(Pakistan Swat music) پاکستانی وادی سوات کی موسیقی
ماضی میں پاکستانی موسیقی اور ثقافت وادی سوات کی وجہ شہرت تھی۔ یہاں سے درجنوں گلوکار، موسیقار اور رقاص صوبہ خیبرپختونخواہ میں شہرت حاصل کر نے میں کامیاب ہوئے، تاہم طالبان دور میں فن ثقافت دم توڑنے لگا، مگر اب وہاں ایک بار پھر ثقافتی سرگرمیاں سر اٹھا رہی ہیں۔
یہ Bhanar گلی ہے، جو وادی سوات کے صدر مقام مینگورہ میں موسیقی پسندوں اور رقص کرنے والوں کا گڑھ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تنگ اور گرد سے اٹے گھر جابجا موجود ہیں۔ ایک گھر میں چودہ سالہ مسکان عزیز آج رات ہونیوالی شادی میں رقص کا مظاہرہ کرنے کیلئے ریہرسل کررہی ہے۔ باہر سرد شام اپنے سائے پھیلا رہی ہے تاہم مسکان گھنٹوں سے رقص میں مصروف ہونے کے باعث پسینے میں شرابور ہے۔
گھر کی دیواروں پر معروف پشتو گلوکاروں کی تصاویر لگی ہوئی ہیں، اور مسکان بھی ان کی طرح شہرت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ طالبان دور میں مسکان کو اس وقت اسکول چھوڑنا پڑا جب وہ پانچویں جماعت میں زیرتعلیم تھی۔2008ءمیں طالبان نے معروف پشتو گلوکارہ شبانہ کو قتل کیا تو مسکان اور اس کا خاندان وادی سے نقل مکانی کرگیا۔
شبانہ کو اس وقت قتل کیا گیا جب اس نے طالبان کے مطالبے اور دھمکیوں کے باوجود گلوکاری ترک کرنے سے انکار کردیا۔
جب فوج نے طالبان کو یہاں سے نکال باہر کیا تو مسکان اور یہاں سے جانیوالے دیگر خاندان آہستہ آہستہ گھروں کو واپس لوٹنے لگے۔ اب مسکان کی پوری توجہ موسیقی پر ہے اور اس نے اسکول نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسکان اور اس کے والد نے گلوکاروں اور سازندوں کا ایک گروپ تشکیل دیا ہے جو شادیوں اور دیگر تقاریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انہیں ہر ماہ پندرہ تقاریب میں مدعو کیا جاتا ہے، جس سے اس گروپ کو ماہانہ ساٹھ سے ستر ہزار روپے کی آمدنی ہوجاتی ہے، جس میں سے مسکان اور اس کے والد کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔
مسکان(female) “موسیقی میری روح اور میری زندگی ہے۔ ہمارے پاس موسیقی کے مہنگے آلات نہیں، بلکہ ہمیں بہت پرانے اور ناقص معیار کے آلات پر ہی گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم ساﺅنڈ سسٹم یا ریکارڈنگ کے لئے اسٹوڈیو خریدنے کے متحملنہیں ہوسکے۔ ہم تو بمشکل اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں، کیونکہ یہاں ہر چیز بہت مہنگی ہوگئی ہے”۔
اس وقت وادی سوات میں مسکان کی طرح پچاس گروپس سرگرم ہیں، اور موسیقی اس علاقے میں پھر جگہ بنانے لگی ہے۔
ایک معروف بازار نشاط کے قریب سی ڈیز اور کیسیٹیں فروخت ہورہی ہیں، یہ دکانیں ابھی حال ہی میں دوبارہ تعمیر ہوئی ہیں، جہاں پشتو گیتوں اور رقص وغیرہ کی سی ڈیز اور کیسیٹیں فروخت کی جارہی ہیں۔ طالبان نے ان دکانوں کو تباہ کردیا تھا یا انہیں صرف طالبان کے افکار کی سی ڈیز فروخت کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم اب دکاندار جیسے ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ کاروبار اچھا چل رہا ہے۔
دکاندار(male) “مارکیٹ کے مالکان نے طالبان کے دور میں سی ڈیز اور کیسیٹوں کی فروخت کیلئے دکانیں کرائے پر دینے سے انکار کردیا تھا، اس وقت یہاں بم دھماکے عام تھے۔ اس وجہ سے دکانداروں کو آمدنی کے حصول کیلئے دیگر کاروبار پر توجہ دینا پڑی، تاہم کچھ دکانداروں نے سی ڈیز کی خفیہ فروخت جاری رکھی۔ اب گزشتہ ڈیڑھ برس سے کیسیٹیں ایک بار پھر مقبول ہوگئی ہیں اور لوگ انہیں پھر سے خریدنے لگے ہیں۔ اب ہم روزانہ تین ہزار کیسیٹیں بھی فروخت کرلیتے ہیں”۔
مسکان کے گھر کے باہر اڑتالیس سالہ اکبر خان اپنی میوزک شاپ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ بھی گلوکاروں اور رقص کرنیوالے گروپس کی پرفارمنس کا کام کرتے ہیں، تاہم انکا کہنا ہے کہ طالبان کی سوچ ابھی بھی موجود ہے اور متعدد لوگ ثقافتی سرگرمیوں کو باعث شرم قرار دیتے ہیں۔
اکبرخان (male) “کئی بار لوگ ہماری خواتین رقاصاﺅں اور گلوکاراﺅں سے جنسی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری لڑکیاں اس کام کیلئے رقص نہیں کرتیں، ہم گلوکار ہیں اور یہ ہمارا پیشہ ہے۔ حقیقی گلوکار اس طرح کے خراب کام نہیں کرتے، چاہے انہیں سونے میں ہی کیوں نہ تول دیا جائے”۔
مسکان نے مستقبل کے حوالے سے بڑے منصوبے بنارکھے ہیں۔ وہ ایک البم بنانا چاہتی ہے تاہم ابھی اس کے پاس وسائل موجود نہیں۔
مسکان(female) “میری خواہش ہے کہ میں بیرون ملک جاکر موسیقی کی تعلیم حاصل کروں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناﺅں۔ اگر میں ایسا کرپائی تو بیرون ملک کم از کم ایک سال کسی اچھے ادارے میں وقت گزاروں گی، تاہم ہم اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کو ہماری مدد کرنی چاہئے”۔