Burma new politics برما کی نئی سیاست
برما میں ضمنی انتخابات آئندہ ماہ ہونیوالے ہیں، جس میں شرکت کے لئے اپوزیشن پارٹی نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی یا این ایل ڈی بھی تیار ہے۔ان انتخابات کے حوالے سے نوجوانوں میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے،
اپوزیشن لیڈر Aung San Suu Kyi کو طویل عرصے سے برمی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے، برما کو آزاد کرانے والے قائد Suu Kyi کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے بھی وہ ایک سیاسی حیثیت رکھتی ہیں۔ برسوں تک گھر میں نظربند رہنے کے بعد وہ ایک بار پھر سیاست کے میدان میں سرگرم ہوچکی ہیں، اور انکی جماعت این ایل ڈی آئندہ ماہ ہونیوالے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ برمی دارالحکومت رنگون میں Aung San Suu Kyiاپنی پارٹی کے امیدواروں کا تعارف کرارہی ہیں۔
Aung San Suu Kyi(female)” Daw Suu Suu Lwinکے مرحوم والد U Lwinایک محب وطن فوجی تھے، جنھوں نے ہماری آزادی کے لئے جدوجہد کی۔U Lwin نے ہمارے ملک کی آزادی، وقار اور عزت کے لئے قربانیاں دیں، وہ ہماری جماعت کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی رہے۔انھوں نے 1990ءکے انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی تھی، اسی لئے میری درخواست ہے جن افراد نے انہیں 1990ءمیں کامیاب کرایا، اب وہ ان کی بیٹی کو بھی ووٹ ڈالیں”۔
Zayar Thaw برما کو نوجوان Hip-hop اسٹار ہیں، وہ زیرزمین سرگرمیوں میں ملوث نوجوانوں کے ایک گروپ Generation Wave کے بانی بھی ہیں۔فوجی حکومت کے دور میںانہیں چار برس جیل میں قید بھی رکھا گیا، اور ان کی رہائی گزشتہ برس مئی میں ہوئی۔ اب وہ این ایل ڈی میں شامل ہوچکے ہیں۔
Zayar(male)”ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس لئے مجھے نہیں لگتا کہ اس حلقے سے انتخاب لڑنا کوئی بڑا چیلنج ہے۔ فوجی افسران اور سول حکام کو اس حلقے میں غلبہ حاصل ہے، مگر انہیں اس حلقے کے عام عوام کی مخالفت کا سامنا ہے۔ یہ انتخابات جمہوریت کی جانب پہلا قدم ہے، پارلیمنٹ پہنچ کر میں نئے قوانین متعارف کراﺅں گا اور عوام دشمن قوانین کو ختم کروانے کی کوشش کروں گا۔ میں ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑا رہوں گا چاہے انتخابات میں کامیابی ملے یا نہ ملے”۔
یہ Pobba Thiri نامی علاقہ کا حلقہ کا ہے، جو دارالحکومت کے نواح میں واقع ہے۔ 2010ءکے انتخابات میں دارالحکومت کے اس حلقے سے فوج کے حمایت یافتہ امیدوارAung Myint Oo نے کامیابی حاصل کی تھی۔اب وہ نائب صدر ہیں۔
Phyu Phyu Thin پہلی بار این ایل ڈی کے پلیٹ فارم سے انتخابی دنگل میں اتر رہی ہیں۔ وہ معروف سماجی کارکن ہیں اور رنگون کے نواح میں ایڈز کے مریضوں کے لئے ایک طبی مرکز چلاتی ہیں۔
Phyu Phyu Thin(female)”میں عوام کی مشکلات اور مصائب کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گی۔ اس وقت میں دیگر افراد کی طرح وعدے نہیں کرنا چاہتی، میں لوگوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے انہیں سبز باغ دکھانا نہیں چاہتی”۔
2007ءمیں انہیں Aung San Suu Kyi کی رہائی کیلئے ریلی نکالنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا، تاہم اسی برس انہیں ایک غیر ملکی ادارے کی جانب سے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے پر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
Phyu Phyu Thin(female)”میں اس حلقے میں کھڑی ہوئی ہوں، تاکہ میں عوام کی تمام مشکلات کا حصہ بن سکوں، میں ان کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ پارلیمنٹ میں پہنچ کر میں سب سے پہلے قانون کی حکمرانی کی جدوجہد کروں گی، اس کے بعد ملک میں امن کا قیام میری ترجیح ہے، اس کے علاوہ عوام دشمن قوانین کو ختم کرانا بھی میری ترجیحات میں شامل ہے”۔
این ایل ڈی کے ترجمان U Nyan Win کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو آگے لانا انکی جماعت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
U Nyan Win(male)”ہماری جماعت کے چند بنیادی اصول ہیں، جن کے تحت ہم نوجوانوں، اقلیتی فرقے اور خواتین کو بطور الیکشن امیدوار بناتے ہیں۔ میرے خیال میں 1990ءکے انتخابات کے موقع پر نوجوانوں نے سیاست میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا ت ھا، مگر آج کی نوجوان نسل زیادہ پرعزم ہے اور اسے سیاست کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے۔ ہماری جماعت کے نصف سے زائد اراکین نوجوان ہیں۔ ہم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور انہیں آگے لائیں گے”۔
آئندہ ماہ ہونیوالے انتخابات کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ دیگر جماعتوں کے مقابلے میں این ایل ڈی کی جانب
سے زیادہ تر نوجوان ہی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ حال ہی میں شمالی برما کے دورے کے دوران Aung San Suu Kyi نے کہا تھا کہ وہ برمی سیاست میں ایک نیا رجحان متعارف کرارہی ہیں۔
Aung San Suu Kyi(female)”جمہوری روح رکھنے والے نوجوانوں کو آگے لانا ملکی مستقبل کیلئے ایک اچھا قدم ہے۔ یہ نوجوان جمہوری اقدار کو مضبوط کریں گے، جس سے ہمارا ملک ترقی کرے گا۔ نوجوان حامیوں کی تعداد مجھے ایک نیا حوصلہ دیتی ہے، نئی نسل آزادانہ خیال کی عادی ہوتی ہے۔نوجوانوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ کسی پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہر کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں”۔
دارالحکومت کے نزدیک واقع فوجی زون میں مقامی شہری رقص و موسیقی میں مصروف ہیں۔ وہ Suu Kyi اور انکی جماعت کو سراہ رہے ہیں۔
