خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم معروف تنظیم عورت فاﺅنڈیشن کی جانب سے پاکستان میں خواتین پر تشدد کے حوالے سے سال 2011 کی ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق تقریبا 8539 خواتین مختلف قسم کے تشدد کا نشانہ بنیں ،جبکہ سال2010 میں یہ تعداد 8000 تھی ،یعنی سال 2010 کی نسبت سال 2011 میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں 6.74 فیصد اضافہ ہوا جو کہ نہایت تشویش کی بات ہے،جبکہ سال 2011 میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے والی خواتین کی یہ تعداد بھی مکمل طور پر حقیقت کی غماز نہیں ہے،حقائق اس سے بھی زےادہ تلخ ہیں ،خواتین پر تشدد کے واقعات ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں،شیریں جاوید عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر پشاور ہیں،اس حوالے سے ان کا کہنا ہے،
رپورٹ کے مطابق سال 2011 میں قتل کی جانے والی خواتین کی تعداد 1575 ہے،جس میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خواتین کی تعداد شامل نہیں،غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خواتین کی تعداد تقریبا 943 ہے ۔یہاں پر اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خواتین کی بہ نسبت مرد زےادہ قتل ہوتے ہیں،جس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مردوں کئی وجوہات کی بناءپر قتل ہو جاتے ہیں جبکہ عورت کو صرف ایک ہی وجہ کی بناءپر قتل کر دیا ہے ،اور وہ ہے مرد کے ظالمانہ روئیے کے خلاف آواز بلند کرنا ۔شیریں جاوید ان حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں،
خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جانا بھی روز کا معمول بن چکا ہے،جس میں انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے واقعات شامل ہیں،جس میں تقریبا 827 کیس رپورٹ ہوئے،جبکہ جنسی زےادتی کا شکار خاتون کے گھر والے بد نامی کے خوف سے کیس رپورٹ ہی نہیں کرتے،شیریں جاوید اس حوالے سے بتا رہی ہیں،
گھریلو خواتین پر ان کے شوہروں اور سسرالیوں کی جانب سے تشدد پاکستان میں ایک عام بات ہے، سال2011میں تقر یبا 610 خواتین کو بد ترین گھریلو تشدد کا نشانہ بناےا گےا،جبکہ سال 2010 میں یہی تعداد 486 تھی یعنی سال 2011 میں یہ تناسب 25.51 فیصد زیادہ رہا جو کہ ایک تشویشناک امر ہے،جبکہ حکومت کی جانب سے اس کے سدباب کے لئے کو ئی قانون سازی بھی نہیں کی گئی ۔شیریں جاوید اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہتی ہیں،
تیزاب پھینکنے پر عدالت کی جانب سے سخت سزائیں تجویز کرنے کے باوجود تیزاب پھینکنے کے واقعات میں کمی نہیں بلکہ اس میں اضافہ ہی دیکھا گےا ہے،اور اس میں بھی سب سے زےادہ خواتین ہی نشانہ بنتی ہیں،جبکہ آگ لگا کر جلا دینے کے واقعات میں بھی زےادہ تر خواتین ہی شکار بنتی ہیں،اس بارے میں شیریں جاوید کہتی ہیں،
خواتین کے ساتھ تشدد ،زیادتی اور امتیازی سلوک کے پیش آنے والے واقعات کو 5 منٹ کے ایک فیچر میں زیر بحث لانا نا ممکن ہے،لیکن حکومتی اور ریاستی ادارے اور ان جی اوز پر ان تمام واقعات کا سد باب کرنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔