(Remember the Nation’s Corrupt – the Indonesian Way) کرپشن کیخلاف انڈونیشیاءمیں آن لائن مہم

 

انڈونیشیاءمیں کرپشن کی روک تھام کرنے والی ایک این جی او کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سرکاری حکام کی جانب سے 230 ملین ڈالرز کی کرپشن کی گئی۔

گزشتہ سال انڈونیشیاءکو جنوبی مشرقی ایشیاءکا کرپٹ ترین ملک قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات ہانگ کانگ کے ایک ادارے کی جانب سے کئے گئے سروے میں سامنے آئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نئی ویب سائٹ Korupedia سامنے اائی ہے جہاں عام شہری کرپشن کی شکایات درج کراسکتے ہیں یا کرپٹ حکام کیخلاف چلنے والے مقدمات کی پیشرفت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔اس ویب سائٹ پر کرپشن میں سزا پانے والے کسی شخص کے نام پر کلک کریں، تو اس کے خلاف مقدمے کی تمام تفصیلات پڑھی جاسکتی ہیں۔ انڈونیشیاءمیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل Teten Masduki نے یہ ویب سائٹ شروع کی ہے۔

 (male) Teten Masduki ” Korupedia کرپشن کا ایک آن لائن انسائیکلوپیڈیا ہے، ہم نے اس نظرئیے کے تحت اسے بنایا ہے کہ ہر شخص کرپٹ حکام کے بارے میں جان سکے۔ یہ کرپشن کیخلاف ہماری جنگ کا حصہ ہے۔ ویب سائٹ میں کرپٹ افراد کی فہرست موجود ہے اور ہم اس کے ذریعے پولیس، سرکاری پراسیکیوٹرز اور انسداد بدعنوانی کمیشن پر مقدمات تیزرفتار بنیادوں پرچلانے کیلئے دباﺅ ڈال سکتے ہیں”۔

Korupedia نامی اس ویب سائٹ کو بارہ جون کو متعارف کرایا گیا تھا۔کوئی شخص اس ویب سائٹ پر جاتا ہے تو وہاں ایک انڈونیشیاءکا نقشہ سامنے آتا ہے جس میں مختلف مقامات کی نشاندہی سرخ ٹیگز سے کی گئی ہے۔ اب تک اس ویب سائٹ پر سات سو اسی کرپشن کیسز کی تفصیلات اکھٹی کی جاچکی ہے۔ یہ وہ تمام مقدمات ہیں جن میں کرپٹ افراد کو عدالتوں نے مجرم قرار دے کر سزائیں سنائی ہیں۔ان میں سے ایک مقدمہ محکمہ ٹیکس کے عہدیدار Gayus Tambunan کا ہے، جس نے تیس لاکھ ڈالر کا غبن کیا، جبکہ ایک واقعہ کاروباری خاتون Artalyta Suryani کا ہے، جسے سرکاری وکیل کو رشوت دینے پر سزا سنائی گئی۔Heru Hendratmoko ویب سائٹ کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ ایشیاءکالنگ کے پروڈیوسر بھی ہیں۔ انکا کہناہے کہ اس ویب سائٹ سے لوگوں کو کرپشن کے بارے میں زیادہ بہتر معلومات مل سکے گی۔

 (male) Heru Hendratmoko “ہر شخص کسی بھی وقت ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ اس سے کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سماجی پابندیوں کے اطلاق میں بھی مدد ملے گی۔ ہر شخص جو اس ملک کو کرپشن کے ذریعے تباہ کررہا ہے، اب وہ ایسا کرنے سے پہلے ایک بار سوچے گا ضرور، کیونکہ جب کوئی مجرم ثابت ہوجاتا ہے تو ہمای ویب سائٹ پر اس کا نام، تصویر اور دیگر تفصیلات ڈال دی جاتی ہیں”۔

انڈونیشیاءمیں دیگر حلقے بھی کرپشن کیخلاف آن لائن جدوجہد کررہے ہیں۔ Yogyakarta نامی شہر میں اسکولوں کے طالبعلموں نے خود کو انسداد بدعنوانی سفیر قرار دیا ہے۔ Elizabeth Febriani ان میں سے ایک ہیں۔

 (female) Elizabeth Febriani “ہم نے بدعنوانی کیخلاف مہم کیلئے2009ءمیں فیس بک گروپ کا آغاز کیا تھا۔ہم نے فیس بک پر کرپشن کیخلاف متعدد تحاریر شائع کیں، ہمیں توقع ہے کہ ہمارے ملک کا ہر شہری فیس بک پر کرپشن کیخلاف آواز اٹھائے گا، کیونکہ ہمارے دل جانتے ہیں کہ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہم اپنی مہم کے حق میں مختلف اسکولوں کے ہزاروں طالبعلموں کے ساتھ ملکر دستخطی مہم بھی چلارہے ہیں”۔

ان طالبعلموں نے گزشتہ دنوں گورنرYogyakarta کے دفتر کے باہر ایک درخت نصب کیا۔ ایک طالبہ Sekarsoca یہ درخت کرپشن کیخلاف نوجوانوں کی جدوجہد کی علامت ہے۔

 (female) Sekarsoca “اس درخت کا پھل بہت لذیذ ہوتا ہے۔ یہ انتہائی صحت مند او قدرتی ہے بالکل نوجوانوں کی طرح۔ اگر ہم شروع سے جان لیں کہ کرپشن انتہائی بری چیز ہے تو ہم بڑے ہوکر اپنے بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر انسان بن سکیں گے۔ اگر ہم مستقبل میں پارلیمنٹ کے رکن بنے تو ہم عوامی خواہشات کو زیادہ بہتر طریقے سے پوری کرسکیں گے”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *