پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ زراعت کے شعبے سے منسلک ہے جن میں خواتین کی بھی بہت بڑی تعداد شا مل ہے جو اپنے خاندان کے مردوں کے ساتھ مل کر یکسا ں محنت کرتے ہوئے اپنے خاندان کیلئے روزی روٹی کا وسیلہ کر رہی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ خواتین ہاری مرد کاشت کاروں کے برابر کام کرتی ہیں لیکن نہ تو انھیں انکے حقوق دیے جاتے ہیں اور نہ ہی خواتین ہاریوں کے مسائل اب تک قومی سطح پر سامنے لائے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم نے تلہار میںPPIکے رپورٹر ندیم خواجہ سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ خواتین ہاری بے شمار مسائل کا شکار ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں:
اہم بات یہ ہے کہ یہ غریب اور ان پڑھ ہاری خواتین جن زمینوں کو اپنی محنت مشقت سے سینچتی ہیں وہ زمینیں انکی اپنی نہیں بلکہ مقامی وڈیروں کی ہیں جو انھیں انکی محنت کا انتہائی قلیل معاوضہ دیتے ہیں:
اس سلسلے میں مختلف اداروں کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ غریب ہاری خواتین کو بھی زمینیں دی جائیں اسکے ساتھ ساتھ بیج اور کھاد وغیرہ کیلئے خواتین ہاریوں کو آسان اقساط پر قرضے دیئے جانے چاہئیںتاکہ وہ بھی خوشحال زندگی گزار سکیں، سندھ کے دیہی علاقوں میں16سے50سال کی خواتین کھیتی باڑی سے منسلک ہیں ، اس سلسلے میں ایک ظالمانہ طریقہ کار جو موجود ہے وہ بیاج سسٹم ہے اس سلسلے میں تلہار کے مقامی ہاری حاجی نواب لغاری کا کہنا ہے:
ٓتلہار میں کاشت کاری سے منسلک ایک خاتون ہاری حمیدہ کا کہنا ہے:
تلہار کی ایک اور ہاری خاتون شبانہ کا کہنا ہے:
اسی طرح کاشتکاری سے منسلک سکینہ کا کہنا ہے:
اہم بات یہ ہے کہ ان ہاری خواتین کو فصل کیلئے پانی، بیج، کھاد وغیرہ کا بندوبست خود کرناپڑتا ہے اس سلسلے میں زمینوں کے مالکان وڈیرے ان سے تعاون کرنے کے بجائے تمام اخراجات سود سمیت وصول کرتے ہیں اس پر ستم یہ کہ سیلاب سے بچاﺅ کیلئے ان غریبوں کے پاس کوئی سہولت نہیں ہے جب سیلاب آتا ہے تو یہ اپنے خاندان سمیت اپنے گھر بار چھوڑ کریہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں اور پانی اتر نے کے بعد نئے سرے سے زندگی کی جد وجہد شروع کرتے ہیں۔