Teaching Indonesian Street Children with Graffiti – انڈونیشین تعلیم

انڈونیشیاءکے سرکاری اسکولوں میں تعلیم مفت ہے مگر متعدد والدین کی شکایت ہے کہ معیاری تعلیم کیلئے انہیں کافی رقم ادا کرنا پرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ غریب گھرانے کے طالبعلم اچھی تعلیم کیلئے اسکول کے بعد کوئی کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، تاہم اب ایک گروپ غریب بچوں کو مفت تعلیم دے رہا ہے، جس کیلئے وہ دیواروں کو استعمال کررہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سات سالہ سکماانگریزی زبان کے حروف تہجی یاد کررہی ہے۔

آج اتوار کا دن ہے اور وہ اپنے اسکول کے کلاس روم میں موجود نہیں، بلکہ وہ مغربی جکارتہ کے علاقے گروگال میں اپنے جیسے دیگر بچوں کے گروپ کے ساتھ ایک شاہراہ پر موجود ہے۔

نوجوانوں کے ایک گروپ گرافی ٹیک کے تحت ان بچوں کو پڑھایا جاتا ہے، 32 سالہ کاپی رائٹر فیلیشیا ہٹابارات اس گروپ کی بانی ہیں۔
فیلیشیا”جب ہم دفاتر میں ہوتے ہیں تو ان بچوں کو اسکولوں میں ہونا چاہئے، مگر ان میں سے بیشتر وہاں جانے کی بجائے گلیوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی دیکھ کر ہم نے سوچا کہ آخر ہم ایسے بچوں کیلئے کیا کرسکتے ہیں؟ اور ہم نے اسکول کو ہی ان کیلئے گلیوں میں لے جانا کا فیصلہ کیا۔ ہم کتابیں یا کتابچے استعمال نہیں کرتے، کیونکہ وہ بیزار کن ہوتے ہیں، ہم ان بچوں کو تفریحی انداز میں تعلیم دیتے ہیں اور دیواروں پر اسپرے کے ذریعے پڑھانے کا کام کیا جاتا ہے”۔

پندرہ اسٹریٹ آرٹسٹوں کے ذریعے گرفی ٹیکنے جکارتہ بھر میں دیواروں کو رنگنے کے پندرہ مقامات کو منتخب کیا ہے۔

فیلیشیا”سب سے پہلے ہم نے مضامین کا انتخاب کیا، مثال کے طور پر اگر ہم سائنس پڑھانا چاہتے ہیں تو ہم پہلے چند خاکے تیار کرتے ہٰں اور انہیں بچوں کو دکھا کر ان میں سے کوئی ایک چننے کا کہتے ہیں”۔

تیئس سالہ اسٹریٹ آرٹسٹ بونڈز اس گروپ کے کام سے بہت متاثر ہیں۔
بونڈز”میں نے اس سے سب سے پہلے پوچھا تھا کہ یہ کام کیوں کیا جارہا ہے؟ انکا کہنا تھا کہ یہ تعلیم کیلئے ہے، یہ ان گلیوں میں آوارہ پھرنے والے بچوں کیلئے ہے، دیواروں پر اسپرے کی مدد سے مصوری کے شاہکاروں کو استعمال کرنے کا یہ مقصد میرے لئے بالکل نیا تھا، ہم دیواروں پر کام کرتے ہیں اور یہ جگہ ان آوارہ بچوں کے بہت قریب ہوتی ہے”۔

بونڈزنے سب سے پہلے اس گروپ کیلئے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ خفیہ الفاظ تلاش کریں، انھوں نے اپنے کام میں چھپے خفیہ الفاط ڈھونڈنے کیلئے بچوں کی حوصلہ افزائی کی، مچھلیوں، سیبوں اور بطخوں میں چھپے یہ الفاظ لکھنے کیلئے بچوں کو اسی کام کے نیچے سفید ڈبے فراہم کئے گئے تھے۔

گرافی ٹیک کو انٹرنیشنل اسٹریٹ چلڈرن آرگنائزیزن اور ایک مقامی این جی او چلڈرن فرینڈز کا تعاون بھی حاصل ہے۔

فیلیشیا”ہم چاہتے ہیں کہ یہ مقامات ان بچوں کیلئے میوزیم بن جائیں، ہم ان بچوں کے گھروں کے قریب خالی دیواریں ڈھوندتے ہیں، اگر کوئی جگہ بہت خاموش ہو اور اس کے ارگرد بچے نہ ہو تو ہم وہاں رنگنے کا کام نہیں کرتے”۔

دس سالہ ماور اور 14 سالہ ڈینڈی صبح پڑھتے ہیں اور دوپہر میں کام کرتے ہیں، وہ ہر ہفتے گرافی ٹیک کی کلاسز میں بھی شرکت کرتے ہیں۔

ماور”یہاں ہیروز، گھڑیوں اور ڈائناسورز وغیرہ کی تصویریں ہیں، اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مستقبل میں کیا کچھ کرنا چاہئے، یہ تصاویر بہت پیاری ہیں”۔

ڈینڈی”مجھے اس طرح پڑھنا بہت پسند ہے، یہاں گیمز بھی ہیں اور ہمیں بہت مزہ آتا ہے، میں بھی ان کی طرح پینٹنگ کرنا چاہتا ہوں”۔

فیلیشیا بچوں کے مثبت ردعمل پر بہت خوش ہیں۔

فیلیشیا”ردعمل بہت زبردست ہے، ہم ان بچوں کو ان تصاویر کے ذریعے مختلف مضامین پڑھاتے ہیں، اساتذہ ان کو ایک ایک کرکے سمجھاتے ہیں، ایک بار جب ہم دیوار پر ڈائناسورز کی تصاویر بنارہے تھے، تو ہم نے پوچھا کہ کون ان ڈائناسورز کو پسند نہیں کرتا؟ تو سب بچوں نے کہا کہ ہم پسند کرتے ہیں”۔

تاہم اپریل کے مہینے میں جکارتہ انتظامیہ نے ان تعلیمی تصاویر پر سفیدی پھیر دی تھی، 37 سالہ رون نے پراتامااس گروپ کے رکن ہیں، وہ اس اقدام پر اطہار افسوس کررہے ہیں۔

رونی پراتاما”یہ بہت افسوسناک اور الجھن میں ڈال دینے والا اقدام تھا، اگرچہ دیواروں پر اسپرے سے نقش و نگار بنانا ممنوعی ہے مگر ہم اپنا کام تعلیمی مقاصد کیلئے کررہے تھے، ہمیں کچھ بتائے بغیر ان تصاویر پر سفیدی پھیری گئی”۔

گرافی ٹیک نے ایک آن لائن پٹیشن دائر کی تاکہ حکومت سے ان دیواروں کو بچوں کو پڑھانے کیلئے استعمال کیا جاسکے، اس پٹیشن پر ایک ہزار سے زائد افراد نے دستخط کئے جس پر جکارتہ کے گورنرجو کو نے دیواروں کو دوبارہ رنگنے کی اجازت دیدی۔

جوکو”جی ہاں انہیں یہ اچھا کام کرنے کی اجازت ہے، ہمارے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں،اس حوالے سے قوانین موجود ہیں اور وہ اپنے اس خیال کے تحت اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں”۔

تاہم جب تک رسمی اجازت نہیں مل جاتی اس وقت تک یہ گروپ اپنا کام نہیں کرسکتا، تاہم Felicia پراعتماد ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے اس طرز تعلیم میں دلچسپی لیں گے۔

فیلیشیا”کچھ بچوں کے خیال میں پڑھائی بیزار کن ہوتی ہے، اور وہ گلیوں میں کام کرنے کو زیادہ اچھا سمجھتے ہیں، مگر دیواروں پر مصوری کے ذریعے ہم انہیں تفریح کے ساتھ تعلیم دیتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس فن کو ان بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ بڑھانے کیلئے استعمال کریں”۔