(Street kids recycling for a green Jakarta) آوارہ بچوں سبز جکارتہ کیلئے سرگرم
(Indonesia recycling children)انڈونیشیاءکے ری سائیکلنگ بچے
انڈونیشیاءدنیا میں زہریلی گیسیں خارج کرنیوالا تیسرا بڑا ملک ہے، جبکہ وہ اپنے پڑوسیوں کے مقابلے میں کچرا تلف کرنے کے معاملے میں بھی پیچھے ہے،خصوصاً جکارتہ میں یہ مسئلہ بہت بڑا ہے، تاہم اب بچوں کا ایک گروپ اپنے شہر کو سرسبز بنانے کا کام کررہا ہے۔
کمپاﺅنڈ میں داخلے کے وقت ہمیں بچے نظر آئے جو پلاسٹک کی بوتلوں اور دیگر اشیاءمیں سے قابل استعمال چیزیں چننے کا کام کررہے تھے۔ کچھ بچے اس ری سائیکل سامان سے مصنوعات بنانے میں مصروف ہیں۔ سولہ سالہ Selamat جکارتہ کی گلیوں میں پلابڑھا ہے۔وہ چار برس قبل اس اسکول کا حصہ بنا۔اس نے ہمیں چابیوں کے چھلے یا Key chains اور بالوں میں لگائے جانیوالے کلپس دکھائے جو اس نے خود بنائے تھے۔
Selamat(male)”میں خود پر بہت فخر محسوس کررہا ہوں، شروع میں یہ کام کرتے ہوئے میں بہت پریشان ہو جاتا تھا، تاہم پھر میں نے سخت محنت کی اور ہار ماننے کی بجائے ان کو بنا کر چھوڑا۔ یہ اتنے خوبصورت ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر مسحور ہوجاتے ہیں”۔
Selamat اور دیگر ستر بچے یہ چیزیں بنانے کی صلاحیت Diakonia Modern Campus میں سیکھ رہے ہیں۔ یہ جکارتہ کی گلیوں میں پرورش پانے والے آوارہ بچوں کا اسکول ہے، جہاں انہیں لکھنا پڑھنا، انگریزی بولنا، کھانا بنانا اور بڑھئی کا کام بھی سیکھایا جاتا ہے۔یہاں تعلیم مفت ہے۔
دس برس قبل اس اسکول کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا مقصد ان آوارہ بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے ساتھ ساتھ جکارتہ کے ماحولیاتی نظام کا تحفظ کرنا بھی تھا۔ Renie Elvina Tiurma پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔
Renie Elvina Tiurma(female)”درحقیقت ہمارا مقصد جکارتہ میں کچرے کے مسئلے کو کم کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں گلیوں میں پلنے والے بچوں کو یہاں تعلیم دیتے ہیں، اور انہیں دیگر تیکنیکی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں، تاکہ وہ جکارتہ کو سرسبز بنانے کے کام میں ہماری مدد کرسکیں۔ یہاں آنیوالے چند بچے تعلیم کے حوالے یا دیگر کاموں کیلئے زیادہ باصلاحیت نہیں ہوتے، مگر پھر بھی وہ ہمارے کام آتے ہیں، کیونکہ ان کیلئے سامان چننا زیادہ مشکل نہیں ہوتا”۔
یہ منصوبہ شروع میں اسکول کی عمارت کے آس پاس واقع عمارات سے کچرے جمع کرنے اور اس میں سے کارآمد چیزیں چننے
سے شروع ہوا، اور دس سال بعد اب تین سو گھروں اور کاروباری مراکز اس کے صارف ہیں۔ ہر روز طالبعلم جمع شدہ کچرے کے ڈھیر کو اپنے اسکول کے لئے منافع بخش بناتے ہیں۔ یہاں آنیوالے کچرے کا کچھ حصہ قابل استعمال ہوتا ہے، جبکہ بیشتر سے فروخت کے قابل اشیاءتیار کی جاتی ہیں، اور جو کچرا کام کا نہیں ہوتا اسے ایک ری سائیکل کمپنی کو فروخت کردیا جاتا ہے۔
جکارتہ میں روزانہ ٹنوں کچرا پیدا ہوتا ہے، جسے شہر کے مختلف علاقوں میں موجود گڑھوں میں دبا دیا جاتا ہے۔ انڈونیشین گھرانوں کی اکثریت کچرے میں قابل استعمال اشیاءنکالنے کی بجائے سب کچھ ایک ہی جگہ پھینک دیتے ہیں، جبکہ جکارتہ کے بہت سے شہری اپنا کچرا شاہراﺅں پر جلا دیتے ہیں، جس کے باعث اسے ری سائیکل کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔Renie Elvina کا ماننا ہے کہ ہر شخص اپنے کچرے کا خود ذمہ دار ہے۔
Renie Elvina(female)”لوگ ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت کا کام ہے، مگر میرے خیال میں ہر شخص کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ ہم خود یہ کچرا پھیلاتا ہے، اگر اسے مناسب طریقے سے تلف کیا جائے تو اس سے ہماری زندگیاں متاثر نہیں ہوں گی، یہی ہماری ذمہ داری ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ یہ بچے کچرا ری سائیکل کرنے اور اس سے اشیاءبنانے کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسے اسکول کے باہر بھی پھیلائیں گے۔
Renie Elvina(female)”یہ بہت اہم امر ہے کیونکہ یہ ہمارے شہر کے مفاد میں ہے، یہ بچے انڈونیشین ہیں اور یہ ہمارے ایسے ایجنٹ ہیں جو اپنے آس پاس موجود دوستوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر لوگ اپنی خوراک یا دیگر اشیاءہر جگہ پھینکتے رہیں تو یہ ہمارے مستقبل کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ ہم سب نے جکارتہ اور انڈونیشیاءمیں ہی رہنا ہے۔ اگر سب لوگ اس بات کا احساس نہیں کریں گے تو مستقبل قریب میں ہمیں ناخوشگوار صورتحال کا سامنا ہوگا”۔
Renie Elvina کو توقع ہے کہ اس اسکول کے کام سے شہر میں ری سائیکل کی شرح میں اضافہ ہوگا اور وہ اس کام کو پورے شہر تک پھیلانے کی خواہش رکھتی ہیں۔
Renie Elvina(female)”میرے خیال میں تو ابھی یہ ایک خواب ہی ہے مگر ہم نے اس کی تعبیر کیلئے کسی اور توقع رکھے بغیر کام شروع کر دیا ہے، کیونکہ ہمیں احساس تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کم از کم اپنی ذات کی حد تک تو کام شروع کریں، حالانکہ میرا ماننا ہے کہ یہ ایک خواب ہے”۔
انیس سالہ Sylvie ہمیں سافٹ ڈرنک کے ایک کین سے تیارکردہ کی چین دکھا رہی ہیں۔ ری سائیکل اشیاءکی ماہر ہونے کی حیثیت سے Sylvie کو توقع ہے کہ جب وہ یہاں سے جائیں گی تو دوسرے بچوں کو تعلیم دیں گی۔
Sylvie(female)”جی ہاں جب میں اس اسکول کو چھوڑ دوں تو بھی ری سائیکلنگ کا سلسلہ جاری رکھوں گی اور میں لوگوں کو بھی بتاﺅں گی کہ یہ کچرا کتنا کارآمد ہے، اور اسے کس طرح ری سائیکل کیا جاسکتا ہے۔ میں نے جو کچھ یہاں سیکھا ہے اس کے پیش نظر اب میں جب بھی کوئی چیز خریدوں گی تو دکاندار سے کہوں گی کہ مجھے پلاسٹک بیگ نہ دے۔ کیونکہ میں مزید پلاسٹ بیگز پھیلا کر ماحولیاتی نظام خراب نہیں کرنا چاہتی”۔
