Why China Loves Cosmetic Surgeryچین میں پلاسٹک سرجری کا رجحان

چین میں ملازمتوں اور شادیوں کی مسابقت کے باعث پلاسٹک سرجری کا رجحان عام ہوگیا ہے، چینی شہری اس وقت سالانہ ڈھائی ارب ڈالرز اپنی خوبصورتی میں اضافے کیلئے خرچ کررہے ہیں اور اس شرح میں بیس فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

23 سالہ ڈون ژن یی بیجنگ کے نواح میں واقع ایک نجی ہسپتال ایور کیئرکی انتظارگاہ میں بیٹھی ہوئی ہیں،امیر اور نوجوان ملازمت پیشہ افراد کی بڑی تعداد پرکشش نظر آنے کیلئے اس ہسپتال کا رخ کرتی ہے، ڈون ژن یی یہاں ڈبل آ ئی لیڈز نامی سرجری کرانے کے لیے آئی ہیں، اسے جدید چینی خواتین کی خوبصورتی کا نشان سمجھا جاتا ہے۔

ڈون ژن یی”میں یہاں اپنے دوست کے کہنے پر آئی ہوں، یہاں میری آنکھوں کو خوبصورت بنایا گیا ہے، اس سے پہلے وہ زیادہ اچھی نہیں لگتی تھیں، مجھے یہاں کئی بار آپریشن کیلئے آنا پڑا اور آج میرا چیک اپ ہوگا، تاہم میں ڈاکٹروں کے کام سے مطمئن ہوں”۔

ڈبل ائی لیڈز آپریشن کا خرچہ پندرہ سو ڈالرز ہے، اتنی ہی رقم ناک کو سنوارنے میں لگتے ہیں۔ ڈون کے ڈاکٹر لن یو کن ہیں وہ ہر ہفتے درجنوں مریضوں کو دیکھتے ہیں۔

لن یو کن”ایور کیئر آنے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے، ہمارے چین بھر میں سولہ کلینکس ہیں اور ہم ہر سال تین لاکھ کے قریب خواتین کا چیک اپ کررہے ہیں، ہمارا کلینک اب چین کا سب سے بڑی کاسمیٹک سرجری کلینک بن چکا ہے اور ہمارے کاروبار میں سالانہ ایک سو تیس فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے”۔

ایور کیئرکا رخ کرنے والوں میں اکثریت خواتین کی ہی ہوتی ہے تاہم کچھ تعداد مردوں کی بھی ہے۔

لن”ہمارے پاس آنے والی بیشتر لڑکیاں ناک اور آنکھوں کی سرجری کیلئے آتی ہیں، ایک اور کیٹیگری ملازمت پیشہ خواتین کی ہے جن کی عمریں 35 سال سے زائد ہیں، جو اپنی شخصیت جوان نظر آنے اور عمر کے اثرات کی رفتار سست کرنے کی درخواست کرتی ہیں، ہم ان کی پیشانی، ناک اور منہ پر کام کرتے ہیں، جس کے بعد وہ اپنے علاج کیلئے اکثر آتی رہتی ہیں”۔

ایک رپورٹ کے مطابق پلاسٹک سرجری کے آپریشنز کے حوالے سے چین امریکہ اور برازیل کے بعد تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے، اقتصادی ترقی کے بعد چین میں اس صنعت کو بہت زیادہ فروغ ملا ہے، طبی ماہرون ہووانے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام بائینگ بیوٹی : کاسمیٹک سرجری ان چائیناہے۔ انکا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین پلاسٹک سرجری کو ایسی سرمایہ کاری سمجھتی ہیں جو ان کی سماجی اور پیشہ وارانہ کامیابی کے مواقعوں کو بڑھا دیتی ہے۔

ون ہووا”ماضی میں لوگ اس بات کا اعتراف نہیں کرتے تھے کہ انھوں نے کاسمیٹک سرجری کرائی ہے، مگر اب زیادہ سے زیادہ افراد اس کو تسلیم کرلیتے ہیں، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے کس طرح کی سرجری کرائی ہے، مثال کے طور پر چہرے، ناک یا آنکھوں کی سرجری وغیرہ کے بارے میں تو باآسانی تسلیم کرلیتے ہیں”۔

تاہمون ہو وااس طلب کے نتیجے میں غیر تربیت یافتہ سرجنز میدان میں آنے پر فکرمند ہیں۔

ہووا”حکومت کو اس حوالے سے قوانین مرتب کرنا ہوں گے کہ کس طرح کے ہسپتال اس طرح کی سرجری کرسکتے ہیں، کیونکہ اس وقت یہاں متعدد غیرتربیت یافتہ سرجن یہ کام انتہائی کم قیمت پر کررہے ہیں، جو متعدد خواتین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا سبب بن رہا ہے”۔

ایور کیئرکلینک میں ڈاکٹر لن خدمات کی اہمیت اور تحفظ پر زور دے رہے ہیں۔

لن “زیادہ سے زیادہ مرد موجودہ دور میں یہ سرجری کرارہے ہیں، وہ اکثر ناک اور آنکھوں کی بحالی نو کیلئے آتے ہیں، چونکہ وہ لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اس لئے وہ اپنی آنکھوں کے ارگرد کی جگہ ٹھیک کرانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں”۔

لوگ جیسے ڈونگ ژن یی کیلئے پرکشش شخصیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔

ڈونگ ژن یی “میں نے اپنے دوستوں اور دیگر افراد کو بتایا ہے کہ میں نے بھی اپنی آنکھوں کا آپریشن کرایا ہے”۔