لیا ری آ پریشن انسانی ہمدردی کی بنیا د پر 48گھنٹوں کے لئے بند کر نے کا فیصلہ کیا گیا،وفا قی وزیر داخلہ
کر اچی کے علا قے لی ما رکیٹ میں نیپئیر تھا نے پردستی بم سے حملہ،2افراد جاں بحق
جمہوری حکومت کے خلاف مسلم لیگ ن کی مہم ناکام ہوگی،وزیر اعظم
سپریم کو ر ٹ کے حکم پر بلو چستان میں ایف سی کے2میجرز کے خلا ف لوگوں کواغوا کر نے کے مقدما ت درج
اور
حسین حقانی کا منصور اعجازسے تعلق تھا،مگرمیمو کے مقصد کی کوئی شہادت نہیں،زاہد بخاری
خبروں کی تفصیل :۔
وفا قی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ لیا ری آ پریشن انسانی ہمدردی کی بنیا د پر 48گھنٹوں کے لئے بند کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پو لیس کو کہا ہے کہ پو زیشن مضبو ط کر یں اور اگلی ہدایت کا انتظا ر کر یں۔ان کا کہنا تھا کہ جو ائنٹ آ پریشن کب شروع ہو گا ےہ نہیں بتا سکتا، لیکن جلد ایسا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دہشتگردوں کو لیا ری کے عوام کا خیا ل ہے تو خو د کو رینجرز کے حوالے کر یں۔ رحمن ملک نے کہا کہ لیا ری میں جو ہتھیار ڈالے گا اسکے ساتھ نر می برتی جائیگی، ہما ری امن کی پیشکش کا جواب ان جرائم پیشہ افراد نے راکٹ حملوں سے دیا، یہ دہشتگرد کل پو رے پاکستان کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔وفا قی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عوام کو لیا ری کے جر ائم پیشہ عنا صر کے چہر وں کا پتہ چلنا چاہئے ۔
لیا ری کے علا قے لی ما رکیٹ کے قریب نیپئیر تھا نے پر دستی بم سے حملہ کیا گیا ہے ،جس کے نتیجے میں2افراد جاں بحق اور2کے زخمی ہو نے کی اطلا عا ت ہیں۔اس سے پہلے جرائم پیشہ افراد نے چیل چوک میں چند منٹ کے دوران 11راکٹ فائر کئے جس سے بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچا اور 5 پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ چیل چوک، گبول پارک اور گردونواح کے گلی کوچوں سے پولیس پر شد ید فائرنگ بھی کی گئی ۔ادھرلیاری میں جرائم پیشہ افراد کےخلاف جاری آپریشن کو 48 گھنٹے کےلئے روک دیا گیا۔آئی جی سندھ مشتاق شاہ کا کہنا ہے کہ لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو سرنڈر کرنے کےلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد پولیس یا رینجرز کو گرفتاری دے دیں ورنہ 48 گھنٹے گزرنے کے بعد رینجرز اور پولیس کی جانب سے ان کےخلاف مشترکہ آپریشن کیا جائے گا۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت کے خلاف مسلم لیگ ن کی مہم ناکام ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ عوام مسلم لیگ ن کو مستردکرچکے ہیں۔یہ جماعت سیاسی تنہائی کاشکار ہے ،پیپلزپارٹی کی حکومت جمہوریت کے استحکام کیلئے کردار ادا کرتی رہے گی۔وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھاکہ اسپیکر کے علاوہ کوئی ادارہ انہیں نااہل قرار نہیں دے سکتا، جمہوریت کی بقاءاسی میں ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کے لیے تاریخی قرارداد منظور کرائی جاچکی ہے۔
سپریم کو ر ٹ کے حکم پر بلو چستان میں تعینات ایف سی کے2میجرز کے خلا ف لوگوں کو اغوا کر نے کے مقدما ت درج کر لئے گئے ۔اس سے پہلے بلوچستان میں امن و امان اور لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریما ر کس دئےے کہ بلوچستان میں لاچارگی کی حد ہے، اگر وزیراعظم، وزیراعلیٰ، گورنر اور سیکریٹری دفاع دلچسپی لیں تو صورتحال ٹھیک ہوسکتی ہے، جو کام انہیں کرنا تھا وہ ہم کررہے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ ہماری موجودگی میں بھی جرائم ہورہے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان کو تو صوبے کے معاملات سے دلچسپی نہیں، ہم گورنر سے بات کریں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبے کے حوالے سے ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، ہم آرڈر کریں گے اور اس پر عملدرآمد کرائیں گے۔
میموکمیشن کے اجلا س میں حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ اٹارنی جنرل نے آر آئی ایم کمپنی کو ریکارڈ کے لیے خط لکھا، آر آئی ایم سے کوئی جواب نہیں ملا، منصور اعجاز کے کسی پیغام کی تصدیق نہیں ہوتی، منصور اعجاز نے فرانزک چیک کے لیے آج تک اپنا سیٹ نہیں دیا، زاہد بخاری نے مزید کہا کہ فرانزک رپورٹ کے بغیر موبائل پیغامات کی تصدیق نہیں ہوسکتی، انھیں ثبوت کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ آپ نے تسلیم کر لیا کہ10 سال میں حسین حقانی کا منصور اعجا ز کیساتھ 83 ای میل کا تبادلہ ہوا،زاہد بخاری نے کہا کہ تسلیم کرتاہوں کہ حسین حقانی کا منصور اعجازسے تعلق تھا، ای میلز لفظ بہ لفظ یاد نہیں،جسٹس قاضی فائز نے پوچھاکہ دس سال سے حسین حقانی اور منصور اعجاز کا کس قسم کا تعلق تھا۔منصور اعجاز نے تسلیم کیامیمو کے پیچھے صدرہوسکتے ہیں، زاہد بخاری نے کہا کہ کوئی واضح ثبوت نہیں،میمو کے مقصد کی کوئی شہادت یا ریکارڈ بھی موجود نہیں، فوجی بغاوت کو مقصد لکھا گیا، حسین حقانی کے وکیل نے مزید کہا کہ احمد شجاع پاشا نے اس کی نفی کی۔