Rebel Riot Burma Punks: ‘People Thinks We’re Crazy’ – برمی غیر روایتی گروپ

برمی نوجوانوں میں روایتی اقدار کی بجائے جدید ملبوسات، ٹیٹوز بنوانا اور بالوں کو رنگ کروانا عام ہوتا جارہا ہے، جو والدین کے لئے فکرمندی کا سبب بنا ہوا ہے۔کیاواکیاوا بھی ایسا ہی نوجوان ہے، جو اس مغربی انداز کو پنک اسٹائل قرار دیتا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

ہم لوگ اس وقت ریبل ریﺅٹس نامی گروپ کے بیس کیمپ کے باورچی خانے میں موجود ہیں، نصب شب ہوچکی ہے اور اس وقت پنک میوزک بجانا کافی خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

کیاوا”یہ وقت کافی خطرناک ہے، کیونکہ آس پاس کا علاقہ بہت خاموش ہے، پلیز یہ دروازہ بند کردیں”۔

کیاوا اپنے ساتھیوں کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈرمز اور جھانجھ پر مزید شیٹیں چرھا دیں اور کوشش کریں کہ آواز زیادہ بلند نہ ہو۔ یہ گروپ لوگوں کی توجہ نہیں چاہتا، برما اس وقت تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور سنسرشپ کے پرانے قوانین میں نرمی کی جارہی ہے، مگر اب بھی کوئی شخص نہیں جانتا کہ کون سی حرکت اسے جیل پہنچانے کا سبب بن جائے۔

ریبل ریﺅٹس کا بیس کیمپ رنگون کے مضافات میں واقع ہے، اور یہاں چودہ افراد مقیم ہیں، یہاں کی دیواریں پنک کنسرٹ کی تصاویر سے سجی ہوئی ہیں۔

ایک گانے کے بولوں میں کہا جارہا ہے، ہمیں کوئی ڈر نہیں، ہمیں کوئی تذبذب نہیں، ہم اس ظلم کیخلاف ہیں، ہمارا نعرہ بغاوت ہے۔ دیوار پر برمی رہنماءآنگ سان سوچی کی تصویر رشیئن میزک گروپ کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔

کیاوا”آنگ سان سوچی بھی ایک پنک ہے، رشیئن میوزک بھی ایک پنک میوزک بینڈہے، کیا آپ اس گروپ کے بارے میں جانتے ہیں؟ انکا تعلق روس سے ہے؟ اس گروپ کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور آنگ سان سوچی نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ہم بہت خوش ہیں کہ آنگ سان سوچی پنک گروپس کے بارے میں سوچتی ہیں، ہمیں یہ خبر پڑھ کر بہت حیرت ہوئی اور ہم اس پر ان کے شکرگزار ہیں۔ ہم ایک خاندان کی طرح ہیں اور پوری دنیا ہماری برادری کیلئے فکرمند ہے”۔

ایک طرف برما کی سب سے مقبول شخصیت پنک کے بارے میں سوچتی ہے تو دوسری عام عوام کو ان کی کوئی پروا نہیں۔ یایا کا اندازہ ہے کہ رنگون میں صرف دو سو پنکس موجود ہیں۔

یایا”ہمارا معاشرہ تضاد کا شکار ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ روایتی اقدار کو مانتا ہے اور وہ ہمیں دیوانہ سمجھتے ہیں۔ انکا
خیال ہے کہ ہم پاگل ہیں، ہم بہت زیادہ اچھے شہری بھی نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے بارے میں زیادہ سمجھ نہیں پاتے”۔

سوال”جب آپ نے پہلی بار پنک میوزک کو سنا تو کیسا محسوس کیا؟

یا”شروع سے میں ایک انتہا پسند شخص بننا چاہتا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ پنک گروپ کی انتہاپسندی پر مشتمل ہے، اور یہ مکمل طور پر روایتی برمی ثقافت سے مختلف ہے”۔

سوال”آپ ہمیشہ سے باغی شخص کیوں بننے کے خواہشمند تھے، یہ خیال آپ کے دماغ کہاں سے آیا؟

یا”جب میں اسکول میں تھا تو جب سے میں اپنے معاشرے کا انداز تبدیل کرنا چاہتا تھا، میں لوگوں کا جھوٹ پسند نہیں کرتا تھا اور میں کرپشن اور دولت کے غلط استعمال کے بھی خلاف ہوں۔ میں نے یہ سب چیزیں نوجوانی میں جان لی تھیں اور میں انہیں پسند نہیں کرتا تھا۔ میں معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتا تھا جس کیلئے میں نے پنک بننا پسند کیا”۔

یا اپنے والد کے بارے میں بتارہا ہے جو ایک پولیس افسر ہیں۔

یا”وہ پولیس افسر ہیں، تاہم وہ حکومت کے مخالف بھی ہیں۔ وہ حکومت کی حمایت کرنے کے خواہشمند نہیں، مگر ان کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں”۔

یا کے بقول اس کے والد کو اس کے پنک طرز زندگی کے بارے میں جان کر پہلے تو بہت صدمہ ہوا تاہم جب انہیں پتا چلا کہ میں معاشرہ بہتر بنانے کیلئے کام کررہا ہوں تو وہ اس بات پر رضامند ہوگئے اور اب وہ مجھ سے سیاست پر کافی بات کرتے ہیں۔

یا”کئی بار ہمارے خیالات بالکل یکساں ہوتے ہیں، یعنی جو وہ چاہتے ہیں وہی میری بھی خواہش ہوتی ہے”۔
سوال”کیا اب وہ آپ پر فخر محسوس کرتے ہیں؟

یا”نہیں ایسی بھی بات نہیں، وہ مجھ پر فخر نہیں کرتے کیونکہ وہ میرے بارے میں کافی فکرمند بھی رہتے ہیں، کیونکہ جب میں کبھی سڑکوں پر احتجاج کیلئے جاتا ہوں، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہاں کے لوگوں کیلئے احتجاج کرنا کتنا خطرناک ہے، اسی لئے وہ میرے بارے میں فکرمند رہتے ہیں”۔

یانے 2007ءمیں ریبل ریﺅٹس کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت فوجی حکومت نے بدھ بھکشوﺅں کی جانب سے زرد انقلاب سے شروع کی جانے والی تحریک کیخلاف کریک ڈاﺅن کیا تھا، ہزاروں حکومت مخالف مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا تھا، یا حال ہی میں فوج سے اقتدار سول حکومت میں منتقل ہونے کے عمل سے زیادہ متاثر نہیں، کیونکہ ان خیال میں اس حکومت کے بیشتر اراکین کا تعلق سابق فوجی حکمرانوں سے ہی ہے۔

یا”پہلی بات تو یہ ہے کہ جمہوریت اور سرمایہ کاری برابر ہیں، جبکہ برما میں آنے والی تبدیلی حقیقی نہیں بلکہ الفاظ کی ہے۔ غریب اور امیر کے درمیان خلاءوسیع ہورہا ہے اور میرا نہیں خیال حکومتی ناموں میں تبدیلی سے کسی قسم کی تبدیلی آئی ہے”۔

وہ اپنے سیاسی خیالات کا اظہار سڑکوں پر کپڑے فروخت کرکے کرتے ہیں۔

کئی بار رات کو اپنی دکان بند کرکے وہ کھانا خرید کر بے گھر افراد میں بھی تقسیم کرتا ہے۔

یا”ہم روزانہ متعدد غریب اور بے گھر افراد اور آوارہ بچوں کو دیکھتے ہیں، ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں ان کی مدد کرنی چاہئے، ہم انہیں کہتے ہیں کہ یہ ان کے رات کا کھانا ہے”۔

سوال”آپ کے خیال میں یہ لوگ سوچتے ہیں کہ پنک افراد انہیں خوراک دیتے ہیں؟

یا”نہیں انہیں کوئی پروا نہیں ہم لوگ کون ہیں، وہ بس کہتے ہیں ہم بہت بھوکے تھے اس لئے آپ کا شکریہ۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ہم کیسے نظر آتے ہیں”۔

سوال”یہ لوگ کیسے زندہ رہتے ہیں، ہمارا مطلب ہے کہ وہ کھانے کے لئے رقم کیسے کماتے ہیں؟

یا”ہم انہیں بلاتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنی دکان کی آمدنی شیئر کرتے ہیں، مگر کئی بار ہمارے پاس بھی کچھ کھانے کو نہیں ہوتا، اس لئے ہمیں بھی بھوکا رہنا پڑتا ہے۔ کئی بار ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ہوتے”۔