Turning Rural Indian Women Into Solar Engineersبھارتی خواتین سولر انجنئیر بننے لگیں

بھارت کی ستر فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے جن کی بڑی اکثریت غربت کا شکار ہے، ایک رضاکار گروپ غریب خواتین کی مدد شمسی توانائی کے ذریعے کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بیس سالہ سونینا داس ایک شمسی لیمپ تیار کرنے کیلئے درکار سامان لیکر جارہی ہے، سونینا لکھنا پڑھنا تو نہیں جانتی مگر وہ اب ایک سولر انجنئیر بننے کی تعلیم ضرور حاصل کررہی ہے۔

سونینا داس”میں یہاں تربیت کیلئے آئی ہوں، مجھے یہاں آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا بلکہ صرف دس روز ہوئے ہیں، میں یہاں جو سیکھ رہی ہوں وہ میرے لئے بالکل نیا ہے، ایک بار جب میں سب کچھ سیکھ لوں گی تو میں واپس جھاڑکھنڈ چلی جاﺅں گی”۔

وہ ان پچیس خواتین میں سے ایک ہیں جو جھاڑ کھنڈ سے شمسو توانائی کے حوالے سے چھ ماہ کی تربیت کیلئے راجھستان کے اس بیئر فٹ کالج آئی ہیں۔

بیئر فٹ کالج کا قیام چالیس سال قبل عمل میں آیا تھا، معروف ٹیڈز ٹاک شومیں کالج کے بانی بنکر رائے نے بتایا کہ وہ دیہی علاقوں کی خواتین کی مدد شمسی توانائی کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔

بنکر رائے “ہمارے کالج میں کھانا شمسی چولہے پرپکایا جاتا ہے، یہ چولہا خواتین نے بنایا ہے، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ان پڑھ خواتین ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے انتہائی زبردست شمسی چولہا تیار کیا ہے”۔

ہر سال اس کالج میں سو خواتین کو چھ ماہ تک سولر انجنئیرنگ کی تربیت دی جاتی ہے،رام نیواس کالج کی ترجمان ہیں۔

رام نیواس”بیئر فٹ کلالج میں خواتین کو سیکھایا جاتا ہے کہ کس طرح سولر سسٹم کو اسمبل کیا جائے اور کس طرح اسکی مدد سے گھروں میں روشنی کا نظام بنایا جاسکتا ہے۔ چھتوں پر ایک پینل لگایا جاتا ہے جسے ایک بیٹری چارج کنٹرولر سے کنکٹ کیا جاتا ہے، تو یہ چارج کنٹرول اسمبل کیا جاتا ہے، مستقبل میں اگر ان خواتین کے گھر میں کوئی برقی فنکشن کام نہ کررہا ہوا تو یہ خود اسکی مرمت کرلیں گی”۔

انکا کہنا ہے کہ اس پروگرام کیلئے خواتین کے انتخاب کی ایک وجہ ہے۔

رام نیواس”اگر ہم خواتین کو تربیت دیں گے تو پورا خاندان کو ان خواتین سے فائدہ ہوگا، خصوصاً دیہی علاقوں میں جہاں مرد بہتر ملازمت کیلئے شہروں کا رخ کرلیتے ہیں، یعنی مرد چلے جاتے ہیں اور خواتین دیہات میں بچوں کیساتھ رہتی ہیں، تو اگر ہم ان دیہی خواتینکو تربیت دیں تو وہ شمسی توانائی کی انجنئیر بن کر اپنے خاندان کیلئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں”۔

کالج میں خواتین کو پیچیدہ شمسی توانائی کی تیکنیکس آسان طریقے سے رنگوں اور نمبروں کی مدد سے سیکھائی جاتی ہیں، یہاں پڑھانے والے بھی ان پڑھ ہیں، تاہم وہ بتارہے ہیں سولر سسٹم کس طرح کام کرتا ہے۔

رام نیواس اس حوالے سے اظہار خیال کررہی ہیں۔

رام نیواس “کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان پڑھ افراد کیسے اپنے جیسے ان پڑھ افراد کو تربیت دے سکتے ہیں؟ اس حوالے سے ہم نے اپنا نصاب تیار کیا ہے، جس میں سیاہ رنگ کو صفر قرار دیا گیا، سرخ دو ہے اور نارنجی تین نمبر ہے۔ تو سورج کے تمام رنگوں کو ہم نے اس طرح استعمال کرلیا ہے، اس طرح ان پڑھ خواتین رنگون کے ذریعے بہت کچھ سیکھ لیتی ہیں”۔

سونینااب چھت پر لگائے جانے والے سولر پینل کے سیٹ اپ اور مرمت وغیرہ کا کام سیکھ چکی ہے اور اب وہ بے تابی سے گھر واپس جاکر اپنی اس معلومات کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔

سونینا”میرے گاﺅں میں ہمیں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں، مگر لائٹس لگانے سے ہمارے لئے اور بچوں کیلئے پڑھنا آسان ہوجائے گا، اگر وہ گھر میں پڑھ نہیں سکیں گے تو اسکول میں ان کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں ہوگی۔ خاص طور پر بچوں کیلئے یہ ایک بہت بڑا فرق ثابت ہوگا”۔