Widows Seeking Salvation in Indian Holy City – بھارتی بیوہ خواتین

بھارتی شہر ورانسی میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد اپنے گناہ دریائے گنگا میں نہا کر ختم کرنے کیلئے آتے ہیں، ان میں بڑی تعداد میں بیوہ خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

شمال مشرقی بھارتی شہر وارنسی میں شام کا وقت ہورہا ہے اور ہزاروں ہندو یاتری دریائے گنگا کے پانیوں کے سامنے جمع ہوکر اپنے مذہب کے مطابق عبادات میں مصروف ہیں۔یہ منظر دیکھنے میں انتہائی زبردست نظر آتا ہے اور سینکڑوں افراد کشتیوں پر بیٹھ کر اس نظارے سے محظوظ ہوتے ہیں۔

ہندو افراد کے خیال میں دریائے گنگا کا پانی ان کے گناہوں کو بھی بہا کر لے جاتا ہے، اور یہاں آنا ان کی زندگی کا بہت اہم سفر سمجھا جاتا ہے، متعدد افراد یہاں عبادت کی بجائے مرنے کیلئے بھی آتے ہیں۔

پونی گل دیوی کی عمر 93 برس ہے، وہ بیوہ خاتون ہیں اور وہ اپنی جیسی دیگر اٹھارہ خواتین کے ہمراہ ایک تین منزلہ عمارت میں مقیم ہیں۔ نیپال سے تعلق رکھنے والی پونی گلی دیوی کی شادی بارہ برسی کی عمر میں ہوگئی تھی اور ایک سال ہی وہ بیوہ ہوگئی تھیں۔اس دوران ان کی اپنے شوہر سے بھی کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور اس کے بعد انھوں نے اپنی پوری زندگی بیوہ کے طور پر گزاری۔

پو نی گلی”میرا پورا خاندان ختم ہوچکا ہے اور میں وارنسی میں چالیس سال قبل آئی تھی، تاکہ یہاں پناہ لے سکوں اور مرنے کے بعد گناہوں سے نجات پاسکوں”۔

اکثر اپنے خاندان یا برادری میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والے بیوہ خواتین وارنسی آجاتی ہیں، تاکہ یہاں ان کی آخری رسومات ادا کی جاسکیں، ہندو مذہب کے مطابق وارنسی میں موت سے موکشاملتی ہے، یعنی ایسے افراد کو بار بار جنم لینے کی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔

وینیت شرما ایک این جی او سولابھ انٹرنیشنل کی پروگرام کوآرڈنیٹر ہیں۔

ونیتا”خواتین کو متعدد مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، وہ بیوہ ہوجاتیں ہیں تو انہیں خاندان سے نکال باہر کیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ وارنسی آنے کا سوچتی ہیں، وارنسی ماں گنگا کا گھر ہے، وہ یہاں اپنے گناہ دھونے آتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ انہیں موکشا ملے”۔

انکا کہنا ہے کہ بھارت میں بیوہ خواتین اکثر شودر بنادیا جاتا ہے اور ان کی زندگیوں کو جہنم بنادیا جاتا ہے۔

وینیتا”بھارت میں شوہر کو خاندان کا سربراہ سمجھا جاتا ہے، ایک بار جب کوئی عورت بیوہ ہوجاتی ہے تو لوگ اسے خاندان پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انہیں خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں کپڑوں کی ضرورت ہے، ان کی متعدد بنیادی ضروریات ہوتی ہیں”۔

بیواﺅں کو اکثر دوبارہ شادی نہیں کرنی دی جاتی۔

سینتیس سالہاناپرنا شرماچہل قدمی کررہی ہیں۔

انوپما شرما”میری شادی اکیس سال کی عمر میں ہوئی اور پانچ سال بعد میں بیوہ ہوگئی۔ جیسے ہی میرے شوہر کی چتا جلائی گئی اور آخری رسومات ادا ہوئی، میرے سسرال والوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ میرے پاس کہیں اور جانے کی گنجائش نہیں تھی اور میری زندگی ختم ہوگئی تھی”۔

انوپما شرما تیرہ سال اس عذاب میں مبتلا ہیں، حال ہی میں انوپما سمیت دیگر پچیس بیواﺅں نے این جی اوسلبھا انٹرنیشنل سے مدد لینا شروع کی ہے۔انھوں نے کچھ رقم امداد میں دی جارہی ہے اور پہلی بار انہیں صاف پانی اور بجلی کی سہولت بھی میسر آگئی ہے۔

انوپما”زندگی اب کافی بہتر ہوگئی ہے اور میرا اعتماد بھی بڑھا ہے، اب میں نے تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایک استاد بن سکوں”۔