(Taking the Risk on Pakistan’s Catwalks) پاکستان میں کیٹ واک کا رسک

 

پاکستان میں فیشن شوز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔یہاں تک کہ پشاور میں بھی ۔جہاں شدت پسند عناصر کو غلبہ حاصل ہے۔وہاں ہر ماہ کم از کم ایک شو ہوتا ہے۔لیکن خواتین کیلیے وہاں کیٹ واک کرنا آسان نہیں ہے۔

21 سالہ نگینہ نیاز کا روزانہ کا شیڈول بہت تھکا دینے والا ہے ۔دن میں وہ پشاور کے ایک اسپتال میں نرس کی حیثیت سے کام کرتی ہے جبکہ رات کو وہ اپنے ماڈل اور گلوکارہ بننے کے خواب کو تعبیر دینے کی کوشش کرتی ہے۔

 (female) Nagina Nayaz “میں ہمیشہ کیلئے پشاور منتقل ہوگئی ہوں۔کیونکہ میرے علاقے میں لوگ خواتین کا گھر سے باہر نکل کر گلوکارہ ،اداکارہ،رقاصہ یا ماڈل وغیرہ بننا پسند نہیں کرتے۔جب مجھے آڈیشن کیلئے بلایا گیاتو مجھے بہت مشکل پیش آئی۔کیونکہ میں اس شہر میں بالکل تنہا تھی اور میرے ساتھ میرا کوئی رشتہ دار نہیں تھا”۔

نگینہ آج کے شو کی تیاری کررہی ہے،جہاں وہ گانا گائے گی اور کیٹ واک کرے گی۔لکی مروت میں اپنے خاندان کو چھوڑ آنے کے بعد سے وہ پشاور میں اکیلی رہتی ہے۔اب صرف اسکی ماں کو پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے۔اسکا پتہ اسکے خاندان کے مردوں سے خفیہ رکھا گیا ہے ،جو اپنی بہن کی ماڈلنگ کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد شدت پسندانہ ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔

اس وقت وہ گزشتہ سال اکتوبر میں پشاور کے پہلے فیشن شو میں اپنی پہلی پرفارمنس کو یاد کررہی ہے۔

 (female) Nagina Nayaz “میں اسٹیج پر چلتے ہوئے بہت زیادہ خوفزدہ اور پریشان تھی ۔بہت سارے لوگ مجھے دیکھ رہے تھے، اور باہر لوگ شو کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔میں خوفزدہ تھی کہ کہیں شو کے باہر بم دھماکہ نہ ہو جائے۔اگر مجھے نقصان پہنچا تو میں اپنے گھر والوں کو کیا جواب دوں گی۔میرے زیادہ تر عزیز و اقارب کو میرے فیشن کیریر سے متعلق کچھ علم نہیں ہے”۔

آج رات پشاور کےluxorious ہوٹل میں ایک شو ہے۔نگینہ اسٹیج پر گانا گانے کیلیے تیار ہو رہی ہے۔وہ شو شروع ہونے سے قبل کے آخری لمحات بھی ریہرسل کیلیے استعمال کر رہی ہے۔آج رات کا میوزک اور فیشن شو GREOکی جانب سے منعقد کیا گیا ہے۔جو کہ پشتون گلوکاروں، اداکاروں اور ماڈلز کیلیے ایک talent اسکول ہے۔نگینہ وہاں کے طالب علموں میں سے ایک ہے۔ہوٹل کے لان میں 500 سے زائد لوگ جمع ہوئے ہیں۔

آج گلوکاری نگینہ کیلیے ایک کامیابی ہوگی،اور اب وہ اسٹیج پر چلنے کیلیے تیار ہے۔

اس نے اپنے لیے کپڑے خود ڈیزائن کیے ہیں۔ایک لمبا سرخ رنگ کا شوخ لباس، میچنگ اسکارف کےساتھ۔اوروہ نہایت خود اعتمادی کے ساتھ کیٹ واک کرتی ہے۔

بہت سے لوگ جو اسکے خلاف تھے انہیں یہ پسند آیا۔24سالہ یونیورسٹی کا طالبعلم عبدالجبار ہوٹل کے باہر سے گزر رہا ہے، تاہم اسے پتہ ہے کہ اندر شو ہورہا ہے ۔ وہ اس طرح کی سرگرمیوں کوگناہ قرار دیتا ہے۔

 (Male) Abdul Jabbar “خواتین کی کیٹ واک اور فیشن شوز ہماری پشتون ثقافت اور مذہب کے خلاف ہیں۔کوئی چاہے ہزاروں دلیلیں ہی کیوں نہ پیش کردے اس عمل کو درست قرار نہیں دلاسکتا۔برائی تو برائی ہے۔جواز پیش کرنے سے یہ عمل صحیح نہیں ہوجائے گا۔یہ ان خاندانوںکیلئے شرمناک امر ہے کہ ان کی لڑکیاں اجنبیوں کے سامنے کیٹ واک کرتے ہوئے اپنے جسم کی نمائش کررہی ہیں۔آپ اسے فیشن شو کہے یا کچھ اور گناہ تو گناہ ہی رہے گا۔میں عسکریت پسندوں کے خلاف ہوں لیکن اگر وہ ایسی تقاریب کو نشانہ بنائیں تو میں انکی حمایت کروں گا۔کیونکہ ایسے شوز طاقت کے استعمال سے روکے جا سکتے ہیں”۔

صائمہ عامر آج کے شو کی آرگنائزر ہیں۔وہ greo talent school کی مالکہ بھی ہیں۔یہ پشاور کا اپنی طرز کا واحد اسکول ہے جسے کوئی خاتون چلا رہی ہے۔انکے مطابق وہ فنون لطیفہ کی صلاحیتیں ثابت کرنے کیلئے پشتون لڑکیوں کو ایک زینہ فراہم کرتی ہیں۔

(Female) Saima Amir پشتون معاشرے میں موجود انتہاپسند ہمیشہ ماڈلز کے ان کپڑوں پر اعتراض کرتے ہیں۔جو وہ فیشن شوز میں پہنتی ہیں۔لیکن میں ماڈلز کیلیے ثقافتی طور پر قابل قبول ملبوسات ڈیزائن کرتی ہوں۔تاکہ وہ ان پر اعتراض نہ کر سکیں۔نوجوان نسل فیشن اور ماڈلنگ کو پسند کرتی ہے۔اور میں انکی حوصلہ افزائی کی کوشش کرتی ہوں تاکہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کرسکے۔اگر یہ سرگرمیاں ثقافت کے دائرے میں رہ کر ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں”۔

اسٹیج سے ہٹ جانے کے بعد نگینہ اس کیرئیر کے بارے میں اپنی سنجیدگی کا اظہار کررہی ہے۔

 (Female) Nagina Nayaz “میں ہر رات ملک کی ٹاپ ماڈل یا گلوکارہ بننے کا خواب دیکھتی ہوں، اور میرے بہت سارے پرستار ہیں۔میں اپنے آپ سے کہتی ہوں کہ مجھے امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔میں اللہ سے اپنے خواب پورے ہونے کی دعائیں کرتی ہوں۔میں اسکے لیے بہت محنت کرتی ہوں۔میں پیسے لیکر گلوکاری یا کیٹ واک نہیں کرتی بلکہ یہ تو میری زندگی کا مقصد ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *