The Battle for Justice,Jaipur Writers Festival – انصاف کیلئے جنگ، جے پور رائٹرز فیسٹیول

بھارتی شہر جے پور میں ایشیاءمیں ادیبوں کا سب سے بڑا فیسٹیول ہورہا ہے، جس کا مرکزی خیال انصاف کی تلاش ہے۔

ڈاکٹر بِنا کے سین” بھارت کے چند معروف ترین طبی ماہرین اور سماجی کارکنوں میں سے ایک ہیں، وہ حال ہی میں جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ ان پر ماﺅ باغیوں سے رابطوں کا الزام تھا۔انھوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ وہ ہمیں بتارہے ہیں کہ انصاف ان کی نظر میں کیا اہمیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر بِنا کے سین” انصاف ہر شخص کا بنیادی حق ہے جس کا احترام کیا جانا چاہئے۔ ہر شخص کو چند حقوق حاصل ہوتے ہیں جن کا یکساں طور پر احترام کیا جانا چاہئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بڑی آبادی کے حقوق کا احترام نہیں کیا جارہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ان حقوق غضب کررہے ہیں۔ یہ عناصر ان حقوق کو عملی شکل دینے کیلئے تیار نہیں”۔
سوال”آپ کو غریبوں کے ڈاکٹر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے، جبکہ آپ سپریم کورٹ میں بھی جدوجہد کرتے رہے ہیں، کیا آپ کو انصاف ملا؟
ڈاکٹر بِنا کے سین” میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر ناانصافی کی بنیادی وجوہات موجود ہیں۔ درحقیقت ہمارے ملک میں بیک وقت انتہائی غربت بھی ہے اور یہاں انتہائی امیر افراد بھی موجود ہیں، یہ طبقاتی عدم مساوات مسلسل بڑھ رہا ہے۔معاشرے میں تشدد کے بڑھے کی ایک بڑی وجہ تو یہ طبقاتی خلاءہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تشدد کو فروغ دینے والی بڑی طاقتیں جگہ بنا رہی ہیں اور بہت سے عناصر اس ناانصافی کے خلاف عوام کو مضبوط بنانے کیلئے لڑ رہے ہیں”۔
ہرش مندر ” ایک سماجی کارکن اور سابق سرکاری ملازم ہیں۔ انھوں نے گجرات حکومت کی جانب سے فرقہ وارانہ فسادات نہ روکنے پر حکومتی ملازمت سے استعفی دیا۔اب وہ غریب افراد کیلئے مہم چلارہے ہیں۔
ہرش مندر “ معاشرے میں بھوک مسلسل بڑھ رہی ہے، حکومتی ناکامی کے ساتھ ساتھ مستحق لوگوں کیساتھ ہمدردی اور خیال کا احساس بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔اب ریاست میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے اسے زیادہ قابل احتساب بنائے جانے کی ضرورت ہے”۔

سوال” آپ بھی ریاستی مشینری کا حصہ رہے مگر پھر اس سے الگ ہوگئے، اس کی کیا وجوہات تھیں؟
ہرش مندر ” میں ریاستی مشینری سے اس لئے الگ ہوا کیونکہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انصاف کیلئے عوامی جدوجہد میں شامل ہونا چاہتا تھا۔تاہم میں حکومت پر یقین بھی رکھتا ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ حکومت کے ساتھ تعلق رکھے بغیر کوئی جمہوریت صحیح طریقے سے کام نہیں کرسکتی”۔
فیسٹیول کے دوران تبت کے دلائی لامہ نے کہا کہ بھارت چین سے اپنے تعلقات اچھے بنائے، تاکہ چین کو جمہوریت کے بارے میں جاننے کا موقع مل سکے۔
دلائی لامہ” بھارت اور چین کے درمیان اچھا دوستانہ تعلق بہت اہمہ ہے۔ یہ نعرہ ہندی چینی بھائی ہیں، باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جبکہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ہے۔ میرے خیال میں چین بھارت سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ میں اکثر اپنے چینی دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ بھارت اور اس کے مختلف حصوں کو دیکھیں۔ اگرچہ بھارت کے مختلف حصوں میں زبانیں مختلف ہیں اور نسلی اعتبار سے بھی یہ الگ ہیں مگر ان میں کوئی علیحدگی نہیں۔ ہر شخص کو مساوی حیثیت حاصل ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *