سماجی،گھرےلواور معاشی مجبورےوں کے تحت ملازمت کے لےے گھروں سے نکلنے والی خواتین ان گنت مسائل کا سامنا کرتی ہیں جن کے ازالے کے لےے نہ تو کو ئی پلےٹ فارم تشکےل دےا گےا ہے اور نہ ملازمت پیشہ خواتین کو سہولےات دےنے کے لےے کوئی مثبت پےش رفت سامنے آئی ہے۔خواتین کی بڑی تعداد اےڈ منسٹریشن ،مینجمنٹ ،سےلز اینڈ مارکیٹنگ،درس و تدرےس اور فےلڈ سے منسلک دیگر شعبہ جات سے منسلک ہے جبکہ بہت سی مڈل کلاس کم تعلےم ےافتہ خواتین مختلف ہائپر مارکےٹس اور رےسٹورنٹس میں کام کرتی دکھائی دےتی ہےں ،لوئر کلاس کی ان پڑھ خواتےن گھروں مےں جھاڑوپونچھے کا کام کرنے اور گھرےلو سطح پر مختلف نوعیت کے کاروبار سے بھی منسلک ہےں تا کہ آمدنی کا وسیلہ پیدا کیا جا سکے ۔معمولی ملازمت کرنے والی کم پڑھی لکھی خواتےن سے لے کر اعلیٰ عہدوں پر فائز تعلےم ےافتہ خواتےن تک ۔۔۔دہری زمے دارےوں کے مسائل اور معاشی و سماجی دباﺅ سے سب ہی دوچار ہیں۔کراچی مےں ورکنگ ویمن وےلفیئر ٹرسٹ سمیت چند آرگنائزےشن ہےں جو محدود فنڈز کے با وجود ملازمت پیشہ خواتین کے حقوق کے لےے سر گرم عمل ہیں ،ادارے کی وائس پرےزیڈےنٹ حمےرا قرےشی ورکنگ وےمن کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہےں:
دوران ملازمت بچوں کی منا سب دیکھ بھال اور حفا ظت ورکنگ ویمن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ،اداروں کے اندر خواتین پروفےشنلز کے بچوں کے لےے ڈے کےئر سےنٹر کے قےام کی تجاوےز کئی اداروں کی جانب سے پیش کی گئی ہیں جبکہ یہ ملازمت پےشہ خواتےن کا قانونی حق بھی ہے:
سرکاری ملازمتوں سے منسلک خواتےن کے لےے کےا مسائل ہیں اس بارے حمیرا قریشی کا کہنا ہے:
پاکستا ن مےں بہت سی خواتین سخت ترین اوقات کے باعث اپنی ملازمت جاری نہیں رکھ پاتیں ےا پیشہ ورانہ امور کے ساتھ گھریلو زمے دارےاں نبھاتے ہوئے شدید مشکلات کا سامنا کرتی ہیں ،اس سلسلے میں بےن الاقوامی سطح پر با سہولت اوقات کار کا نظام رائج ہے جو ہمارے ہاں بھی موجود ہو تو خواتےن پروفےشنلز کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہےں:
ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی حوصلہ شکنی کے لےے ورکنگ ویمن ویلفیئر سمےت دیگر اداروں کی جانب سے بھی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔اس سلسلے میں قانون سازی بھی کی گئی ہے لیکن ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کی وائس پرےزیڈنٹ حمےرا قرےشی کا کہنا ہے کہ ان خواتےن کی شکاےات کے ازالے کے لےے جو طرےقہ کار وضع کےا گےا ہے وہ بے حد پیچیدہ اور مشکل ہے:
خواتین پا کستان کی آبادی کا نصف حصہ ہےں جن کی بہت بڑی تعداد اس وقت مختلف سےکٹرز مےں خدمات انجام دے رہی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل کو سامنے لاےا جائے اور انکے حل کے لےے آسان اور عملی طرےقہ کا وضع کےا جائے اسکے علاوہ قوانین کے نفاذکے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں مےں کام کرنے والی خواتین کو انکے حقوق سے آگہی فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔
