Written by prs.adminSeptember 28, 2012
(Who is ‘Burmese’?)برمی شہریت
Asia Calling | ایشیا کالنگ . International Article
برسوں سے مغربی برمی ریاست Rakhine میں مقیم روہینگہ مسلمانوں کو برما کا شہری ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ابھی اس علاقے میں بدھ بھکشوﺅں کے مسلمانوں پر حملوں کے بعد سے ہنگامی حالت نافذ ہے۔یورپی یونین نے ان مسلمانوں کو برمی شہریت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آج کل آنگ سان سوچ جہاں بھی جاتی ہیں انہیں روہینگہ افراد کے مسئلے پر سوالات کے جوابات ضرور دینا پڑتے ہیں۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھی پریس کانفرنس کے دوران اس سے پہلا سوال ہی روہینگہ مسلمانوں کو شہریت دینے کے حوالے سے پوچھا گیا۔
آنگ سان سوچی(female) “ہمارے ملک میں طویل عرصے سے شہریت کے حوالے سے قانون موجود ہے۔ ہم اپنے قوانین کے مطابق برمی شہریوں کا تعین کرتے ہیں۔ تاہم ہمیں اپنے قوانین پر نظرثانی کرکے اسے عالمی معیار کے مطابق لانا چاہئے اور اس میں بنیادی انسانی حقوق کا عنصر بھی شامل کرنا چاہئے۔ بات صرف شہریت کے قانون کی نہیں، بلکہ اس پر عملدرآمد کی بھی ہے۔ اس وقت ہم صرف قوانین کی بات کررہے ہیں مگر اس کے نام پر ہونیوالے جرائم پر کوئی بولنے کو تیار نہیں”۔
چند ہفتے قبل برمی دارالحکومت رنگون اور ایک اور شہر Mandalay میں روہینگہ مسلمانوں کے خلاف مسلسل مظاہرے ہوئے۔ان مظاہروں میں سینکڑوں بدھ بھکشوﺅں نے شرکت کی، جس میں صدر سے اپنی سرزمین کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔یہ بھکشو صدر کے اس موقف کی تائید کررہے تھے کہ روہینگہ برمی شہری نہیں۔
رواں سال جولائی میں صدر Thein Sein نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ Antonio Guterres کو تجویز دی تھی کہ برما تمام روہینگہ مسلمانوں کو اس ملک میں بھیجنے کیلئے تیار ہے جو انہیں قبول کرلے۔
ریاست Rakhine میں جون کے مہینے میں شروع ہونے والے فسادات میں درجنوں مسلمان مارے گئے، جبکہ ہزاروں بے گھر ہوگئے۔انسانی حقوق کے اداروں نے برما پر مسلمانوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز استعمال کرنے کا بھی الزام عائد کیا، اب یورپی پارلیمنٹ نے برمی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1982ءکے شہریت کے متنازعہ قانون پر نظرثانی کریں، جس میں روہینگہ برادری کو شہریت کیلئے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
رنگون میں ایک کانفرنس کے دوران اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایک مسلم جماعت کے نمائندے نے تجویز دی کہ شہریت کے قانون کو تبدیل کیا جانا چاہئے۔
(male) participant ” 1982 ءکا قانون نسل پرستی کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ قانون برما میں قومی شناخت کو تشکیل دینے میں رکاوٹ ہے، اس میں ترامیم کی جانی چاہئے”۔
کانفرنس میں Rakhine Nationalities Development Party کے چیئرمین Dr. Aye Maung نے بھی شرکت کی، انکا اصرار تھا کہ قانون میں تبدیلی نہ کی جائے۔
(male) Dr. Aye Maung “ہمارے پڑوسی ممالک کی آبادی بہت زیادہ ہے، بنگلہ دیش میں اٹھارہ کروڑ افراد مقیم ہیں، تو بھارت اور چین کی آبادی تو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہم ان تینوں ممالک کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے ہیں، لوگ 1982ءکے قانون کو بے کار قرار دے سکتے ہیں، مگر یہ ہمارا قانون ہے جسے تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی ہمارا ہونا چاہئے۔ غیرملکیوں کو ہمارے ملک کے مسائل میں جج بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، میں اس بات کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا”۔
اس متنازعہ قانون میں برما میں مقیم قبائل اور نسلی گروپس کی وضاحت کی گئی ہے مگر ان میں روہینگہ برادری شامل نہیں۔ اس قانون کے مطابق برما میں 1823ء قبل سے برادریوں کو برمی شہری سمجھا جائے گا، Thein Nyut، رکن پارلیمنٹ اور نیو نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ وہ اس قانون کی حمایت کرتے ہیں۔
(male) Thein Nyut “یہ قانون بہت اہم ہے کیونکہ ہماری خودمختاری کا تحفظ کرتا ہے، اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہماری سرزمین غیرملکیوں کے قبضے میں نہ جائے۔ میں انسانی ہمدردی کے نام پر اس حوالے سے جاری بحث کا حصہ نہیں بننا چاہتا، تاہم ایک برمی شہری یا رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے میں یورپی پارلیمنٹ کے مطالبے سے متفق نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ قانون ہی موجودہ بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے”۔
اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت برما میں آٹھ لاکھ روہینگہ مسلمان مقیم ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ برادری برصغیر پر برطانوی قبضے کے دوران برما آئی تھی۔ گزشتہ ماہ برمی صدر نے حالیہ تشدد کی وجوہات جاننے کیلئے ایک کمیشن تشکی دیا تھا، جسے قبائلی علاقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا کام بھی سونپا گیا۔Ko Ko Gyi اس کمیشن کے رکن ہیں۔
(male) Ko Ko Gyi “ماضی میں صورتحال اس سے بھی زیادہ بدتر تھی، حالیہ برسوں میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں، مگر وہ ماضی کی طرح بہت زیادہ بدتر نہیں تھے، تاہم ان واقعات کے باعث برما سے نقل مکانی کرنیوالے افراد کی تعداد بڑھی ہے”۔
برما میں روہینگہ برادری کو بنگلہ دیش سے آنیوالے غیرقانونی تارکین سمجھا جاتا ہے، مگر بنگلہ دیش اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ روہینگہ برادری کا برا حال ہے۔ اب واپس رنگون میں ہونیوالی کانفرنس میں چلتے ہیں، U Tin Htut Oo کا ماننا ہے کہ برمی بھکشوﺅں کو اس حوالے سے زیادہ دباﺅ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔
(male) U Tin Htut Oo “جغرافیائی طور پر برما بڑے ممالک کے درمیان واقع ہے اور یہ بات آج کی نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی ہے، مگر اس کے باوجود ہماری منفرد شناخت برقرار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس قومی شناخت موجود ہے۔ ہماری اپنی ثقافت ہے، برما میں لوگ آسانی سے گرجا گھر، مساجد، بدھ اور ہندو مندر ایک ہی جگہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس قسم کے مناظر دیگر ممالک میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ برما دنیا کیلئے رول ماڈل بن سکتا ہے”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | 2 | 3 | 4 | |||
| 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 |
| 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 |
| 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 |
| 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | |

Leave a Reply