پاکستانی فلمی دنیا کے شہنشاہ ظرافت اور اپنی بے ساختہ اداکاری سے شائقین کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیردینے والے منور ظریف دو فروری انیس سو چالیس کو گوجرانوالہ میں پیداہوئے۔ مزاح کا فن انہیں وراثت میں ملا تھا۔ انھوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1961میں ریلیز ہونیوالی فلم ڈنڈیاں سے کیا،جسکے بعد انکی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔
تاہم 1973ءمیں وہ پہلی بار اردو فلم پردے میں رہنے دو میں سائیڈ ہیرو کے روپ میں سامنے آئے اور اسی سال ایک اور فلم رنگیلا اور منور ظریف کی کامیابی نے منورظریف کو سپر اسٹار بنا دیا۔
مگر ان کے کیرئیر کی لازوال فلم بنارسی ٹھگ رہی، جس میں منور ظریف نے مختلف گیٹ اپ کئے اور اپنے ورسٹائل اداکار ہونے کی مہر ثبت کردی۔
انکی مزاحیہ اداکاری کا انداز منفرد اور نرالا تھا جسکے باعث انہوں نے مزاحیہ اداکاری میں اپنا نام کمایا جسے آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دور حاضر کے کامیڈین نقل کرتے نظر آتے ہیں۔منور ظریف جب اسکرین پر جلوہ گر ہوتے تو لوگ انکی باتوں پر لوٹ پوٹ ہوتے دکھائی دیتے۔
ہیرو کے طور پر انکی قابل ذکر فلموں اج دا مہینوال، جیرابلیڈ، شریف بدمعاش،بنارسی ٹھگ، کل کل میرا ناں، رنگیلا اور منورظریف، نوکر ووہٹی دا، رنگیلا عاشق اور دوسری کئی فلمیں شامل ہیں،
جبکہ 1971،1973اور 1975ءمیں انہیں عشق دیوانہ، بہارو پھول برساﺅ اور زینت میں بہترین مزاحیہ اداکاری پر نگار ایوارڈ دیئے گئے۔
انکے بعد کامیڈی فلموں کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اور انہی کے قدم پر چل کر علی اعجاز ، ننھااور عمر شریف وغیرہ نے اسکرین پر کئی عرصے تک راج کیا۔”رنگیلا” اور “منور ظریف” کی فلمی جوڑی کو فلم کی کامیابی تصور کیا جاتا تھا۔انہوں نے اپنے بیس سالہ کیرئیر میں تین سو پچیس فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔یہ عظیم فنکار اپنے عروج کے دوران 29اپریل 1976ءکو دل کا دورہ پڑجانے کی وجہ سے جہان فانی سے کوچ کرگیا۔