بھارتی عوام گورے رنگ کے دیوانے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ گورا رنگ ہی حسن اور اعلیٰ سماجی رتبے کی علامت ہے۔ مگر اب اس نظریئے کو تبدیل کرنے کیلئے ایک نئی مہم کا آغاز شروع ہوا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ایک ٹی وی اشتہار میں رنگ گورا کرنے والی کریم کی خصوصیات بتائی جارہی ہیں، اس اشتہار میں معروف بالی وڈ فنکار شاہ رخ خان کہہ رہے ہیں کہ یہ کریم آپ کو زیادہ خوبصورت بنادے گی۔
اس طرح کے متعدد اشتہارات میں بالی وڈ اسٹار اور معروف کرکٹرز اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں، تیس سالہ مالو تی مرمو ان مصنوعات پر بہت یقین رکھتی ہیں، وہ کئی برسوں سے رنگ گورا کرنے والی کریم استعمال کررہی ہیں۔
مالوتی”میری جلد کا رنگ گہرا ہے، اور اس کی وجہ سے مجھے متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میری تمام گوری سہیلیوں کی شادی ہوچکی ہے، میں خود کو بدقسمت سمجھتی ہوں کیونکہ میرا رشتہ ٹوٹ گیا، یہی وجہ ہے کہ میں اس کریم کو استعمال کرتی ہوں تاکہ جلد کا رنگ بہتر ہوسکے، اگر میری جلد صاف ہوگئی تو میں زیادہ خوبصورت نظرآﺅں گی اور میری زندگی بہتر ہوجائے گی”۔
دو ہزار دس میں مارکیٹ ریسرچر اے سی نیلسن نے بتایا کہ بھارت میں سالانہ رنگ صاف کرنے والی کریموں کے ذریعے کمپنیاں 400 ملین ڈالرز سے زائد کما رہی ہیں۔
مادان سین کولکتہ کے نواح میں ایک کریانے کی دکان چلارہے ہیں، جس میں کئی کریمیں بھی فروخت کی جاتی ہیں۔
مادان”میرے صارفین ہر عمر کے ہیں، جن میں کم عمر لڑکیوں سے لیکر معمر خواتین وغیرہ شامل ہیں، مگر میری بیشتر صارفین غیرشادی شدہ خواتین ہیں، کچھ مرد بھی ان کریومں کو خریدتے ہیں، ہر شخص ہی گورا نظر آنے کا خواہشمند ہے”۔
اس طرح کے اشتہارات میں بتایا جاتا ہے کہ صاف جلد ہی اعلیٰ سماجی رتبے یا شادی کی اہلیت کی علامت ہے، یعنی کامیابی اور خوبصورتی کا انحصار جلد کی رنگت پر ہے، ایک ورکنگ خاتون رینا ہلدار اپنی گہری رنگت کے باعث امتیازی سلوک کی شکایت کرتی ہیں۔
رینا “میرا نام رینا ہے، مگر میرے علاقے کے بیشتر لوگ مجھے کالی کہتے ہیں، کیونکہ میری جلد کا رنگ گہرا ہے، ہمارے معاشرے میں اگر آپ جلد گہرے رنگ کی ہو تو آپ کو بے پناہ بے عزتی اور ناخوشی کا سامنا ہوتا ہے، میرے خیال میں بھگوان نے مجھے کالے رنگ کا بناکر سزا دی ہے”۔
اب ایک این جی او نے اس ذہنیت کو تبدیل کرنے کیلئے ایک مہم ڈارک اینڈ بیوٹیفل شروع کی ہے، اس مہم کو گزشتہ برس ایک گروپ ویمن آف وارتھ نے شروع کیا، کویتا امانوئل اس کی ڈائریکٹر ہیں۔
کویتا”خواتین، طالبات اور یہاں تک کے بچیوں سے ہماری بات چیت میں یہ بات سامنے آئی کہ ہم کس حد تک جلد کے رنگ پر تعصب برتنے کے عادی ہیں، جس سے ہمارے بچے متاثر ہورہے ہیں۔ انکی خوداعتمادی ختم ہورہی ہے، ہم نے محسوس کیا تھا کہ کوئی بھی اس معاشرتی برائی پر آواز نہیں اٹھارہا جس پر ہم نے آگے آنے کا فیصلہ کیا، ہم اسے عام لوگوں کے سامنے لائے اور ان میں احساس پیدا کیا کہ وہ اپنی شخصیت سے محبت کریں”۔
اس مہم کا مقصد لوگوں کو جسمانی رنگت پر معتصب سوچ سے دور رکھنا ہے، جبکہ عوامی شخصیات کو بھی رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے اشتہارات نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ فلمسٹار نندیا داس اس مہم کی پرجوش حامی ہیں۔
نندتا داس”لوگ یہ احساس دلاتے ہیں کہ کالی رنگت کے باعث معاشرے میں آپ کا کوئی مقام نہیں، آپ کے پاس مواقع محدود ہیں،
یہاں ایسی متعدد لڑکیاں ہیں جو مواقع نہ ملنے کے باعث بہت کچھ کرنے سے قاصر رہتی ہیں، میرا مطلب ہے کہ صاف رنگت والی خواتین کو زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں، کیا یہ نسلی تعصب نہیں؟”
تاہم ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سو شل سائنس سے تعلق رکھنے والی ثقافتی ماہر انجلی مونٹیرو کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی جنگ ہے۔
انجلی”میرا نہیں خیال کہ کسی ان کریموں پر پابندی لگ سکتی ہے یا انکے اشتہارات کو کسی ضابطے میں لایا جاسکتا ہے، اب تو خوبصورتی کا تعلق طاقت سے جوڑ دیا گیا ہے، مثال کے طور پر اگر افریقہ دنیا پر چھاجائے تو صاف کی بجائے سیاہ رنگت خوبصورتی کے زمرے میں آجائے گا “۔
یہ مہم ایک طالبہ ابھپسا چوہدری کے خیالات میں تبدیلی لائی ہے، اور اس کا ماننا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس مہم کی حمایت کرنا چاہئے۔
ابھپسا”میں نے اس مہم کے بارے میں اخبارات میں پڑھا، میں اس بات کی مزمت کرتی ہوں کہ کسی سے اس کی جلد کی رنگت پر امیتاز برتا جائے، میرے خیال میں مارکیٹ میں موجود کریمیں ہی اس ناانصافی کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں، لوگوں کو ان تمام کریموں کا بائیکاٹ کردینا چاہئے، میں وعدہ کرتی ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ان کریموں کا استعمال نہیں کروں گی”۔