دنیا بھر میں آج موسمیات کا عالمی دن موسم، فضاءاور پانی ہمارا مستقبل کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔
23 مارچ 1950 کو اس دن اقوام متحدہ کے کنونشن میں ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی، اور اب دنیا کے 188 ممالک اقوام متحدہ کے اس ادارے کے رکن ہیں۔
سال 1980 سے 2010کے دوران موسمیاتی آفات کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائدافراد ہلاک جبکہ 900 ارب امریکی ڈالر سے زائد کے مالی نقصانات ہوئے۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ موسم اور آب وہوا کے بارے میں آگاہی اور بہتر پیشن گوئی کی صلاحیت کے باعث بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی اور مالی نقصانات سے بچا جاسکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے اور مو ثر پیشن گوئی کے لئے ترقی یافتہ ممالک میں تو جدید ترین سہولیات اور ذرائع موجود ہیں جس سے کسی بھی خطرناک صورتحال سے پہلے ہی اس سے بچاو کے لئے اقدامات کرلئے جاتے ہیں۔ لیکن ترقی پزیر اور غریب ممالک میں جدید ذرائع نہ ہونے کے باعث اکثر موسمیاتی اور ارضیاتی تباہیاں ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انسانی زندگیاں تلف یا متاثر ہوتی ہیں۔
فضا میں بڑھتی ہوئی گرین گیسوں کی بدولت آب وہوا اور موسم میں تبدیلیاں وقوع پزیر ہورہی ہیں، اور ان تبدیلیوں کی بدولت دنیا کی ایک بڑی آبادی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس لئے موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنا اور بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ پاکستانی محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹرقمر الزمان کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی آفات کی وجہ سے متاثر ہونے والے ملکوں میں 12 ویں نمبر پر ہے، جبکہ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج کے حساب سے پاکستان 136ویں نمبر پر آتا ہے۔
ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس پر قابو پانے کے لئے ملکی سطح پر ماحولیاتی پالیسی تیار کرلی گئی ہے۔
