UN resolution raises Sri Lanka-India tensions اقوام متحدہ کی قرارداد سے سری لنکا اور بھارت کے درمیان کشیدگی

(India Sri Lanka resolution) بھارت سری لنکا قرارداد

بھارت نے حال ہی میں اقوام متحدہ میں سری لنکا کیخلاف جنگی جرائم کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

بھارت واحد جنوبی ایشیائی ملک تھا جس نے سری لنکا کیخلاف اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کی۔ دلیپ سنہا اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر ہیں۔

دلیپ سنہا(male) “اس قرارداد کو سری لنکا میں مصالحت اور احتساب کا فروغ کا نام دیا گیا ہے۔انسانی حقوق کونسل کے رکن ہونے کے ناطے انسانی حقوق کا تحفظ ہم پر فرض ہے، ہمارے سری لنکا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اس لئے ہم وہاں مصالحتی کوششوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں”۔

سری لنکا نے اس قرارداد کو رکوانے کیلئے کافی کوششیں کیں، تاہم اسے گزشتہ ماہ 24 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کرلیا گیا، جبکہ اس کے خلاف پندرہ ووٹ آئے، اور آٹھ ممالک غیر حاضر رہے۔ سری لنکا کیخلاف قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے کیلئے بھارتی حکومت پر متعدد سیاسی جماعتوں اور چھ کروڑ تامل افراد کا شدید دباﺅ تھا۔ بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کے ایک اتحادی نے قرارداد کی حمایت نہ کرنے کی صورت میں حکومت چھوڑنے کی بھی دھمکی دیدی تھی۔Kani Mozhi، بھارتی ریاست تامل ناڈو میں اپوزیشن پارٹی Dravida Munnetra Kazhagam کی رہنماءہیں۔ اس ریاست کے سری لنکن تامل شہریوں سے ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں۔

 (female) Kani Mozhi  “ہم قرارداد پر بھارت کی حمایت پر خوش ہیں، اس قرارداد کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے تامل شہریوں کو ان کے حقوق، بحالی نو اور انصاف کی ضمانت ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بہت خوش ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ سری لنکن حکومت تامل افراد کی ترقی کیلئے کام کرے گی”۔

بھارت کی چند قومی جماعتیں جن میں کمیونسٹ پارٹی بھی شامل ہے ، اس قرارداد کے حق میں ہیں، ڈی راجا کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں۔

راجا(male) “بھارت سری لنکا کا ہمسایہ ہے اور وہ وہاں کی صورتحال کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ وہاں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں، جن کا حساب لیا جانا چاہئے۔ وہاں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں، آخر ہم انہیں کیسے بھول سکتے ہیں”۔

گزشتہ برس جاری ہونیوالی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سری لنکن فوج اور تامل ٹائیگرز نے سری لنکا میں 26 سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے اختتامی ایام میں عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی تھیں، جس کے نتیجے میں چالیس ہزار شہری ہلاک ہوگئے۔، تاہم سری لنکن حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار سے بھی کم ہے۔ اگرچہ بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے سراہا جارہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناﺅ پیدا ہوجائیگا۔معروف رضا بھارتی ڈیفنس ری ویو نامی جریدے کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ وہ اسے اسٹرٹیجک غلطی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت کو اسکی قیمت چکانا پڑے گی۔

رضا(male) “ہمسایہ ممالک سے تعلقات بڑھانے کے برعکس افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم اپنے پڑوسی ممالک جیسے نیپال، بنگلہ دیش یہاں تک کہ مالدیپ کی ہمدردیاں کھوچکے ہیں، اب ان ممالک میں چین اثررسوخ حاصل کرچکا ہے، اب ہم نے سری لنکا میں بھی چین کو موقع فراہم کردیا ہے، کیونکہ قرارداد کی حمایت کرنا کولمبو اور نئی دہلی کے تعلقات پر طویل المدت اثرات مرتب کرے گا”۔

سری لنکا نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اس پر بھارتی حمایت پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ Bandula Jayasekara سری لنکا کے صدارتی ترجمان ہیں۔

” (male) Bandula Jayasekaraیہ قرارداد غیرضروری ہے، ہم پہلے ہی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہمیں جنگی جرائم کے حوالے سے وقت دیا جائے”۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس قرارداد کو بھارت نے بہت نرم کر دیا تھا، اور اس نے پابندیوں کے نفاذ کی بجائے اقوام متحدہ کو جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے سرگرم کردار ادا کرنے کیلئے کہا، جس کا مطلب ہے کہ سری لنکا پر زور تو ڈالا جاسکتا ہے مگر اقدامات کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کی حمایت اسی وقت کی جب اس میں سے سخت الفاظ کو نکال دیا گیا۔تاہم سری لنکن صدارتی تر جمان کا کہنا ہے کہ اس سے سری لنکا کو نقصان پہنچا ہے۔

 (male) Jayasekara “جب آپ کہتے ہیں کہ سری لنکا کیخلاف قرارداد منظور ہوگئی ہے تو پوری دنیا ان الفاظ کو ہی دیکھتی ہے، اب وہ سخت ہو یا نرم ہے تو وہ قرارداد ہے تو سری لنکا کیخلاف ہی”۔

دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ اس قرارداد سے ان کے باہمی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، تاہم سری لنکا میڈیا کا رویہ بہت جارحانہ ہے۔ سری لنکن میڈیا بھارتی موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہا ہے۔ Sandeep Dikshit سنیئر بھارتی صحافی ہیں۔

 (male) Sandeep Dikshit “ہمین توقع ہے کہ سری لنکن صدر Rajapakse اس تنقید کو کم کریں گے جو سری لنکن اخبارات میں بھارت کیخلاف ہورہی ہے۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں قرارداد سے تکلیف ہوئی ہے تاہم ایک ہفتے، پندرہ روز یا ایک ماہ بعد توقع ہے کہ اخبارات میں مدبرانہ تجزئیے سامنے آئیں گے”۔

اقوام متحدہ کی قرارداد سے تمام تامل گروپس مطمئن نہیں۔ تامل مصنف G. Nani Sankaran اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔

 (male) G. Nani Sankaran “ہمارا اس بارے میں بالکل مختلف نقطہ نظر ہے۔ہم اس قرارداد کو بہت کمزور سمجھتے ہیں، جس میں سری لنکا کی مذمت تک نہیں کی گئی ۔ یہ جنگی جرائم کے بارے میں بات نہیں کرتی، اس میں جنگی جرائم کے حوالے سے بین الاقوامی آزادانہ تحقیقات کا حکم دینے کے بارے میں بھی بات نہیں کی گئی، یہ سب چیزیں اس میں موجود نہیں۔درحقیقت ہماری نظر میں تو یہ سازش ہے اور سری لنکا اسکی مصنوعی مخالفت کررہا ہے۔ یہ قرارداد تو درحقیقت سری لنکا کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور بھارتی حکومت اس قرارداد کے ذریعے سری لنکا کی حمایت کررہی ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *