چین نے نیوزی لینڈ سے دودھ کی درآمد روک دی ہے، جس کی وجہ اس میں بیکٹریا کی موجودگی کی اطلاعات ہے، نیوزی لینڈ کی کمپنی فونٹیرا آسٹریلیا، چین، ملائیشیائ، ویت نام، تھائی لینڈ اور سعودی عرب میں بچوں کیلئے فارمولہ دودھ فروخت کرتی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںکی آج کی رپورٹ
چینی والدین مقامی مصنوعات پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی فارمولہ دودھ استعمال کرتے ہیں، اس سے قبل چین میں 2008ءمیں بچوں کے دودھ کا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ ایک وائرس کے باعث چھ بچے ہلاک اور لاکھوں بیمار ہوگئے تھے۔ اس وقت بھی نیوزی لینڈ کی کمپنی فونٹیرا کو بلاواسطہ ذمہ دار سمجھا گیا تھا، کیونکہ متاثرہ دودھ بنانے والی چینی کمپنی سنلو میں اس کا بھی حصہ تھا۔ کیوی کمپنی کو اب رواں برس نئے اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا اور اب کی بار نیوزی لینڈ کے وزیراعظم جوہن کی نے بھی اس پر شدید تنقید کی۔
جوہن کی “انہیں اس طرح کے مسائل کے بارے میں پہلے ہی سوچ لینا چاہئے تھا، اگر کسی وجہ سے اس خراب طریقے سے دودھ کی آزمائش بھی کی گئی تو بھی انہیں ایسا کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ اب اس معاملے پر مذکورہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو جوابدہی کرنا ہوگی”۔
چیف ایگزیکٹو تھیو سپیرینگز یورپ سے بیجنگ پہنچے اور پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔
تھیو”ہم ان افراد سے معذرت کرتے ہیں جو اس سے متاچر ہوئے ہیں اور انہیں آئندہ دودھ کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتے ہیں، چینی عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کی سلامتی ہماری پہلی ترجیح ہے، ہم موجودہ تنازعے پر دلی معذرت کرتے ہیں”۔
اس سے پہلے اس کمپنی نے ویب سائٹس پر اس حوالے سے بیانات جاری کئے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ متاثرہ مصنوعات کے استعمال سے کسی قسم کی بیماری کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔اگرچہ یہ بیکٹریا دودھ دنیا کے چند حصوں میں ہی استعمال ہوتا ہے اور اس سے بیماری کا خطرہ بہت زیادہ نہیں، مگر یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ سکوٹ گیلچر، نیوزی لینڈ کی مینسٹری فار پرائمری انڈسٹریز کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
سکوٹ”ہمیں مارکیٹیں سے محروم ہونے کیلئے تیار ہوجانا چاہئے، مثال کے طور پر روس نے نیوزی لینڈ کی دودھ سے بنی مصنوعات پر عارضی پابندی عائد کردی ہے”۔
یہ مشتبہ مصنوعات ملائیشیائ، ویت نام، تھائی لینڈ اور سعودی عرب میں بھی فروخت ہوئی تھیں، فونٹیرانیوزی لینڈ کی
سب سے بڑی کمپنی ہے اور دودھ سے بنی مصنوعات بنانے والی بھی یہ دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ ناتھن پینی ایک ماہر معیشت ہیں ان کے خیال میں اس کمپنی کے حصص کی قیمتیں اب گرجائیں گی۔
ناتھن”جب یہ خبر آئی تو حصص کی قیمت 7.12 نیوزی لینڈ ڈالر تھی مگر پھر یہ گر کر ساڑھے چھ ڈالر تک پہنچ گئی، مگر پھر اس میں معمولی اضافہ ہوا اور یہ 6.80 ڈالر ہوگئی”۔