آئندہ سال آسیان تنظیم میں شامل ممالک متحد ہوکر سرحدوں سے آزاد خطے کی تشکیل کریں گے، جسے آسیان کمیونٹی کا نام دیا گیا ہے، مگر اس خطے کی خاصیت ہی یہاں کی ثقافتی رنگارنگی ہے، یہی وجہ ہے کہ موجودہ تنازعات جیسے برما میں مسلمانوں پر حملے یا کمبوڈیا میں زیموں پر قبضے جیسے تنازعات ختم ہونیکا امکان نہیں۔خطے کے اس تنوع پر میڈیا کی رپورٹنگ کے حوالے سے ایشیا کالنگ نے خطے بھر کے صحافیوں کو ایک جگہ جمع کرکے مشکل سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کی، اسی بارے میں بلیٹن میں شامل ہے آج کی رپورٹ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے حال ہی میں برما سے بدھ انتہاپسندوں کے ہاتھوں درجنوں مسلمانوں کی ہلاکت کی رپورٹس پر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، برما میں جون 2012ءکے بعد سے مسلم برادری پر حملوں و تشدد کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اے چین نینگ برما کے ایک آزاد میڈیا ادارے ڈیموکریٹک وائس آف برما کے چیف ایڈیٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ ان واقعات کی رپورٹنگ آسان کام نہیں۔
نینگ”ہمارے صحافیوں کو دھمکیاں دیکر کہا جاتا ہے کہ مذہبی فسادات کی رپورٹنگ نہ کریں، مثال کے طور پر مغربی برما میں مسلمانوں اور بدھ افراد کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے، اقلیتی مسلم برادری کو ملک سے باہر نکالا جارہا ہے، ان کے دیہات جلائے جارہے ہیں، مگر ہم جب بھی اس بارے میں رپورٹ کرتے ہیں، تو ہم پر بھی حملے شروع ہوجاتے ہیں، بیس سال قبل یہ جاننا آسان تھا کہ کون سا طبقہ ہماری رپورٹ کو ناپسند کرتا ہے اور وہ حکومت ہوتی تھی، مگر آج حالات مختلف ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ہماری رپورٹس کو کون ناپسند کرتا ہے”۔
اور یہ صرف برمی صحافیوں کا ہی مسئلہ نہیں، پورے خطے میں تنازعات کے حوالے سے رپورٹنگ پر صحافیوں کو اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شراد کتان، ملائیشیاءکے بی ایف ایم ریڈیو کے پروڈیوسر ہیں۔
شراد”ملائیشیاءمیں ایک مسئلہ مختلف مذاہب کی ثقافت ہے، اور میرے خیال میں اس خطے کی ثقافت شائستگی سے مزئین ہے یا دیگر افراد کے بولنے کے حق میں عدم مداخلت کی پالیسی ہے، لیکن کیا واقعی مجھے اپنے مسئلے پر بولنے کا حق حاصل ہے؟ آپ ہوسکتا ہے کہ اس بارے میں خوش گمان ہو مگر ملائیشیاءمیں میرے باس کا کہنا ہے کہ برما میں مسلم اقلیتی برادری کیساتھ تمہارے لوگ کیا کررہے ہیں؟ تم کو یہ سوچنا چاہئے، تم اس بارے میں بات کرنے والے کون ہو؟ درحقیقت مجھے بولنے کا حق نہیں دیا جارہا”۔
مباحثے میں شریک صحافیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اعلیٰ معیار کے پیشہ ورانہ کام کے ذریعے ہی اس چیلنج پر قابو پایا جاسکتا ہے، ویت نام اسٹیٹ ریڈیو کی ڈپٹی ڈائریکٹر کیم ہوا پو کا کہنا تھا کہ میڈیا کو تمام گروپس کیساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔
کیم پو”ویت نام میں 54 مختلف نسلی گروپس ہیں، جبکہ ایک گروپ کو اکثریت حاصل ہے جو ویٹ ہیں۔ ثقافتی تنوع کے تحفظ کیلئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، ہمارے دفتر میں مختلف گروپس کے افراد کو نمائندگی دی گئی ہے، اسی طریقے سے ہم اقلیتی برادریوں کے بارے میں جان سکتے ہیں، اور اپنی خبریں ان سے شیئر کرسکتے ہیں”۔
آئندہ سال آسیان کے دس رکن ممالک ایک بڑی مارکیٹ بن جائیں گے، لوگ بغیر ویزہ کے ایک سے دوسرے ملک تک جاسکیں گے، آسیان سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر ،ڈینی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہوگا۔
ڈینی “باضابطہ طور پر تو آسیان میں شامل حکومتیں ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت نہیں کرسکتیں، مگر میڈیا ایک مختلف شعبہ ہے، تنوع کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ایک چیز سے کچھ لوگ اتفاق کرتے ہیں، کچھ نہیں، یہ اس خطے کے ایک حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک سوال کا کوئی ایک جواب نہیں، جو سب کو خوش کرسکے، آپ کو متعدد جوابات دینا پڑتے ہیں، جو ہر گروپ کی تسلی کرسکے”۔