کمبوڈیا کے دارالحکومت Phnom Penh میں 37 برس قبل Khmer Rouge نامی کمیونسٹ پارٹی نے حکومت سنبھالی، جس کے دور میں ایک تہائی کمبوڈین شہری قحط سالی، امراض، حد سے زیادہ کام اور سزاﺅں کے باعث ہلاک ہوگئے۔ آج کل کمبوڈیا میں اس حکومت کے عہدیداران کیخلاف مقدمات چل رہے ہیں۔
یہ Khmer Rouge کا ترانہ ہے، جس میں کمبوڈین کاشتکاروں سے انقلاب کیلئے جدوجہد کرنے کا کہا گیا ہے۔ کمبوڈیا آج بھی اس انقلابی سوچ کے بدترین نتائج کا سامنا کررہا ہے۔ Khmer Rouge حکومت نے اپنے دور میں شہروں سے بیس لاکھ افراد کو نکال کر انہیں کھیتوں پر پہنچا دیا، تاکہ ایک زرعی کمیونسٹ معاشرے کو تشکیل دیا جاسکے۔ اس حکومت نے کمیونزم کی مخالفت کرنے والے عناصر جیسے بازار، اسکول، اخبارات، مذہبی رسومات اور نجی جائیدادوں کو ممنوع قرار دیدیا۔ دانشور، تاجر اور غیرملکیوں کو ملک سے باہر نکال دیا گیا یا قتل کردیا گیا۔یہ سب واقعات آج سے 37 سال قبل اپریل میں پیش آئے۔
Phnom Penh کے نواحی علاقے Choeung Ek میں ایک بدھ تقریب کا انعقاد ہورہا ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں سترہ ہزار افراد کو پھانسی دی گئی تھی، اس جگہ 129 اجتماعی قبریں موجود ہیں، تاہم اب تک 43 کو ہی دریافت کیا جاسکا ہے۔ آج یہاں ہلاک شدگان کی یاد میں تقریب ہورہی ہے، جبکہ آڈیو ٹیپ کے ذریعے لوگوں کو یہاں کی پرتشدد تاریخ سے آگاہ کیا جارہا ہے۔
جس دن Khmer Rouge نے اقتدار سنبھالا، لوگوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکال کر دیہات کی جانب منتقل کیا گیا۔
61 سالہ Kim Sann کو آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب انھوں نے آخری بار اپنے خاندان کو دیکھا تھا۔
(female) Kim Sann “علی الصبح میں نے فائرنگ کی آوازیں سنی اور پھر Khmer Rouge جنگجوﺅں نے دارالحکومت پر حملہ کردیا۔ میں انہیں دیکھ کر ڈر گئی تھی، انھوں نے ہمیں تین روز کے اندر شہر چھوڑنے کا حکم دیا، مگر اس کے بعد انھون نے میرے خاندان سمیت متعدد افراد کو فوجی گاڑیوں میں ڈالا اور دیہی علاقوں میں لے گئے۔ اس کے بعد میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا”۔
اس تقریب کے دوران متاثرہ افراد اس ظالمانہ حکومت میں پیش آنے والے بدترین تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کررہے ہیں۔ ستر سالہ Sithol کے خاندان کے چار افراد اس حکومت کے مظالم کی نذر ہوگئے تھے۔
(male) Sithol “سینتیس سال قبل Khmer Rouge کی آمد کمبوڈین تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا۔ Pol Pot اور اس کے ساتھیوں نے اتنا ظالمانہ رویہ اختیار کیا کہ ہم اسے کبھی بھول ہی نہیں سکتے۔ آج ہم اس تقریب میں اس دکھ کو یاد کررہے ہیں اور اس حکومت کے ہاتھوں قتل ہونیوالے افراد کی روحوں کو سکون پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں”۔
Khmer Rouge کا ماننا تھا کہ والدین اپنے بچوں کو سرمایہ دارانہ سوچ کا حامل بنارہے ہیں، اسی لئے وہ بچوں کو کمیونزم سے متعارف کرانے کیلئے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ انھوں نے ان بچوں کو اپنی جماعت کا نیا خون قرار دیا، Ly Monisak بھی ان بچوں میں سے ایک ہیں۔ اب وہ 43 سال کے ہوچکے ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ Khmer Rouge دور میں ان کے خاندان کے اکیس ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔
(male) Ly Monisak Khmer Rouge” جماعت میرے خاندان سے نفرت کرتی تھی، یہاں تک کہ انھوں نے میری ماں کو بھی کھیتوں پر کام کرنے کیلئے مجبور کیا،میری ماں کے انکار پر انہیں اور میرے تین ماہ کے بھائی کو قتل کردیا گیا۔ آج میں تنہا زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاندان کیلئے انصاف کی جدوجہد کررہا ہوں”۔
Khmer Rouge نے کمبوڈیا پر چار برس تک حکومت کی، 1979ءمیں ویت نامی فوجیوں نے حملہ کرکے Phnom Penh کا کنٹرول سنبھال لتے ہوئے کمبوڈیا کا نام People’s Republic of Kampuchea رکھ دیا، تاہم جھڑپوں کا سلسلہ 1993ءتک جاری رہا، جس کے بعد امن عمل کے تحت ملک کا نام تبدیل کرکے Kingdom of Cambodia رکھ دیا گیا۔
Khmer Rouge ٹربیونل کمبوڈین اور بین الاقوامی ججز پر مشتمل عدالت ہے، جس کی تشکیل چھ برس قبل ہوئی تھی، تاکہ Khmer Rouge دور حکومت میں جرائم کرنے والے افراد کیخلاف کارروائی کی جاسکے۔ تاہم انصاف کی فراہمی کا یہ عمل انتہائی سست روی سے جاری ہے، دو برس قبل Khmer Rouge دور کے ایک اہم عہدیدار Kaing Guek Eav کو انسانیت کیخلاف جرائم کرنے والا مجرم قرار دیا، اور رواں برس نظرثانی اپیل کے بعد Kaing Guek Eav کو عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ اسی طرح گزشتہ سال Khmer Rouge کے اہم ترین رہنماﺅں کیخلاف بھی مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوا، ان رہنماﺅں میں Khmer Rouge حکومت کے اہم ترین عہدیدار Nuon Chea بھی شامل ہیں۔ انھوں نے لوگوں کو زبردستی شہروں سے دیہات منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم وہ اسے جائز قرار دیتے ہیں۔
(male) Nuon Chea 1972″ءکے بعد کئی برس تک دارالحکومت کے رہائشیوں کو قحط کا سامنا کرنا پڑا ، لوگوں کے پاس کھانے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا۔ 1975ءمیں اس قحط سالی کیخلاف ہر جگہ احتجاج، ہڑتالیں اور پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ لوگوں کے پاس ملازمتیں نہیں تھیں، دارالحکومت کی گلیاں بھکاریوں سے بھری ہوئی تھیں، یہاں تک کہ فوجیوں کو بھی تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں۔ حکومت صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی تھی، یہی وجہ تھی کہ ہم نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال کر لوگوں کو دیہی علاقوں میں منتقل کیا تاکہ وہ کاشتکاری کا کام کرسکیں”۔
مگر لوگوں کو اب بھی اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کیا ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ Nuon Chea کی توجیہہ ان کے کسی کام نہیں آسکی ہے۔