بھارت میں حال ہی میں جنسی زیادتیوں کے خوفناک واقعات سامنے آئے ہیں، جس میں سے نصف میں بچوں پر ظلم ہوا۔ اب بھارت میں بحث جاری ہے کہ کیا ان جنسی جرائم میں اضافے کے پیچھے فحاشی تو نہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
جنسی زیادتی کا شکار بننے والی چار سالہ بچی کی ماں اپنی بیٹی کو کھونے کے بعد انصاف کیلئے رو رہی ہے۔
ماں”قانون کا ان ظالموں کو سخت ترین سزا دینی چاہئے، انہیں زندہ جلا دینا چاہئے تاکہ پوری دنیا کو معلوم ہوسکے کہ ایسے افراد کو کیسا سزا ملتی ہے۔ اس سے دیگر مجرموں کے اندر خوف پھیلے گا”۔
ایک اور واقعے میں زیادتی کا نشانہ بننے والی چھ سالہ بچی ہسپتال میں زندگی و موت کی جنگ لڑرہی ہے، اسے اسکے پڑوسی نے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ان دونوں واقعات میں ملزمان نے تسلیم کیا ہے کہ اس جرم کے ارتکاب سے پہلے انھوں نے فحش فلمیں دیکھی تھیں۔ اس کے بعد ملک بھر میں فحش نگاری پر گرما گرم بحث شروع ہوگئی ہے۔ سنیئر وکیل وجے پجوانی کا ماننا ہے کہ فحش نگاری سے خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں تمام فحش ویب سائٹس پر پابندی لگانے کیلئے درخواست دائر کی ہے۔
وجے”اس سفاکی و تشدد اور فحش وڈیو کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں پر بننے والی ان فلموں کے اثرات کو خود ہمارا معاشرہ دیکھ رہا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اب چھوٹے بچوں تک کو ان فلموں تک رسائی حاصل ہے، انٹرنیٹ کی وجہ سے یہ زیادہ خطرناک بن چکی ہیں، میں ان سائٹس تک رسائی نہیں چاہتا اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ میرے پڑوسی کو بھی اس مواد تک رسائی حاصل ہو اور وہ میری بیوی کو بری نظروں سے دیکھے”۔
اس وقت بھارت میں فحش نگاری کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں، پینیل کوڈ اور آئی ٹی ایکٹ صرف مخصوص مواد کی تیاری اور ٹرانسمیشن پر پابندی عائد کرتا ہے۔اس قانون کی خلاف ورزی پر تین سال قید یا دس ہزار ڈالرز جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، کچھ خواتین گروپس بھی فحش مواد پر مکمل پابندی کے مطالبے کی حمایت کررہے ہیں۔ رنجنا کماری نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے سہنٹر فار سوشل ریسرچ سے تعلق رکھتی ہیں۔
کماری”فحش نگاری خواتین اور بچوں کے خلاف جارحیت اور تشدد کا سبب بنتی ہے۔ انہیں غیر انسانی اور بے رحم سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس سے جنس سے متعلق غیر حقیقی توقعات پیدا ہوتی ہیں، اس سے تشدد کو عقلی جواز ملتا ہے”۔
مگر ماہر نفسیات انوراگ مشرا کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی اور عریاں پن کے درمیان تعلق کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
مشرا”ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ تعلق اور وجہ دو مختلف چیزیں ہیں، کسی چیز کا کسی اور سے تعلق ہوسکتا ہے، جیسے الکحل یا عریاں مواد دیکھنے کا تعلق زیادتی سے ہوسکتا ہے، مگر یہ اس کی وجہ نہیں ہوسکتا۔ درحقیقت دستیاب ڈیٹا دیکھنے سے بالکل مختلف تصویر نظر آتی ہے۔ وہ ممالک جہاں عریاں مواد کو قانونی حیثیت حاصل ہے وہاں جنسی جرائم کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے”۔
مگر اپنے آپ ویمن ورلڈ نامی ادارے کی عہدیدار سومیہ سریش کا کہنا ہے کہ عریاں مواد پر پابندی کی دیگر وجوہات بھی ہیں۔
سومیہ”فحش نگاری کی صنعت صرف زیادتی یا تشدد کی وجہ نہیں، بلکہ اس کے باعث ہیومین ٹریفکنگ اور جسم فروشی کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ یہاں ایسی متعدد استحصال زدہ خواتین اور لڑکیاں ہیں جنھیں فحش نگاری کیلئے ٹریفک کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 79 فیصد ہیومین ٹریفکنگ کے شکار جنسی استحصال اور فحش نگاری کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں”۔
دوہزار دوءمیں ماہرین کے ایک پینل تشکیل دیا گیا تھا تاکہ فحش ویب سائٹس پر پابندی عائد کی جاسکے، مگر سائبر کرائم کے وکیل اپر گپتاکا کہنا ہے کہ یہ ایک ناممکن کام ہے۔
گپتا”دیکھنا کوئی غیرقانونی عمل نہیں، آپ کسی خاص پیج کو بلاک کرسکتے ہیں مگر آپ عوام تک عریاں مواد کی رسائی نہیں روک سکتے۔ ہم قانون کے ذریعے انسانی خواہش کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اور یہ اکثر اوقات ناکام ثابت ہوتی ہے۔ اور اگر آپ فحش نگاری اور زیادتیوں کے درمیان تعلق بھی ثابت کردے تو بھی لوگوں کو عریاں مواد دیکھنے سے روکنا بہت مشکل ہوگا”۔