موجودہ دور میں کھیلوں کو پروفیشن کا درجہ دیا گیا ہے،بینکنگ، مارکیٹنگ اور دیگر شعبوں کی طرح اب کھیل کو بھی بطور کریئر اپنایا جا رہا ہے۔پاکستان میں کھیلوں کی جانب خواتین کے مثبت رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، نوجوان لڑکیاںاسکول، کالج اور یونیورسٹیز سے لے کر بین الاقوامی سطح تک کھیلوں میں بھر پور شرکت کا مظاہرہ کر رہی ہیں اس سلسلے میں خواتین کھلاڑیوں کی جانب سے بہترین کارکردگی دیکھنے میں آ رہی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کیلئے کہیں نہ کہیں مشکلات ابھی بھی موجود ہیں؟ خواتین کرکٹ ٹیم کی منیجر عائشہ اشعرکا اس بارے میں کہنا ہے :
عائشہ اشعر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں صورتحال میں کافی بہتری دیکھنے میںآ ئی ہے۔حکومت کی جانب سے خواتین کھلاڑیوں کیلئے گراﺅنڈز مختص کئے گئے ہیں اسکے علاوہ خواتین کھلاڑیوں کیلئے بہترین جابز اور مراعات کے مواقع بھی موجود ہیں۔
کھیل جیسی مثبت ایکٹویٹی کو ملکی سطح پر زیادہ سے زیادہ فروغ دینے خصوصاً پس ماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ضروری ہے کہ اسکول کالج کی سطح پر نوجوان لڑکیوں کوکھیلوں کی جانب راغب کیا جائے جو لڑکیوں کی فٹنس کیلئے بہت ضروری ہے اسکے ساتھ ساتھ یہیں سے خواتین کھلاڑی اُبھر کر سامنے آتی ہیںجو آگے چل کر بین الاقوامی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ملک و قوم کیلئے فخر کا باعث ثابت ہوتی ہیں
