پاکستان سمیت آج پوری دنیا میں رقص کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے۔
دنیا بھر میںہر سال انتیس اپریل کو یہ دن عالمی ڈانس کونسل کے تحت منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد رقص کی مختلف اقسام کو فروغ دینا اور مختلف قوموںکے ثقافتی سرمائے کو بچانا ہے۔رقص صدیوںسے انسانی ثقافتوں کا اہم عنصر رہا ہے ، پرفارمنگ آرٹ میں رقص کا اپنا منفرد مقام ہے اور دنیا کی تقریبا ہر تہذیب میں خوشی کے اظہار کے لئے رقص کیا جاتا ہے۔آج کے دن مختلف تقریبات کا انعقاد کر کے کوشش کی جاتی ہے کہ عام لوگوںمیںروایتی رقص سے آگاہی کو فروغ دیا جائے۔
پاکستان میں امن و امان اور دہشت گردی کے واقعات نے جہاں دیگر شعبوں کو متاثر کیا ہے وہاں فن رقص بھی اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے۔رقص کو اعضاءکی شاعری کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ رقاص رقص کے دوران اپنی حرکات و سکنات سے پوری داستان بیان کر دیتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند کی مٹی اس فن میں ہمیشہ سے ہی بڑی زرخیز رہی ہے۔ بھارت ہو یا پاکستان یہاں بے شمار اقسام کے رقص کیے جاتے ہیں رقص میں کلاسیکی اور لوک رقص کا ایک خاص مقام ہے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں بھی فن رقص سے منسلک افراد نے ناصرف نجی محفلوں اور سرکاری تقریبات کو سجایا بلکہ فلمی صنعت کو بھی بہت کچھ دیا۔
پاکستان اور بھارت کی فلموں میں بھی رقص خاص اہمیت رکھتا ہے اور یہ رقص دونوں ملکوں کی ثقافت اور روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماضی میں پاکستانی فلموں میں بھی خوبصورت رقص ہوتا تھا لیکن اب فلموں میں جو رقص ہو رہا ہے وہ رقص کے نام پر ایک دھبہ ہے۔اس وقت کتھک سمیت دیگرکلاسیکی رقص پاکستان میں زوال پذیرہے،جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جن بزرگوں کو یہ فن آتا تھا انہوں نے اسے نئے زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہیں کی کہ یہ نوجوان نسل کے لیے قابل قبول ہوتا۔پاکستان میں لوک رقص بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے اور چاروں صوبوں کے اپنے اپنے علاقائی رقص ہیں جو وہاں کی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔