وقت کا پہیہ جس تیزی سے رواں دواں ہے، اِسی تیزی سے ملکی اور عالمی سطح پر معاشی مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں جس سے صرف مرد حضرات ہی نہیں بلکہ خواتین بھی نبرد آزما ہیں، مرد اگر مہینے کے اختتام پر ایک معقول پیکج حاصل کرنے کیلئے پورا دن دفاتر میں ذہنی و جسمانی مشقت کرتے ہیں توخواتین بھی تمام دن اِسی جدو جہد میں مصروف رہتی ہیں کہ صاحب خانہ کی کمائی کا ایک روپیہ بھی زائد خرچ نہ ہو بلکہ آنے والے وقت کیلئے بچا لیا جائے۔مہینے کی پہلی تاریخ مردوں کیلئے تو اِس قدر صبرآزما ثابت نہیں ہوتی۔۔۔لیکن خواتین۔۔۔یوٹیلیٹی بلز، بچوں کی فیسوںاورروزمرہ زندگی کے دیگر اخراجات کو متوازن رکھنے کے چکر میں اچھے خاصے ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں، قسمت سے اگر ماہانہ آمدنی میں سے کچھ بچا بھی لیا جائے تو وہ خاندان میںہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات یا بچوں کے علاج معالجے پر خرچ ہو جا تا ہے اور پھر سے پہلی تاریخ کا انتظار شروع ہو جاتا ہے!
اِن حالات میں ایسی بھی خواتین ہیں جو گھریلو زندگی کو متوازن رکھنے کیلئے صاحب خانہ کے ساتھ مل کرمعاشی جدوجہد میں مصروف ہیں، اس سلسلے میں کوئی قید نہیں ہے کہیں گھر میں فالتو پڑی سلائی مشین کو استعمال میں لایا جا رہا ہے تو کہیں محلے کے بچوں کو جمع کر کے ٹیوشن دی جا رہی ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین قریبی اسکول یاکالج میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں،جو خواتین کسی ہنر کی مالک ہیں وہ انڈسٹریل ہومز، بیوٹی پارلرز یا فیکٹریز سے منسلک ہیں،یہ ماننا پڑے گا کہ آج کی عورت اپنے مسائل کو لے کر کڑھنے کے بجائے اُ نھیں حل کرنے پر یقین رکھتی ہے اور اِس کیلئے کوشش بھی کرتی ہے، مقامی کالج میںبحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دینے والی مسزنادرہ کا کہنا ہے:
:
مسز نادرہ کا کہنا ہے کہ نامساعد حالات اور مشکلات کا مقابلہ خواتین صرف اس لئے کرتی ہیںاُن کے گھرانے کو بہترین لیونگ اسٹینڈرڈ مل سکے:
مردوں کے ساتھ مل کر معاشی مسائل حل کرنے والی خواتین پر اعتماد زندگی گزارتی ہیں ،یہ احساس کہ وہ اپنے بچوں کی خواہشات اور ضروریات پوری کرنے کی استطاعت اور حیثیت رکھتی ہیں اُن کیلئے کسی خزانے سے کم نہیں ہے ،ایسی خواتین مسائل اور مشکلات کا مقابلہ کرنے اور اُنھیں حل کرنے کا جذبہ اپنے اندر زیادہ توانائی کے ساتھ محسوس کرتی ہیں۔مقامی دفتر میں بحیثیت مارکیٹنگ منیجر کام کرنے والی مسز رخسانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھرانے کی معاشی خوشیوں کیلئے جد و جہدمیں مصروف ہیں:
کون کہتا ہے کہ خواتین ترقی کی دوڑ میں مردوں کے شانہ بشانہ نہیں کھڑی ہیں، جو عورتیں گھریلو ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ معاشی ذمے داریاںبانٹ کر گھر کے مردوں کو ذہنی تناﺅ اور معاشی مسائل سے نجات دلا رہی ہیں اور جو خواتین محدود وسائل کے باوجوداپنے بچوں کو بہترین طرز زندگی دینے کیلئے جدو جہد میں مصروف ہیں، انھیں ہمارا معاشرہ کسی ایوارڈ سے نوازے یا نہیں لیکن اپنے گھر کے مکینوں کے چہروں پر کھیلتی پر سکون مسکراہٹ اُنکے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔
