Women Acid Victims تیزا ب سے متا ثرہ خوا تین

قدرت کچھ چہروںکو خوبصورتی اوردلکشی سے نواز کرمرکز نگاہ بنا دیتی ہے ایسے ہی کچھ بد نصیب چہرے تیزاب کے چند چھینٹوں سے عمر بھر کیلئے مسخ کر کے بد صورتی کا نمونہ بنا دیئے جاتے ہیں۔پاکستان میںتیزاب پھینکنے کے واقعات کاشکار زیادہ تر خواتین کو بنایا جاتا ہے،جسکی وجہ عموماًرشتے سے انکار کی صورت میں انتقامی کارروائی،خاندانی و اذدواجی جھگڑے اور جہیز سے انکار سمیت بے شمار وجوہات ہیں جسکے باعث ایک چہرے کو سدا کیلئے نمونہ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔۔ایسا ہی ایک واقعہ سرجانی ٹاﺅن ، کراچی کی رہنے والی اِرم کے ساتھ پیش آیا:
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایسے کیسز میں تیزاب سے جھلس کر زخمی ہونے والی خواتین یا اُنکے اہل خانہ اس قدر ظلم و سفاکی کا مظاہرہ کرنے والے مجرمانہ ذہنیت کے حامل افرادکے ساتھ بہت خاموشی سے صلح کر لیتے ہیں یا پھر انھیں بیان بدلنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے:
ضلع خیر پور سے تعلق رکھنے والی حضوراںبھی ایسے ہی اندوہناک حادثے کا شکار ہو کر جھلسے ہوئے چہرے کے ساتھ برنس سینٹر، سول اسپتال کراچی میں زیر علاج ہے:
حضوراں کا مطالبہ ہے کہ اُسے اس قدر اذیت میں مبتلا کرنے والے ملزمان کو بھی ایسی ہی اذیت ناک سزا ملنی چاہیئے۔
مددگار ہیلپ لائن کے سربراہ اور وکیل برائے انسانی حقوق و قانونی امداد ضیاءاحمد اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو جلانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ10سالوں کے دوران2,500سے زائد کیسزریکارڈ کئے گئے ہیں جو کہ اصل تعداد سے کہیں کم ہے کیونکہ اس نوعیت کے چند ایک کیسز ہی میڈیا تک پہنچ پاتے ہیں اور لاتعداد واقعات میڈیا تو دور پولیس کے ریکارڈ تک بھی نہیں پہنچ پاتے اور مسخ شدہ چہروں کے ساتھ کئی بد نصیب خواتین دنیا سے چہرہ چھپائے گوشہ تاریکی میں باقی کی عمر بِتا دیتی ہیں۔
حال ہی میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کیلئے Acid Crimes Preventionبل کی منظوری دی گئی ہے، جسکے تحت تیزاب پھینکنے کے جرائم میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے،قابل ذکر بات یہ ہے کہ بِل کی منظوری کے باوجود تاحال ایسڈ یا تیزاب کی کھلے عام خرید و فروخت پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ۔ صوبہ سندھ میں تیزاب اور دیگرحادثات میں جھلسنے والے افراد کی مفت ٹریٹمنٹ اور پلاسٹک سرجری کیلئے واحد برنس سینٹر ،سول اسپتال کراچی میں کام کر رہا ہے جہاں کراچی کے علاوہ اندرون سندھ سے لائی جانے والی خواتین بھی زیر علاج ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نوعیت کے حادثات کا شکار ہونے والی خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے اور اُنکے علاج کیلئے ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ برنس اینڈ ٹریٹمنٹ سینٹرز قائم کئے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *