حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماﺅں کے لئے غذا کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔رمضان المبار ک کے مہینے میں شیر خوار بچوں کی ماﺅں اور حاملہ خواتین کو روزہ رکھنے سے منع کیا جاتا ہے،کیونکہ روزہ رکھنے سے دن بھر جسم کو وہ خوراک نہیں مل پاتی جس کی ایک حاملہ اور دودھ پلانے والی ماں کو ضرورت ہوتی ہے،ڈاکٹر شبین ناز بتول جو کہ ایک گائیناکولوجسٹ ہیں کہتی ہیں کہ حاملہ خواتین کاحمل کے شروع کے اور آخری مہینوں میں روزہ نہ رکھنا ان کی اور ان کے بچے کی صحت کے لئے بہتر ہوتا ہے،
ڈاکٹر شبین ناز بتول کے مطابق شیر خوار بچے اپنی قدرتی غذا کے لئے اپنی ماﺅں کے محتاج ہوتے ہیں،لیکن 4 مہینے سے بڑی عمر کے بچے چونکہ ماں کے دودھ کے علاوہ ٹھوس غذ ا بھی لینا شروع کر دیتے ہیں لہٰذہ ایسے بچوں کی مائیں روزہ رکھ سکتی ہیں،
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سال میں ایک ہی بار نصیب ہوتا ہے ،ایسے میں ہر مسلمان رمضان المبارک کے روزے رکھنے میں پیش پیش ہوتا ہے اور بلا عذر روزہ نہیں چھوڑتا،بعض حاملہ اور شیر خوار بچوں کی مائیں بھی اپنے روزہ کی مکمل پابندی کرتی ہیں اور اس معاملے میں اپنی صحت کا بھی خاص خیال نہیں رکھتیں،ایسی خواتین جو روزہ کسی صورت میں چھوڑنا نہیں چاہتیں ،ان کو مشورہ دیتے ہوئے ڈاکٹر شبین ناز بتول کہتی ہیں،
روزہ ایک بدنی عبادت ہے،روزے کو جسم کی زکوٰت بھی کہا جاتا ہے،لیکن ےہ عبادت اس وقت ہی صحیح طور پر ادا ہو سکتی ہے جب جسم مکمل صحت مند ہو،حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماﺅں کو اسلامی احکامات کے لحاظ روزہ نہ رکھنے کی رخصت حاصل ہے ،اور جتنے دن کے روزے چھوٹ جائیں ان کا حساب بعد کے دنوں میں پورا کر لیا جائے ،اور اس حوالے سے خواتین پر کسی قسم کا گناہ بھی نہیں،اس لئے خواتین اپنی اور اپنے بچے کی صحت کے لئے کسی بھی مستند عالم دین اور گائناکولوجسٹ سے مشورہ کر کے روزے رکھنے ےا نہ رکھنے کے حوالے سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔