Worldcup soccer in Pakistan ورلڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ

    کھیلوں کی دنیا کے سب سے بڑے مقابلے یعنی انیس ویں ورلڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ اسپین یا ہالینڈ میں سے کسی ایک ملک کو خوشیاں تو دوسرے کوغم دیکر آج ختم ہوجائیگا۔فٹبال کی اس جنگ کا آغازجنوبی افریقہ میں 11 جون کوجوہانسبرگ کے ساکر سٹی اسٹیڈیم میں ایک رنگا رنگ تقریب سے ہو ا۔
پاکستان میں بھی فٹ با ل کا کھیل تقریباً ہر طبقے میں مقبول ہے اور ورلڈکپ کے دوران شائقین کا جوش وخروش دیکھنے کے لائق ہوتا ہے، مگر حکومت کی سرپرستی چند کھیلوں تک محدود ہے جس میں فٹ بال شامل نہیں۔ پاکستان فٹبال ٹیم کے سابق کپتان علی نواز بلوچ کا کہنا ہے کہ 1970ءکی دہائی میں ملک میں فٹبال کا کھیل عروج کی جانب گامزن تھا، مگر اسکے بعد پاکستان میں فٹبال کو زوال آتا چلاگیا۔
اگرچہ فٹبال ورلڈکپ میں پاکستان کی ٹیم شامل نہیں، مگر پاکستانی شائقین ایونٹ میں بھرپور دلچسپی ظاہر کررہے ہیں، رواں برس منعقد ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ کے لیے32 ٹیمیں عالمی مقابلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، جنھیں8 گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔بلند عزائم کیساتھ جنوبی افریقہ آنیوالی بڑی ٹیمیں اپنے پرستاروں کو مایوس کرکے گھر کی راہ دیکھ چکیں، جبکہ کسی گنتی میں نہ آنیوالے ہالینڈ اور اسپین نے فائنل میں پہنچ نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر کے شائقین کے دلوں میں جگہ بنائی۔عالمی کپ میںغیر معروف ٹیموں کی غیرمتوقع طور پر بہترین کارکردگی سے پاکستانی عوام کے ذہنوں میںبھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ انکی ٹیم بھی اپنے ملک کا نام روش کرے مگر علاقائی ٹورنامنٹس میں ناقص کارکردگی کا ریکارڈ دیکھ کر وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔علی نوازبلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فٹبال کی ترقی میں مشرقی پاکستان کا کردار بہت اہم تھا مگر سقوط ڈھاکہ کے بعد فٹبال کے کھلاڑیوں کیلئے مواقع کم ہوگئے، جس سے فٹبال کا معیار موجودہ حالت کو پہنچ گیا۔

پاکستان میں فٹ بال کا ٹیلنٹ بے تحاشہ ہے اوربہت سے نوجوان کھلاڑی پاکستان کو فٹ بال کی دنیا میں ایک شناخت دینا چاہتے ہیں لیکن حکومت کی عدم توجہی، سہولیات نہ ہونے اوربے روزگار ی جیسے مسائل کے باعث یہاں ٹیلنٹ بن کھلے ہی مرجھاجاتا ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ایران میں انڈر 14فٹ بال ایونٹ میں پاکستان کی ٹیم بھارت، ترکی، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کو شکست دے کر دوسرے نمبر پر آئی اور صرف فائنل میں اسے ایران سے شکست ہوئی، مگرانڈر 14 ٹیم کے کھلاڑی بھی سہولیات کی عدم فراہمی پر پریشان ہےں۔ شیر محمد قومی انڈر 14 اور انڈر16فٹبال ٹیموں کے کھلاڑی رہ چکے ہیں۔

موجودہ ورلڈکپ کے آغاز میں ہی کئی بڑے اپ سیٹ دیکھنے میں آئے اور دفاعی چیمپئن اٹلی کیساتھ ساتھ گزشتہ ورلڈ کپ کے فائنل میں اسکے مقابل آنیوالی فرانسیسی ٹیم پہلے ہی راﺅنڈمیں باہر ہوگئیں ۔ ٹاپ فیورٹ انگلینڈ اور پرتگال کی ٹیموں کا سفر دوسرے راﺅنڈ میں جرمنی اور اسپین کے ہاتھوں تمام ہوا۔اسی طرح کوارٹر فائنل میں جرمنی نے ایک اور فیورٹ ٹیم ارجنٹائن ، جبکہ ہالینڈ نے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کی جانیوالی برازیل کی ٹیم کو شکست دیکر سب سے بڑا اپ سیٹ کیا۔
سابق کپتان علی نوازبلوچ کا کہنا ہے کہ یورپی اور لاطینی امریکہ میں فٹبال کے کھلاڑیوں کی صلاحیت ابھارنے کیلئے زبردست نظام قائم کررکھا ہے جس کی وجہ سے چھوٹی یورپی یا امریکی ٹیمیں بھی اپ سیٹس کرتی ہوئی نظرآتی ہیں۔انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی فٹبال کو ترقی دینے کیلئے اسی طرح کے نظام کو رائج کئے جانیکی ضرورت ہے۔
جبکہ حکومتی ترجیح کی ایک مثال پاکستان فٹبال فیڈریشن کا یہ بیان ہے کہ حکومت اس کھیل کی ترقی کیلئے سالانہ صرف 15 لاکھ روپے کی گرانٹ دیتی ہے، جس سے کسی نمایاں پیشرفت کا صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے اور پاکستانی شائقین ورلڈ کپ میں اپنی قومی ٹیم کی غیر موجودگی میں ہمیشہ دیگر ممالک کی ٹیموں کی حمایت کرنے پر مجبور رہیں گے۔پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل احمد یار خان لودھی کا کہنا ہے کہ ملک میں فٹ بال کو نئی زندگی دینے کے لئے ویژن 2022 ء کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
موجودہ ورلڈ کپ کے آغاز پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے شائقین نے برازیل، اٹلی، اسپین، پرتگال، انگلینڈ اور ارجنٹائن کو فیورٹ قرار دیا تھا،جن میں سے صرف اسپین کی ٹیم ہی توقعات پر پورا اتر سکی، جبکہ گھانا اور پیراگوئے نے کوارٹر فائنل جبکہ یوروگوئے نے سیمی فائنل تک رسائی پاکر ثابت کردیا کہ کامیابیاں بڑے ناموں سے نہیں بلکہ ٹیم ورک اور بڑے حوصلوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اب تک کھیلے جانیوالے 18ورلڈکپس میں سے برازیل کو 5بار، اٹلی کو 4 بار، جرمنی کو3، ارجنٹائن اور یوروگوئے کو2،2جبکہ انگلینڈ اور فرانس کو1،1 بار فٹبال ورلڈکپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ موجودہ ورلڈکپ کا فاتح چاہے اسپین ہو یا ہالینڈ، وہ پہلی مرتبہ ہی ٹرافی اپنے نام کریگا۔مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جرمنی کے آکٹوپس پال نے ورلڈ کپ فائنل میں اسپین کی فتح کی پیش گوئی کی ہے۔اس سے قبل آکٹوپس پال کی ورلڈکپ کے آغاز سے اب تک کی گئی تمام پیشگوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں، تاہم فائنل کی پیشگوئی کی سچائی کا اندازہ تو آج شب کھیلے جانیوالے میچ کے اختتام پر ہی ہوسکے گا، جسکا دنیا بھر کے کروڑوں افراد کو انتظار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *