Women join the Afghan Army افغان فوج میں خواتین کی شمولیت
(Afghan women army) افغان خواتین فوجی
گزشتہ دس برسوں کے دوران افغانستان میں خواتین نے ہر شعبہ زندگی میں جگہ بنائی ہے، یہاں تک کہ فوج میں وہ کام کررہی ہیں۔ اس وقت وزارت دفاع میں ایک ہزار سے زائد خواتین بطور ڈاکٹر، نرسز اور انتظامی عہدوں پر کام کررہی ہیں، تاہم حال ہی میں چند خواتین کو فوجی افسران کے طور پر بھرتی کیا گیا ہے
سینکڑوں مرد فوجی ایک بڑے احاطے میں مارچ پاسٹ کررہے ہیں، اور ہر ایک نے فوجی وردی زیب تن کر رکھی ہے۔
ہمیں ایک اس احاطے میں ایک دیوار کے پیچھے الگ حصے میں لے جایا گیا، جہاں خواتین تربیتی افسران پریڈ کررہی تھیں۔انھوں نے سیاہ اسکارف اور فوجی وردی پہن رکھی تھی، ان کی کمانڈر انہیں ایک قطار میں کھڑا کررہی ہے۔
رضیہ یہاں تربیت حاصل کررہی ہیں۔
رضیہ(female)”میں رضیہ ہوں اور افغانستان کے فوجی تربیتی مرکز سے فوجی تربیت حاصل کررہی ہوں۔ماضی میں ہمارے معاشرے میں خواتین پر بہت زیادہ تشدد ہوتا تھا، یہی وجہ تھی کہ میں دیگر خواتین سے مختلف بننا چاہتی تھی، تاکہ اپنے حقوق کا دفاع کرسکوں اور اپنی قوم، خاندان اور ملک کی خدمت کرسکوں۔ گزشتہ چھ ہفتے کی تربیت کے باعث میں اپنے اندر واضح تبدیلیاں محسوس کررہی ہوں، میں نے انگریزی بولنا سیکھی ہے، مجھے اب واکی ٹاکی استعمال کرنا آتا ہے، اور ہماری ہمت بھی بڑھ چکی ہے”۔
اس وقت صبح کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں اور یہ خواتین انگریزی کی کلاس لے رہی ہیں۔ لطیفہ نبی زادہ بھی ان طالبات میں شامل ہیں، وہ بھی دوران تربیت اپنے اندر تبدیلیاں محسوس کررہی ہیں۔
لطیفہ(female)”ماضی میں مجھے زیادہ بہتر محسوس نہیں ہوتا تھا، مگر اب میں خوش ہوں، میں ایک اچھی لڑکی بننا چاہتی ہوں اور اپنی ذات کا دفاع اچھی شخصیت کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔ اب میں افغانستان کو دشمنوں سے بچاسکتی ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ میں دیگر لڑکیوں سے مختلف ہوں”۔
Jegran Fahima Mosbah اس تربیتی مرکز کی کمانڈر ہیں۔ وہ خواتین افسران کو تربیت دیتی ہیں۔وہ افغان فوج میںخواتین کی اہمیت بتارہی ہیں۔
Jegran Fahima Mosbah(female)” خواتین معاشرے کے ہر شعبے کا حصہ بن چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم انکی فوج میں موجودگی چاہتے ہیں۔ معاشرے میں خاندان کی تشکیل کے لئے مرد و خواتین دونوں کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ان میں سے کسی ایک کو الگ کردیا جائے تو خاندان ٹوٹ جاتا ہے۔ معاشرہ بھی ایک خاندان کی طرح ہوتا ہے، جس میں خواتین کی موجودگی ضروری ہے۔ اسی طرح فوج اور حکومت کے دیگر اداروں میں خواتین کی موجودگی بھی ضروری ہے، یہ خواتین گھروں کی خانہ تلاشی کے دوران خواتین کی تلاشی کا کام کریں گی، اس کے علاوہ خواتین کی موجودگی سے عوام کا اعتماد فوج پر بڑھے گا”۔
تاہم انکا کہنا ہے کہ تربیت حاصل کرنیوالی خواتین کو اپنے خاندان کی جانب سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
Fahima(female)”جی ہاں ہمیں چند مسائل کا سامنا ہے، مثال کے طور پر ایک یونیورسٹی کی طالبہ جس کے والد خودکش حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں، یہاں تربیت حاصل کرنے آئی، وہ فوج کا حصہ بننے پر بہت پرجوش تھی، مگر اس نے اپنے خاندان کو اس حوالے سے کچھ بتایا نہیں۔ جب ان لوگوں کو معلوم ہوا تو انھوں نے ہم سے رابطہ کرکے اپنی بیٹی کو واپس بھیجنے کا کہا۔ جس پر ہم نے اسے واپس گھر بھیج دیا”۔
افغان عوام فوج میں خواتین کی شمولیت کی حمایت کررہے ہیں۔ اسد بھی ان میں سے ایک ہیں۔
اسد(male)”میں جانتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ قدامت پسند ہے اور یہاں خواتین کو فوج میں شمولیت پر مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، مگر میرے خیال میں سیکیورٹی اداروں میں خواتین کی موجودگی ایک اچھا اقدام ہے۔ جب افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپہ مارا جاتا ہے، تو مردوں کے ساتھ خواتین فوجیوں کی موجودگی ایک اچھا امر ہوگا، کیونکہ خواتین کی خانہ تلاشی سے ہمیں مسائل کا سامنا نہیں ہوگا۔مگر لوگوں کو فوج میں خواتین کی موجودگی کو اپنانے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے”۔
تاہم رضیہ تمام تر مسائل پر قابو پانے کیلئے پرعزم ہیں۔
رضیہ(female)”جب کوئی ملازمت شروع کی جاتی ہے تو ہر شخص کو مختلف دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے، جن پر قابو پانے کےلئے ہم جدوجہد کرتے ہیں”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply