14 جولائی کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران روز مرہ ضرورت کی اشیاءکی قیمتوں میں کمی کیلئے 2 ارب 27 کروڑ روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے تجارت ، خوراک و زراعت ، صنعت و پیدا وار اور خزانہ کے وزراءپر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو عام آدمی کو رمضان المبارک کے دوران ضروری خوردنی اشیاءکی مناسب قیمت پر فراہمی اور پیکج پر عملد رآمد کی نگرانی کرے گی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ ملک میں گندم اور چینی کی طلب اور رسد بہتر بنائے تاکہ رمضان میں ان ضروری اشیاءکی قلت پیدا نہ ہو۔
اس خبر کو پڑھ کر پتا چل جاتا ہے کہ برسوں سے جاری روایت کے مطابق اس بار بھی رمضان المبارک کے دوران کھانے پینے کی اشیاءکے نرخ کنٹرول میں رکھنے کےلئے فیصلے اور اقدامات کئے جارہے ہیں،مگر ان سے پہلے ہی چینی ، بیسن، چنے ، گھی، دالوں ، دودھ، دہی ،کھجور اور دوسری اشیاءکی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال کا کہنا ہے کہ تاجروں نے رمضان سمیت تمام تہواروں کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔
مگر اشیائے ضروریہ کے ہول سیلرزسارا الزام حکومت کے سر ڈال دیتے ہیں۔ انیس مجید کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
پچھلے دو برسوں کے دوران مہنگائی میں ڈیڑھ سو فیصد کے لگ بھگ اضافے نے عوام کی قوت برداشت ختم کردی ہے۔حکومت کی جانب سے ہرسال بلند بانگ دعوے اور اخباری بیانات سامنے آتے ہیں،لیکن مہنگائی قابو میں آنے کا نام نہیں لیتی ۔اسکی ایک اور مثال گائے یا بکرے کے گوشت کی قیمتوں کا آسمان کو چھونا ہے۔سلیم قریشی ،میٹ مرچنٹ ویلفئیرایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔
کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں ۔
ذخیرہ اندوزی یا مہنگائی پر قابو پانااتنا مشکل کام نہیں ہے، اس کےلئے محض عزم اور ارادے کی ضرورت ہے۔مگر حکومت کی جانب سے ہرسال عارضی طریقہ کار ہی اختیار کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کے شروع میں کچھ دن سختی دکھانے کے بعد حکومتی کارروائیاں سست ہوجاتی ہےں۔خصوصاً ماہ مبارک کے دوران پھلوں کی طلب بڑھتے ہی منہ مانگے دام طلب کئے جانے لگتے ہیں، اس بارے میں ہول سیل ویجیٹیبل ویلفئیر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی شاہ جہاںکہتے ہیں۔
حکومت تقریبا ًہر سال عوام کو ریلیف پہنچانے کی غرض سے رمضان پیکیج کااعلان کرتی ہے لیکن چینی، بیسن،لوبیا، گھی، آٹا اور مختلف اقسام کی دالیں یوٹیلیٹی سٹورز سے حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔گزشتہ سال اوپن مارکیٹ اور یوٹیلیٹی اسٹورز میں چینی کی قلت نے عوام کے ہوش اڑا دیئے تھے، اس سال بھی چینی کی ذخیرہ اندوزی کا سلسلہ جاری ہے۔منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی پرلوگوں سے بات کی گئی تو انھوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ماہ رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور نعمتوں کی برسات کا مہینہ ہے ،لیکن اس کے برخلاف حال یہ ہے کہ سبزی ،پھل ،گوشت، اجناس ، دودھ دہی کے تاجر، درزی، کریانہ اسٹور مالکان اور بیکری مالکان سمیت پورا کاروباری طبقہ رمضان المبارک میںصلہ رحمی ، محبت اور رحمدلی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے لوٹ کھسوٹ اور ناجائز منافع خوری کیلئے تیار بیٹھا ہے۔دوسری طرف حکومت اور انتظامیہ بے بس اور خاموش تماشائی بنی نظر آرہی ہے۔کنزیومر ایسوسی ایشن کے چئیرمین کوکب اقبال ذخیرہ اندوزوں اور ناجائزمنافع خوروں کیخلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مگرسندھ کے وزیربرائے بیورو آف سپلائی اینڈپرائسز،شعیب بخاری بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیمتوں پر کنٹرول کرناضلعی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔
اگر برسر اقتدار طبقہ رمضان المبارک میں عوام الناس کو واقعتاً کوئی ریلیف پہنچانا چاہتا ہے تو اسے انتہائی سخت فیصلے کرنے ہونگے ۔ حکومت کو چند مٹھی بھر مفاد پرستوں کے ہاتھوں یرغمال بننے اور ان کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بجائے سرکاری نرخوں کو یقینی بنانے اور گراں فروشی کی روک تھام کے لئے علماءکرام، معززین،صحافیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور پولیس و سول انتظامیہ پر مشتمل ایسی خصوصی کمیٹیاں تشکیل دینی چاہئیں جو رمضان المبارک کے دوران بھی اور اس کے بعد بھی مہنگائی، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔
