23مارچ 1940،پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے اس روز برصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے 34ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لئے قرارداد منظور کی،جسے قرارداد لاہور یا قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو 1941 میں نہ صرف مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنی بلکہ اسی کی بنیاد پر 7 سال بعد 14 اگست 1947 ءکو پاکستان معرض وجود میں آیا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کا 34واں سالانہ اجلاس 22 سے 24 مارچ 1940 ءکو منٹو پارک میں منعقد ہوا جسے آج کل اقبال پارک کہا جاتا ہے۔قائداعظم محمد علی جناح نے اجلاس کی صدارت کی جس میں نواب سر شاہ نواز ممدوٹ نے استقبالیہ خطبہ دیا اور اے کے فضل الحق نے تاریخ ساز قرارداد لاہور پیش کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ ہندوستان کا مسئلہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس کو اسی لحاظ سے حل کرنا چاہیے۔ جب تک اس اساسی اور بنیادی حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا ،جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ چل نہیں سکے گا اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ انگریزوں اور ہندوﺅں کے لئے بھی تباہ کن اور مضر ثابت ہو گا©۔
قیام پاکستان کے 13 سال بعد قرارداد لاہور کی یاد میں منٹو پارک میں ایک یاد گار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنر اختر حسین نے آزادی کی اس یادگار، مینار پاکستان کا سنگ بنیاد 23 مارچ 1960 ءکو ایک سادہ سی تقریب میں ٹھیک اسی جگہ رکھا جہاں 1940 ءمیں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مینار کی تعمیر کا کام پہلے دو سالوں میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے کافی سست رفتاری کا شکار رہا تاہم 1965 ءمیں صوبائی حکومت نے سینما اور ریس ٹکٹس پر ٹیکس لگا کر فنڈز کی کمی کا مسئلہ حل کیا اور 22 مارچ 1968 ءکو مینار کی تعمیر مکمل ہوئی جس پر کل 5 لاکھ روپے لاگت آئی۔مینار کے ڈیزائن کا کام ایک ترک آرکیٹیکٹ مورات خان کو سونپا گیا جس نے آزادی کی اس 62 میٹر بلند یاد گار کو زمین سے 2 میٹر اونچے چبوترے پر ڈیزائن کیا۔
یوم پاکستان کے موقع پرپورے ملک میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسلام آباد میں23 جبکہ صوبوں میں 21 توپوں کی سلامی سے دن کا آغازہوتا ہے۔اسلام آباد میں یوم پاکستان کی روایتی پیریڈ اورخصوصی تقریب منعقدکی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایوان صدر میں ہونیوالی خصوصی تقریب میں صدرمملکت کی جانب سے ملک و قوم کیلئے بہترین خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزازات سے بھی نوازا جاتا ہے۔
