاﺅسنگ سیکٹر کی ترقی کو ملک کے روشن مستقبل کیلئے بہتر سمجھ رہے ہیں، تاہم نواحی علاقوں کے رہائشیوں کو اپنی زندگیوں میں کوئی بہتری آتی محسوس نہیں ہورہی۔