گزشتہ کچھ سالوں میں دیگر نفسیاتی مسائل کے علاوہ خواتین میں خود کشی کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے،جبکہ نوجوان لڑکیوں میں خود کشی کی شرح زیادہ ہے۔اسلام میں خود کشی کی ممانعت کے باوجود پاکستان جیسے اسلامی ملک میں خواتین میں خود کشی عام ہے جبکہ اس حوالے سے کوئی حتمی اعداد وشمار بھی موجود نہیں ہے۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر رضا الرّحمٰن کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے معاشی و سماجی مسائل خودکشی کی اہم وجہ ہے،جبکہ خودکشی ،دنیا بھر میں اموات کی تیسری بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مردوں کی نسبت خواتین خودکشی کی کوشش زیادہ کرتی ہیں۔۔
گھریلو جھگڑے خواتین میں خود کشی کااہم سبب سمجھے جاتے ہیں،جبکہ مردوں کی نسبت خواتین میں خودکشی کیلئے آسان طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جیسے زہر خورنی وغیرہ، اسکے علاوہ کئی وجوہات کی بنا پر خود کشی کے عوامل پر نہ تو ریسرچ کی گئی ہے اور نہ ہی خود کشی کے کیسز باقاعدہ رپورٹ کئے جاتے ہیں۔روزمرہ زندگی میں ہونے والے واقعات خواتین کو ذہنی تناﺅ سے دوچار کرتے ہیں جو انتہائی سطح پر خواتین کو خود کشی کی جانب مائل کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ خواتین میں خود کشی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔
خود کشی کی اہم وجہ گھریلو اور اذدواجی جھگڑے بھی سمجھے جاتے ہیںجبکہ پاکستان میں شوہر اور سسرالی رشتے داروں کے ناروا رویوں سے دلبرداشتہ ہو کر بھی خواتین خود کشی کرتی ہیں۔ایک سروے کے مطابق ڈپریشن کا شکار16میں سے ایک مریض خود کشی کا مرتکب ہوتا ہے۔جبکہ منشیات کی عادی خواتین خودکشی کی جانب جلد مائل ہوتی ہیں۔
پاکستان کے بڑے شہروں کراچی،لاہور ،اسلام آباد،ملتان،لاڑکانہ کے علاوہ ڈسٹرکٹ غذر میں بھی خود کشی کی شرح زیادہ ہے۔اس معاملے میں صحت عامہ خصوصاً نفسیاتی امراض کے اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے اسکے علاوہ خود کشی کا رجحان رکھنے والے افراد کے اہل خانہ اُنکی ذہنی کیفیت میں بہتری کیلئے معاون کردار ادا کرسکتے ہیں۔