دنیا بھر میں آج کل کھیلوں کے شائقین لندن اولمپکس کے سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں، ان کھیلوں کے انعقاد کیلئے برطانوی حکومت نے بڑے بڑے کاروباری اداروں سے اسپانسرشپ حاصل کی، جن میں سے ایک Dow Chemical بھی ہے، جسے بھارتی عوام بھوپال گیس سانحے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لندن اولمپکس پر بھوپال میں زبردست مظاہرے کئے گئے اور متاثرین نے اپنے شہر میں خصوصی اولمپک گیمز کا انعقاد کیا۔
بھوپال اسپورٹس اسٹیڈیم میں ایک مختلف طرز کے اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب کا انعقاد ہورہا ہے۔درجنوں بچے شور مچاتے ہجوم کے سامنے پریڈ کررہے ہیں، ان میں سے بیشتر بچے ذہنی طور پر معذور، ہلکے سے مفلوج یا دیگر امراض کا شکار ہیں۔کچھ بچے وہیل چیئر جبکہ بیشتر اپنے والدین یا رشتے داروں کے سہارے پریڈ میں شامل ہیں۔اس اسٹیڈیم میں موجود تمام افراد تین دہائیوں قبل پیش آنے والے گیس سانحے کے متاثرین میں شامل ہیں۔
یہ بھوپال کے خصوصی اولمپکس ہیں، جس میں لندن گیمز کے بڑے ایونٹ کی بجائے اولمپک کی حقیقی روح دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، یعنی زندگی صرف فتح نہیں بلکہ جدوجہد کا بھی نام ہے۔یہ گیمز بھوپالی متاثرین نے منعقد کرائے ہیں اور یہ لندن میں اولمپکس مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے اگلے دن شروع ہوئے۔بارہ سالہ عمران بھی ان گیمز میں شامل ہے، وہ دماغی طور پر مفلوج ہے، اسی وجہ سے نہ تو چل سکتا ہے اور نہ ہی بات کرسکتا ہے۔زینت بیگم اس کی خالہ ہیں۔
زینت” Union Carbide (female) نے یہ ہمارے بچوں کے ساتھ کیا ہے۔یہ بچے خصوصی اولمپکس میں حصہ لے کر دنیا پر یہ حقیقت سامنے لانا چاہتے ہیں، ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ اس ادارے نے ہم پر کیا قیامت ڈھائی ہے”۔
Union Carbide Corporation امریکی کمپنی ہے جس کے ملکیت میں بھوپال میں کیڑے مار ادویات بنانے والا پلانٹ تھا، اس پلانٹ سے زہریلی گیس خارج ہونے سے 35 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ مقامی آبادیاں تاحال اس کے اثرات سے مشکلات کا شکار ہیں۔ Dow Chemical، نے دس برس قبل Union Carbide کو خرید لیا تھا، اور اس وقت Dow کیمیکل لندن اولمپکس کے بڑے اسپانسرز میں سے ایک ہے۔
بھوپال گیمز کی افتتاحی تقریب میں شامل چند شرکاءجھاڑو لیکر آئے ہیں، جو متاثرہ مقام سے زہریلا مواد صاف کرنے کے حوالے سے انکے مطالبے کی علامت ہے۔Rachna Dhingra ان گیمز کی منتظمین میں شامل ہیں۔
(female) Rachna Dhingra “یہ خصوصی اولمپکس Dowکیمیکل کو نہ صرف لندن گیمز بلکہ آئندہ دس برسوں کیلئے اسپانسرز میں شامل کئے جانے کے انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے فیصلے کے خلاف ہورہے ہیں، Dowکی کمپنی Union Carbide پچیس ہزار لوگوں کی اموات کی ذمہ دار ہے، لاکھوں بچے مفلوج یا معذور ہوگئے، جبکہ چالیس ہزار سے زائد افراد کو میسر پانی آلودہ ہوچکا ہے۔ آخر اس طرح کی کمپنی کو کس طرح اسپانسر بنایا جاسکتا ہے؟ ہم گزشتہ ڈیڑھ برس سے اولمپکس کی اسپانسر شپ سے Dow کو ہٹانے کیلئے مہم چلارہے ہیں، ہم نے برطانوی حکومت پر بھی دباﺅڈالا، مگر کچھ بھی نہ ہوسکا”۔
بھوپال عوام کی اس جدوجہد کو حالیہ چند واقعات سے بھی جھٹکے لگے، گزشتہ ماہ امریکی عدالت نے Union Carbide کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے کی ذمہ دار نہیں۔ اولمپکس کی اسپانسر شپ کے معاہدے نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپس اور سماجی کارکنوں کو احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے دو اراکین نے بھی Dowکو معاہدہ دیئے جانے پر پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ، جبکہ لندن اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سینکڑوں افراد نے برطانوی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ Tim Edwards بھی ان میں سے ایک ہیں۔وہ ایک فلاحی ادارے Bhopal Medical Appeal سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایڈورڈز“ (male) ڈاﺅ کیمیکل جو انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کی بڑی اسپانسر کمپنیوں میں شامل ہے، نے گیارہ برس قبل اس کمپنی کو خریدا تھا جو بھوپال سانحے کی ذمہ دار تھی۔ ڈاﺅ کیمیکل نے اس سانحے یا متاثرین کی دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں او آئی سی اور ڈاﺅ کیمیکل کو یاد دلانے کیلئے موجود ہیں کہ ہم اپنی جدوجہد انصاف ملنے تک جاری رکھیں گے”۔
رواں برس کے شروع میں بھارتی اولمپکس ایسوسی ایشن نے او آئی سی کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے Dowکو اسپانسر کمپنیوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا، جسے مسترد کردیا گیا۔ ایک موقع پر بھارتی حکومت نے لندن اولمپکس کے بائیکاٹ پر بھی غور شروع کردیا تھا، تاہم ایتھلیٹس کی تیاریوں کے پیش نظر اس تجویز پر عملدرآمد نہ کرنیکا فیصلہ کیا گیا۔سابق اولمپئن Ashwini Nacchapaکا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ڈاﺅ کو اسپانسرشپ ملنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بھارت میں ابھی بھی اس کمپنی کو کام کرنے کی اجازت حاصل ہے۔
(female) Ashwini Nacchapa“ڈاﺅ ابھی بھی سالانہ پانچ سو ملین ڈالر ہمارے بھارتی مارکیٹ سے کما رہی ہے۔ وہ اپنی مصنوعات بھارت میں فروخت کررہی ہے، آخر ہم اس معاملے پر احتجاج کیلئے باہر کیوں نہیں نکلتے؟ ہم اس کمپنی کی سرپرستی کررہے ہیں، اور اس کی مصنوعات خرید کر ہم اسے مزید بڑا کررہے ہیں۔ آخر اس معاملے پر کب کوئی اٹھ کر احتجاج کرے گا؟”
بھوپال اسٹیڈیم میں واپس چلتے ہیں جہاں خصوصی گیمز مکمل جوش و خروش سے جاری ہیں۔مختلف مقابلے جیسے crab walk ان بچوں کیلئے ہیں، جو سیدھے کھڑے نہیں ہوسکتے، اس لئے وہ زمین پر ہاتھ اور پیر رکھ کر رینگنے کے انداز میں ریس لگاتے ہیں۔ راشدہ بی بھی ان مقابلے کے شرکاءمیں شامل ہیں۔ ان کا پورا خاندان گیس سانحے میں ختم ہوگیا تھا اور وہ انصاف چاہتی ہیں۔
راشدہ بی(female) “بھوپال سانحہ غیر ذمہ داری اور کمپنیوں کے ظالمانہ روئیے کی واضح مثال ہے۔ جس دن ہم ڈاﺅ کیمیکل کو بھوپال سانحے کی ذمہ داری قبول کرنے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، تو وہ زمین پر انسانیت کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ کیونکہ ایک موجودہ صنعتی عہد میں انسانی زندگیوں اور وسائل کو اپنے کاروباری منافع بڑھانے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاتا”۔