Will New Media Win the Battle for Malaysia? – ملائیشیاءمیں نئے میڈیا کا عروج

ملائیشیاءمیں انتخابی دنگل سجنے کو ہے اور اس ملک کو آزادی ملنے کے بعد سب سے سخت انتخابات سمجھے جارہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں حکمران جماعت کا دور ختم ہونیکا پورا امکان ہے۔ اس بار ملائیشیاءمیں پہلی بار سوشل میڈیا کو انتخابات کا سب سے اہم ہتھیار سمجھا جارہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

الیگزینڈریہ لوک کوالالمپور کی بائیس سالہ طالبہ ہیں۔

اپنے عمر کے متعدد نوجوانوں کی طرح وہ بھی انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

الیگزینڈریہ”بنیادی طور پر میری معلومات کے حصول کا انحصار فیس بک پر ہے، جب سے یہ نیا میڈیا آزاد ہوا ہے ہم نے انٹرنیٹ کا استعمال بہت زیادہ کردیا ہے۔ میں نے میڈیا کی بہت اقسام کا مطالعہ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ فیس بک پر زیادہ اعتماد کرتی ہوں۔ میرے تمام دوست بھی اسی میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں، میرا نہیں خیال کہ وہ اخبارات کو ہاتھ بھی لگاتے ہوں گے”۔

ملائیشیاءمیں روایتی میڈیا کی بیشتر کمپنیاں حکمران اتحاد بریسن نیشنل میں شامل سیاسی جماعتوں کی ملکیت ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ان کے زیرتحت میڈیا حکمران اتحاد کی ہی حمایت کرتا ہے۔ تم چی می، موناش یو نیورسٹی میں صحافت پڑھاتی ہیں۔

تم”آپ دیکھ سکتے ہیں ان میڈیا آﺅٹ لیٹس پر بااثر طبقے کا قبضہ ہے، اکثر اخبارات اس ملکیت سے قبل غیرجانبدار تھے، مگر اب اس پر حکمران اتحاد بریسن نیشنل کا قبضہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ان میں اکثر خبریں بھی اس اتحاد کی انتخابی مہم کے بارے میں ہے۔ جس کی وج سے اپوزیشن کیلئے اپنا پیغام ان لوگوں تک پہنچانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں جو انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتے”۔

آج ساٹھ فیصد ملائیشین گھر انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں، یہ تعداد 2008ءکے مقابلے میں تین گنا زائد ہے، اور اس وقت ملک کی نصف آبادی فیس بک استعمال کرتی ہے، جن میں ووٹرز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

احمد کمال ناواسوشل میڈیا کنسلٹنٹ ہیں، ان کی کمپنی پولی ٹوئیٹ انٹر پرائز فیس بک اور ٹیوئیٹر پر سیاسی رجحانات پر تحقیق کرتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور حکمران اتحاد کو توقع ہے کہ وہ موجودہ انتخابات میں نئے میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ووٹرز تک رسائی حاصل کرسکین گے۔

احمد کمال” بریسن انٹر نیشنل فیس بک اور ٹیوئیٹر استعمال کررہا ہے، مگر میرے خیال میں مسئلہ اس کے استعمال کے طریقے پر ہے، ان کے پاس زیادہ حامی نہیں جو فیس بک صارفین کیساتھ مباحثہ کرسکیں، تاکہ وہ آپ کی طرف آسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میڈیا پر اپنے حق میں مضامین اور بلاگز وغیرہ کے ذریعے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے مقابلے میںپاکستان اتحاد کا انداز مختلف ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس اتحاد کے پاس زیادہ تنخواہ دار افراد نہ ہو مگر ان کے حامی بہت مضبوط ہیں۔ یہ لوگ مباحثوں میں کافی وقت لگاتے ہیں تاکہ لوگوں کا ذہن بدلا جاسکے”۔

دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں اپوزیشن کو حکومت کے زیرکنٹرول روایتی میڈیا تک رسائی دینے سے انکار کردیا گیا تھا، اسکے بعد سے اپوزیشن نے انٹرنیٹ کے ذریعے نیوز میڈیا کو زیادہ استعمال کیا، یعنی سیاسی ریلیوں کی لائیو سٹریمنگ اور دیگر طریقہ کار وغیرہ، مگر اس کے ساتھ ساتھ حکمران اتحادبریسن انٹرنیشنلl نےروایتی میڈیا پر اپنی گرفت بہت زیادہ مضبوط کرلی۔

تاہم لیکچرار تم چی مےکے خیال میں روایتی طریقہ کار اب متعدد ملائیشین افراد کو بھاتا نہیں۔

تم چی”میرے خیال میں بریسن نیشنل کے اشتہارات انتہائی خراب ہیں، وہ مختلف برادریوں میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، یہ اتحاد مخصوصی جماعتوں پر بے بنیاد الزامات لگارہا ہے، جیسے کوئی خاص جماعت ایڈز کے پھیلاﺅ کا سبب بن رہی ہے، حکمران اتحاد ایک بار پھر اپنے پرانے حربوں پر عمل کررہا ہے”۔

مگر اس خوف و ہراس کے باوجود نوجوان ووٹرز جیسے الیگزینڈریا لوک کسی کے دباﺅ میں آنے کیلئے تیار نہیں۔

الیگزینڈریا “میرا نہیں خیال کہ اس طرح کے اشتہارات میرے ووٹ پر اثرات انداز ہوسکتے ہیں، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ اب ملائیشیا باشعور ہوچکا ہے اور یہاں خراب فیصلوں کی کوئی گنجائش نہیں”۔