Residents of a South Korean Island Cope with Living Next Door to North Korea – شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان کشیدگی

جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے، اور پیانگ یانگ حکومت نے سیﺅل اور اس کے اتحادی امریکہ پر جوہری حملے کی دھمکی دیدی ہے۔ مشترکہ سرحد پر دونوں ممالک کی افواج انتہائی الرٹ ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بینگیانگ آئی لینڈ کے شمالی ساحل کو مکمل طور پر خاردار باڑیں اور سیمنٹ کی دیواروں کے ذریعے بند کردیا گیا۔ تاہم کچھ جگہ خالی چھوڑی گئی ہے جہاں سے ماہی گیر شکار کیلئے سمندر میں جاسکتے ہیں۔ تاہم ان دنوں کوئی بھی سمندر میں جانے کے لئے تیار نہیں۔

ہماری ملاقات یہاں کے ایک ماہی گیر لی ھاوا سن سے ہوئی، جو اپنے مچھلی کے جال کی مرمت کررہے تھے۔

لی ھاوا سن “عام طور پر میں اپنی کشتی میں پہلے پانچ منٹ تک سمندر کی سیر کرتا ہوں، اس کے بعد مچھلی کا شکار شروع کرتا ہوں، مگر اب شمالی کوریا کے خطرے کے باعث میں زیادہ دور جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا”۔

بینگیاگ شمالی کورین سرحد سے صرف پندرہ کلو میٹر دور واقع ہے، گزشتہ ماہ شمالی کورین صدر کم جونگ ان نے اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو وہ اس جزیرے کا کنٹرول سنبھال لے۔ بحر زرد کا یہ ساحلی علاقہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان طویل عرصے سے وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے، مگر اب مقامی افراد بہت زیادہ فکرمند ہیں۔

ایک اور ساحلی بندرگاہ پر کام کرنے والی خواتین اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہی ہیں، ان سب کی عمریں ستر سال سے زائد ہیں اور وہ اپنے نام بتانے کیلئے تیار نہیں، تاہم انکا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کے مظالم حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ شمالی کوریا کو نوجوان صدر کے بارے میں پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔

ویمن” کم جونگ ایون اپنے والد کم جونگ ال بھی بدتر ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کب میزائل داغ دے، ہم سب خوفزدہ ہیں”۔

شمالی کورین جارحیت سے بچاﺅ کیلئے اس جزیرے پر کافی اقدامات کئے گئے ہیں، ہزاروں جنوبی کورین فوجی اور میریز یہاں تعینات ہیں، جبکہ رہائشیوں کے تحفظ کیلئے نوے بم پروف پناہ گاہیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔

کم جن گک ایسی ایک پناہ گاہ کے اندر لگا نقشہ دکھاتے ہوئے سمجھا رہے ہیں کہ بینگنیانگ شمالی کوریا سے کتنا قریب ہے۔ وہ اس جزیرے پر سول ڈیفنس فورس کے سربراہ ہیں، انکا کہنا ہے کہ مقامی شہری دیگر جنوبی کورین افراد کی طرح شمالی کوریا سے لاحق خطرات کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔

کم جن گک”یہاں حملے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باسی سیﺅل یا کسی اور جگہ کے مقابلے میں شمالی کوریا کے خطرے سے زیادہ باخبر ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی ممکنہ حملے سے خوفزدہ ہیں”۔

تاہم انکا کہنا ہے کہ انہیں جنگ کا تو نہیں البتہ کسی اچانک حملے کا خطرہ ہے، جیسا شمالی کوریا نے 2010ءمیں ایک قریبی جزیرے یﺅنگپیانگ پر کیا تھا، جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔کم کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے یہاں بمباری کی تو الارم بجتے ہی تمام رہائشی پناہ گاہوں کا رخ کریں گے، تاہم وہ توقع کرتے ہیں کہ کبھی ایسا نہ ہو۔

سیاحت یہاں کی مرکزی صنعت ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی دھمکیوں کے باعث اب سیاح یہاں کا رخ نہیں کررہے۔یہاں تک کہ کچھ کمپنیوں نے تفریحی کشتیوں کی سروس بند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ موجودہ صورتحال کب تک برقرار رہے گی۔ پارک ڈونگ سک ،من ہﺅا نامی ہوٹل کے مالک ہیں، انکا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے کاروبار بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

پارک”شمالی کوریا کے خطرے اور بینگنیانگ کے بارے میں میڈیا کوریج کے باعث میرے مہمانوں نے آئندہ کئی ماہ کیلئے اپنی ریزریشن منسوخ کرادی ہے۔ اس صورتحال کا اثر مقامی کاروبار پر پڑا ہے اور یہ اب تک کی سب سے بدترین صورتحال ہے”۔

تاہم پارک کیلئے آج کا دن اچھا ثابت ہوا، کیونکہ سیﺅل سے تعلق رکھنے والے چالیس سے زائد سیاح ان کے ہوٹل میں مقیم ہیں، ان سب کا تعلق سینیئر سیٹیزن تریول کلب سے ہے۔ نام جیونگ وو بھی ان میں شامل ہیں۔

جیونگ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم یہاں جزیرے میں رہے یا گھر واپس چلے جائیں؟ اگر اس جزیرے پر حملہ ہوا تو ہمارا پورا ملک حالت جنگ میں چلا جائے گا، جنوبی کوریا کا ہر حصہ میدان جنگ بنا جائے گا”۔

تاہم اپنے ٹور کے اختتام پر یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے، جبکہ بینگنیونگ شمالی کوریا کے ہتھیاروں کو جھکتے ہوئے دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ پارک ڈونگ سک کا کہنا ہے کہ وہ اس کشیدگی کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔

پارک”میں شمالی کوریا سے خوفزدہ نہیں، میں یہاں ہمارے تحفظ کیلئے تعینات فوجیوں کی صلاحیت پر بھروسہ کرتا ہوں، یہاں کی صورتحال چاہے جتنی بھی خراب ہوجائے میں اس جزیرے کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاﺅں گا”۔

تاہم بہت سے مقامی باسی ضرورت پڑنے پر یہاں سے جانے کے لئے تیار ہیں

ماہی گیر لی ہﺅا سن کا کہنا ہے کہ وہ اس جزیرے کو چھوڑنے پر غور کررہا ہے۔

لی”میرے بچوں نے میری بیوی اور مجھے کہا ہے کہ ہمیں اس جزیرے کو چھوڑ کر کسی محفوظ علاقے میں چلا جانا چاہئے۔ میں اس بارے میں سوچ رہا ہوں کیونکہ اس وقت شمالی کوریا کی جانب سے بہت زیادہ شور کیا جارہا ہے، تاہم اگر ہم سب یہاں سے چلے جائیں گے تو پھر اس جزیرے کا کیا ہوگا؟”