ہمیں معلوم ہے کہ کتابیں اور قلم پڑھائی کیلئے اہم ہیں، مگر بیت الخلاءیا ٹوائلت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نیپال میں حکومت نے اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے دو ہزار ٹوائلٹس تعمیر کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کھٹمنڈو کے شری کرشنا اسکول میں اس وقت کھانے کا وقفہ ہے، طالبعلموں کو کھانے اور کھیلنے کیلئے صرف پندرہ منٹ دیئے گئے ہیں۔
لڑکے فٹبال کھیل رہے ہیں، جبکہ لڑکیوں کی بڑی قطار بیت الخلاءمیں جانے کیلئے کھڑی ہے، اس اسکول میں تین سو کے قریب طالبعلم زیرتعلیم ہیں، جبکہ لڑکے اور لڑکیوں کیلئے ٹوائلٹس کی تعداد صرف دو ہے۔ چودہ سالہ سپنا پداسینی میٹرک کی طالبہ ہے۔
سپنا”ایک سال قبل ہمیں اپنی حاجت پوری کرنے کیلئے کھیتوں میں جانا پڑتا تھا، اور اب ہم ٹوائلٹ کیلئے قطار لگاتی ہیں، کئی بار تو ایک ہی وقت میں دو یا تین افراد بیت الخلاءکو استعمال کرتے ہیں، تاہم کئی بار ہم ایک ایک کرکے جاتی ہیں، اس سے زیادہ وقت لگتا ہے، اور اگر ہم کلاس میں تاخیر سے پہنچے تو ہمارے اساتذہ ہمیں ڈانٹتے ہیں”۔
کھانے کا وقفہ ختم ہوگیا، مگر قطار ابھی بھی کافی لمبی ہے، جبکہ اگلی پانچ منٹ کا وقفہ 45 منٹ بعد ہونا ہے۔
سپنا”ہمیں اس ٹوائلٹ کو لڑکوں کیساتھ شیئر کرنا پڑتا ہے، اور لڑکے ہمارے مسئلے کو سمجھ نہیں سکتے، خصوصاً کچھ دن تو ایسے ہوتے ہیں ہمیں یہ عمل خود پر تشدد جیسا لگتا ہے”۔
ایک حالیہ حکومتی رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں میں اوسطاً ہر سو طالبعلموں کیلئے ایک بیت الخلاءدستیاب ہے، پندرہ سالہ سنیتا وہاب کا کہنا ہے کہ اس سے لڑکیوں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔
سنیتا”خاص ایام میں ہمیں گھر واپس جانا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں ان دنوں اسکول نہیں جاتی اور مجھے چار یا پانچ روز چھٹی کرنا پڑتی ہے، اس غیرحاضری کے باعث میں اپنے نصاب کو اچھی طرح سمجھ نہیں جاتی جس سے میری پڑھائی متاثر ہوتی ہے”۔
استاد ییسودا خاتی واسا اس مسئلے کو سمجھتی ہیں، انھوں نے اسکول انتظامیہ کو اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے بیت الخلاءتعمیر کرنے کیلئے زور ڈالا ہے۔
ییسودا” یہاں کپڑے بدلنے کا کوئی کمرہ نہیں اور نہ ہی پانی کی سپلائی کا مناسب انتظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کافی لڑکیاں مہینے میں کئی روز اپنے گھروں میں گزارتی ہیں، اگر وہ اسکول آتی بھی ہیں تو وہ چھٹی لیکر گھر واپس چلی جاتی ہیں۔ ان چھٹیوں کی وجہ سے ان کی تعلیم کافی متاثر ہوتی ہیں”۔
حکومتی رپورٹ کے مطابق اس مسئلے کے باعث پچاس فیصد لڑکیاں میٹرک تک اسکول چھوڑ دیتی ہیں۔
حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے رواں برس سرکاری اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے دو ہزار بیت الخلاءتعمیر کرارہی ہے، اس سلسلے میں ہر اسکول کو دو ہزار ڈالرز دیئے جارہے ہیں۔ جھپر سنگھ بسوکراما، محکمہ تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔
جسپیر”حکومت نے ٹوائلٹس کی تعمیر کیلئے مالی معاونت فراہم کردی ہے، ہمیں توقع ہے کہ اس سے اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے زیادہ اچھا ماحول قائم ہوسکے گا، اگر وہ مسلسل اسکول آئیں گی تو ان کی تعلیمی کارکردگی بھی بہتر ہوگی، اور اسکول چھوڑنے کی شرح بھی کم ہوگی”۔
تاہم سب اتنے پرامید نہیں، جگدیش پرشاد سنگھ شری کرشنا اسکول کے پرنسپل ہیں۔
جگدیش”یہ بہت اچھا منصوبہ ہے مگر حکومت نے زیادہ رقم فراہم نہیں، اس نے صرف بیت الخلاءکی تعمیر کا ساٹھ فیصد بجٹ دیا ہے اور باقی کا انتظام ہمیں خود کرنا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ہمیں طالبعلموں سے کوئی فیس لینے سے بھی روک دیا ہے، ہمارے اسکول میں بیشتر طالبعلم انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، تو آخر ہم ٹوائلٹس کی تعمیر کیلئے رقم کا انتظام کیسے کریں گے؟”
مگر کچھ اسکول جیسے پٹن ہائی اسکینڈری اسکول نے حال ہی میں کئی ٹوائلٹس تعمیر کئے ہیں، میٹرک کی طالبہ اسمیتا لاما بہت خوش ہیں۔
لاما”اب ہمیں اسکول میں کوئی مشکل نہیں ہوتی، اب ہم آرام سے ٹوائلٹ جاسکتے ہیں، ہم سب بہت خوش ہیں”۔