Ramazan & Prices Hike رمضا ن اور مہنگا ئی

            27 جولائی کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران روز مرہ ضرورت کی اشیاءکی قیمتوں میں کمی کیلئے 2 ارب روپے سے زائد کے ریلیف پیکج کی منظوری دی گئی۔جس کے تحت رمضان المبارک کے دوران ضروری خوردنی اشیاءکی یوٹیلیٹی اسٹورز پر ارزاں قیمتوں پر فراہمی کو ممکن بنایا جائیگا۔ اسی طرح 29 جولائی کو ایوان صدر میں ہونیوالے اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران مہنگائی پرقابوپانے کیلئے سخت اقدامات کرنیکا بھی فیصلہ کیا گیا۔

            اس خبر کو پڑھ کر پتا چل جاتا ہے کہ برسوں سے جاری روایت کے مطابق اس بار بھی رمضان المبارک کے دوران کھانے پینے کی اشیاءکے نرخ کنٹرول میں رکھنے کےلئے فیصلے اور اقدامات کئے جارہے ہیں،مگر ان سے پہلے ہی چینی ، بیسن، چنے ، گھی، دالوں ، دودھ، دہی ، گوشت ،کھجور اور دوسری اشیاءکی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال کا کہنا ہے کہ تاجروں نے رمضان سمیت تمام تہواروں کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔

            مگر اشیائے ضروریہ کے تھوک فروش سارا الزام حکومت کے سر ڈال دیتے ہیں۔ انیس مجید کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔

            دوسری جانب کراچی میونسپل کارپوریشن کے ڈائریکٹر پرائس کمیٹی واثق حسین فریدی کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب تک اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن ہی جاری نہیں کیا کہ ہم کام کریں یا نہ کریں۔

            پچھلے تین برسوں کے دوران مہنگائی میں ڈیڑھ سے دو سو فیصد کے لگ بھگ اضافے نے عوام کی قوت برداشت ختم کردی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہرسال بلند بانگ دعوے اور اخباری بیانات سامنے آتے ہیں،لیکن مہنگائی قابو میں آنے کا نام نہیں لیتی ۔اسکی ایک اور مثال گائے اور بکرے کے گوشت کی قیمتوں کا آسمان کو چھونا ہے۔جہانگیر قریشی ،میٹ مرچنٹ ویلفئیرایسوسی ایشن کے انفارمیشن سیکرٹری ہیں۔

            اس کے جواب میںکراچی میونسپل کارپوریشن کے ڈائریکٹر پرائس کمیٹی واثق حسین کا کہنا ہے کہ گوشت کی قیمتیںکمشنر کراچی محمد حسین سیداور میٹ مرچنٹ ویلفئیرایسوسی ایشن کے درمیان ہونیوالی میٹنگ میں طے کی گئی ہیں۔

            ذخیرہ اندوزی یا مہنگائی پر قابو پانااتنا مشکل کام نہیں ہے، اس کےلئے محض عزم اور ارادے کی ضرورت ہے۔مگر حکومت کی جانب سے ہرسال عارضی طریقہ کار ہی اختیار کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کے شروع میں کچھ دن سختی دکھانے کے بعد حکومتی کارروائیاں سست ہوجاتی ہےں۔خصوصاً ماہ مبارک کے دوران پھلوں کی طلب بڑھتے ہی منہ مانگے دام طلب کئے جانے لگتے ہیں، اس بارے میں ہول سیل فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ویلفئیر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی شاہ جہاںکا موقف ہے کہ طلب میں اضافہ ہو تو قیمتیں تو بڑھیں گی ہی۔

            کراچی انتظامیہ کے نمائندے واثق حسین فریدی کا کہنا ہے کہ ہماری جانب سے طے کردہ قیمتوں پر مصنوعات کی فروخت کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

            میٹ مرچنٹ ویلفئیرایسوسی ایشن کے انفارمیشن سیکرٹری جہانگیرقریشی گوشت اور زندہ جانوروں کی برآمد اور اسمگلنگ کوگوشت کی قیمتوں میں اضافے کاسبب قرار دیتے ہیں۔

            خیر حکومتی اقدامات کا نتیجہ تو چند روز بعد سامنے آہی جائیگا، تاہم لگتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی عوام کورمضان میں مہنگائی کے ہاتھوںمشکلات کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *