کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حال ہی میں کارخانو کے دکانداروں کو دھمکی دی تھی کہ وہ عریاں مواد اور قوت بخش ادویات کی فروخت بند کردیں۔اس حوالے سے خطوط دکانوں کی دیواروں پر لگائے گئے۔ پشاور کی اس مارکیٹ میں فلمیں اور موسیقی کی سی ڈیز فروخت ہوتی ہیں۔
کارخانو مارکیٹ پشاور کی ایک تنگ گلی میں واقع ہے، یہ پورے خیبرپختونخواہ میں میوزک کیسٹس اور عریاں فلموں کی فروخت کے حوالے سے مشہور ہے۔
تاہم حال ہی میں طالبان نے ایک ہاتھ سے لکھے گئے پوسٹر میں ان فحش فلموں کی فروخت کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اس پر پابندی نہ لگائی گئی تو دکانداروں کو بدترین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
اس دھمکی کے بعد سے ستر سے زائد دکانیں بند ہوچکی ہیں، جبکہ بیشتر دکانداروں نے عریاں تصاویر، میوزک کیسٹس اور کمپیوٹرز وغیرہ ہٹا دیئے ہیں۔کپڑے کی دکان کے مالک37 سالہ اسمعیل خان کا ماننا ہے کہ اس سے صورتحال بہتر ہوگی۔
اسمعیل خان” یہ گلی موسیقی اور قوت بخش ادویات کی وجہ سے مشہور ہے، دور دراز سے لوگ یہاں آتے ہیں، مگر مجھے خوشی ہے کہ اب یہ دکانیں بند ہورہی ہیں۔یہ بہت اونچی آواز میں گانے چلاتے ہیں اور مجھے اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی، اب میں مطمئن ہو”۔
تاہم انیس سالہ طالبعلم ذیشان احمد کا کہنا ہے کہ عریاں مواد کی طلب بہت زیادہ ہے۔
ذیشان” طالبعلم اپنے موبائل فون کارڈز کا عریاں فلموں سے بھرنے کے شوقین ہیں، یہ لوگ داڑھی رکھتے ہیں اور دیکھنے میں مذہبی نظر آتے ہیں مگر ان کے میموری کارڈ عریاں فلموں اور گانوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ کارڈ خفیہ طور پر دیتے ہیں تاکہ کسی اور کو معلوم نہ ہو سکے، یہ لوگ منافق ہیں، میرے خیال میں اسی فیصد طالبعلموں کے موبائلز میں عریاں فلمیں موجود ہیں”۔
تاہم ایک دکاندار زکریا جان نے اپنے گاہکوں کو مطمئن کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔
زکریا” میں ایک مہنگا موبائل لیکر آیا ہوں، جس سے میں دیگر لوگوں کے میموری کرڈز موسیقی یا فلموں سے بھر سکتا ہوں۔ مجھے اب اس کام کیلئے کمپیوٹر کی ضرورت نہیں، ہر شخص اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے فکرمند ہیں اور انھوں نے اپنی دکانوں میں کام کرنا چھوڑ دیا ہے”۔
وہ ایک فلم پر 40 ڈالرز تک کمالیتے ہیں، جبکہ وہ ایک ہفتے میں 80 میموری کارڈز کو مختلف چیزوں سے بھرتے ہیں۔
قسمت خان بھارت اور چین کی قوت بخش ادویات فروخت کرتے ہیں، وہ گزشتہ دو برس سے یہ دکان کھولے ہوئے ہیں اور باقاعدگی سے حکومتی عہدیداران کو رشوت ادا کررہے ہیں، تاہم طالبان کی دھمکی کے بعد سے ان کے منافع میں ڈرامائی کمی آئی ہے۔
قسمت خان” میں روزانہ بیس ڈالرز کمالیتا تھا، مگر ان دھمکیوں کے بعد میری آمدنی نصف رہ گئی ہے۔ صارفین نے اس پوسٹر کو پڑھ لیا ہے اور اس سے ہمارا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ میں اس طرح کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں کیونکہ یہ پہلی بار نہیں۔ ہمیں ہمیشہ ایسی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور میں موت سے خوفزدہ نہیں۔ یہ میری دکان ہے اور میں اپنا کام جاری رکھوں گا۔ میں نے علماءسے رابطہ کیا ہے اور انکا کہنا ہے کہ میرا کاروبار جائز ہے”۔
کچھ دکانیں خفیہ طور پر کھل رہی ہیں، مگر اس اٹھارہ سالہ دکاندار نے ہم سے بات کرنے کے دوران نام چھپانے کی شرط لگائی۔
دوکاندار” میں بات کرنے سے ڈرتا ہوں، کوئی بھی طالبان کے بارے میں بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو وہ ہمیں اٹھا کر پہاڑوں پر لے جائیں گے اور قتل کردیں گے”۔