World Mental Health Day – ذہنی صحت کا عالمی دن

پاکستان سمیت پوری دنیامیں آج ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔اس سال یہ دن بزرگ افراد اور دماغی صحت کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے ۔1992سے عالمی ادارہ صحت کے تحت منائے جانے والے اس دن کا مقصدعوام میںذہنی صحت و ذہنی مریضوں کے علاج اور ذہنی بیماریوں سے بچاو¿کا شعور پیدا کرنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی مختلف رپورٹس میں دنیا بھر میں ذہنی صحت کے حوالے سے کافی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جیسے 2011ءکی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک شخص کسی نہ کسی حد تک ذہنی طور پر تناﺅ، مایوسی یا ایسے ہی دیگر امراض کا شکار ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 10سے 20فیصد نوجوان ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ تناﺅ یاڈپریشن کا مرض 20سے 40سال کی عمر میں ہونے کا امکان ہوتا ہے،مردوں کی نسبت خواتین اس مرض کا زیادہ شکار ہیں۔دنیا کے ہر چوتھے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد ذہنی معذور ہے۔

پاکستان اورعالمی سطح پر غربت میں اضافے کے باعث بھی ذہنی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں غربت، عدم تحفظ، تعلیم میں کمی، مہنگائی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث ذہنی انتشار میں مبتلا افراد کی تعداد میں گزشتہ دس برس کے دوران سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان میں اس وقت ذہنی امراض کے علاج کے لئے صرف چار سرکاری ہسپتال ہیں جو حیدرآباد، لاہور، پشاور اور مانسہرہ میں واقع ہیں، جبکہ ماہرین نفسیات کی بھی کمی ہے اور اس وقت ملک میں صرف 419 ماہرین موجود ہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے رشتے دار بھی ان کی نگہداشت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔